وٹامن ڈی کے فوائد... سر سے لے کر پاؤں تک

رانا نسیم  اتوار 26 نومبر 2023
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

انسانی جسم کو اپنی مضبوط اندرونی ساخت اور توانائی کو برقرار رکھنے کے لئے عمومی طور پر6 طرح کی غذا درکار ہوتی ہے، جن میں کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates)، پروٹینز (Proteins)، چربی (Lipids)، وٹامنز (Vitamins)، نمکیات اور پانی شامل ہے۔

اگرچہ جسم کو ان سبھی چیزوں کی اپنی جگہ پر انتہائی ضرورت ہے لیکن انسانی جسم کی بہترین نشوونما اور مضبوطی کے لئے وٹامنز کو ایک خاص مقام حاصل ہے کیوں کہ ان کی عدم موجودگی یا کمی کے باعث ایسے طبی مسائل جنم لیتے ہیں، جو موت کے منہ میں بھی دھکیل سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کی موجودگی جسم کی بہترین نشوونما کے ساتھ مختلف بیماریوں کے خلاف مزاحم کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔

تاہم ان وٹامنز میں سے آج ہم جس وٹامن کی بات کرنے جا رہے ہیں، وہ وٹامن ڈی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وٹامن ڈی صرف ایک وٹامن نہیں بلکہ ایک پروہارمونہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ہمارے جسم کی طرف سے ایک ہارمون میں تبدیل کردیا جاتا ہے، یہ صرف ایک مادہ نہیں بلکہ پانچ مختلف مادے ہیں جن میں سے دو کی شناخت انسانوں کے لئے سب سے اہم کے طور پر کی گئی ہے، جنہیں ڈی 2 اور ڈی 3 سے جانا جاتا ہے۔

وٹامن ڈی 2 اور ڈی 3 اس کی دو اہم شکلیں ہیں۔ وٹامن ڈی 2 پودوں سے آتا ہے اور وٹامن ڈی 3 بنیادی طور پر جانوروں کے ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے یا یہ ہمارے جسم کی طرف سے اس وقت بنایا جاتا ہے،جب ہماری جلد سورج کی روشنی کو جذب کرتی ہے۔

بدقسمتی سے آج دنیا کی کل آبادی 7.8ارب میں سے ایک ارب سے زائد لوگ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے وہ میڈیکل سائنس کی زبان میں وقت سے پہلے بوڑھے ہو کر مر رہے ہیں۔ وٹامن ڈی ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہونے اور ہڈیوں کی صحت کے لیے اہم ہونے کی وجہ سے برسوں سے دلچسپی کا باعث رہی ہے۔

اور اس وٹامن کی بارے میں عمومی طور پر یہی تصور کیا جاتا ہے کہ اس کی موجودگی ہڈیوںکو مضبوط بناتی ہے لیکن یہاں آج ہم آپ کو جدید ترین میڈیکل ریسرچ کی روشنی میں وٹامن ڈی کے کچھ مزید فوائد کے بارے میں آگاہی دینے جا رہے ہیں۔

طبی ماہرین نے تو وٹامن ڈی کو ایک جادوئی وٹامن بھی قرار دینا شروع کر دیا ہے کیوں کہ حالیہ برسوں میں ہونے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن ڈی آپ کے جسم کی مجموعی صحت مندی، قوت اور لمبی عمر کو فروغ دینے کے لیے سب سے طاقتور سپلیمنٹس میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ وٹامن ڈی کے عمومی فوائد سے ہٹ کر اب ہم آپ کو اس کے کچھ ایسے ثمرات کے بارے میں بتاتے ہیں، جن سے شاید آپ پہلے واقف نہ ہوں۔

دماغ :معروف امریکی جریدےFASEB  میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جب مچھلی کے تیل کے ذریعے وٹامن ڈی حاصل کیاجاتا ہے تو یہ آپ کے موڈ کو خوش گوار بناتا ہے، عمومی طور پر سورج کی روشنی سے منسلک اس وٹامن کو موڈ بہتر بنانے کا ایک اہم جزو قرار دیا جاتا ہے۔

یہ وٹامن ایک ضروری امینو ایسڈ کو سیوٹونن میں تبدیل کرنے میں مدد دے کر افسردگی کو کم کرتا ہے اور ایک ایسا دماغی کیمیکل بناتا ہے، جو موڈ کو بہتر اور ڈپریشن کو کم کرتا ہے۔ لیکن دماغ کے حوالے سے وٹامن ڈی کا کردار صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ یہ بڑی عمر کی خواتین میں یاداشت اور جسمانی افعال کو بھی بہتر بناتا ہے۔

آنکھیں:ہنستے ہوئے آنکھوں کے گرد کھینچنے والی لکیروں کو تو ایک طرف رکھیں، آپ کی آنکھوں کے اندر عمر بڑھنے کے آثار ہوتے ہیں، جو بالآخر آپ کی قوت بصارت کو خراب کر سکتے ہیں۔امریکی جریدے نیورو بائیولوجی آف ایجنگ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کے حصول کے لئے لی جانے والی خوراک کے روزانہ استعمال کے باعث آنکھوں میں عمر بڑھنے کے اثرات میں کمی دیکھی گئی ہے اور اس چیز نے بصارت کو بھی بہتر بنایا ہے۔

ایک دوسری تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وٹامن کے حصول سے میکولر انحطاط کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ یہ آنکھوں کی ایک عام بیماری ہے، جس کا اگر بروقت علاج نہ ہو تو انسان اندھے پن کا شکار ہو سکتا ہے۔

کان:چکر آنا اور سر گھومنے کی عمومی وجہ بلڈ پریشر کم یا زیادہ ہونا، کمزوری یا سر پر چوٹ وغیرہ کو قرار دیا جاتا ہے لیکن جدید سائنس بتاتی ہے کہ سر چکرانے کی ایک بہت بڑی وجہ کان کا اندرونی ڈھانچے ہے،جس میں توازن نہایت ضروری ہے لیکن بعض اوقات کان کے اندرونی ڈھانچے میں عدم توازن کی وجہ سے بھی سرچکراتا اور زمین گھومتی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن ہمیں جلد معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کی دراصل وجہ کیا ہے۔

تاہم امریکی جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، دن میں دو بار وٹامن ڈی اور کیلشیم لینے سے نہ صرف چکر کم ہو سکتے ہیں بلکہ چکر آنے کے امکانات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

دانت:کیا آپ مضبوط اور سفید دانت چاہتے ہیں؟ عالمی طبی جریدے نیوٹرنٹس میں شائع تحقیق کے مطابق روزانہ وٹامن ڈی سپلیمنٹ لینے سے یہ انسانی خواہش پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

محققین نے کئی ممالک میں ہزاروں شرکاء کے ساتھ درجنوں مطالعات کا تجزیہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وٹامن ڈی دانتوں کی خرابی کے واقعات میں 50 فیصد کمی سے منسلک ہے اور اس کے بعد ہی طبی محققین یہ کہنے کے قابل ہوئے ہیں کہ وٹامن ڈی دانتوں کی صحت کے لئے ایک انمول تحفہ ہے۔

مسوڑھے:عالمی طبی جریدے نیوٹرنٹس کی ہی ایک دوسری تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ  وہی وٹامن ڈی سپلیمنٹ جو آپ کے دانتوں کو مضبوط بناتا ہے آپ کے مسوڑھوں کو بیکٹیریل انفیکشن سے بچانے میں بھی مدد کر سکتا ہے جو کہ مسوڑھوں کی سوزش اور پیریڈونٹائٹس جیسے مسائل کا باعث بنتے ہیں۔

پیریڈونٹائٹس، مسوڑھوں کے ٹشو کو ممکنہ طور پر سنگین انفیکشن میں مبتلا کرنے کا نام ہے۔ یہ دانتوں کے گرنے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے اور یہ دل کی بیماری میں بھی حصہ ڈال سکتا ہے۔ لہٰذا مسوڑھوں کی بیماری کی ابتدائی علامات کو جان کر پیشگی اقدامات کرنے نہایت ضروری ہیں۔

دل:وٹامن ڈی کے سب سے طاقت ور کرداروں میں سے ایک قلبی نظام کا ہے، جہاں وٹامن ڈی کے ذریعے 200 جینز ریگولیٹ ہوتے ہیں۔

وٹامن ڈی کولیسٹرول کو شریانوں کو بند ہونے سے روکنے، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور دل کے خلیوں کے کام کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔ انٹرنیشنل جرنل آف نینو میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، مذکورہ فوائد سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ وٹامن ڈی دل کو بہت سارے نقصانات سے بچاتا ہی نہیں بلکہ مختلف امراض قلب میں مبتلا مریضوں کو صحت یابی میں بھی مدد کرتا ہے۔

پھیپھڑے:امریکی ادارے سنٹر برائے ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دمہ سمیت پھیپھڑوں کے جملہ امراض تقریباً 15 فیصد امریکیوں کو متاثر کرتے ہیں اور اس کی شرح بلاشبہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں کہیں زیادہ ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بیماریوں کے علاج کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ان سے حفاظت پر زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے۔

اور وٹامن ڈی پھیپھڑوں کی بیماری کے پھیلنے کی شرح  کو 40 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔ امریکی طبی جریدے  Cochrane Review میں شائع ہونے والی ایک علیحدہ تحقیق کے مطابق، دمہ کے لیے بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ محققین نے پایا کہ جن لوگوں نے دمہ کی دوائیوں کے علاوہ وٹامن ڈی کی روزانہ خوراک لی ان میں دمہ کے شدید حملوں کی تعداد کم ہوگئی۔

آنتوں کا سنڈروم:میٹابولک سنڈروم کے شکار افراد میں ہائی بلڈ شوگر، کمر کے گرد جسم کی اضافی چربی اور غیر معمولی کولیسٹرول، دل کی بیماری، فالج اور ٹائپ 2 ذیابیطس جیسی بیماریوں کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

اس سنڈروم سے بچنے یا ٹھیک ہونے کے لیے ورزش اور صحت مند غذا نہایت اہم ہے، لیکن مختلف طبی  تحقیقات ہمیں بتاتی ہیں کہ وٹامن ڈی بھی اس مشکل کو حل کرنے میں نہایت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ فرنٹیئرز ان فزیالوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وٹامن ڈی کے چوہوں پر استعمال کے بعد ملنے والے نتائج بتاتے ہیںکہ وٹامن ڈی نے چوہوں میں صحت مند آنتوں کے بیکٹیریا کو بڑھا کر میٹابولک سنڈروم کی علامات کو بہتر کیا۔

جگر:معروف و مستند امریکی طبی جریدے بی ایم جے کی ایک تحقیق کے مطابق، وٹامن ڈی کا استعمال عمومی طور پر عام کینسر جبکہ خاص طور پر جگر کے کینسر سے بچاؤ میں نہایت معاون ہے۔ محققین نے 33ہزار بالغ افراد سے نمونے لیے اور پتہ چلا کہ غذائی اجزاء  جیسے وٹامن ڈی کے استعمال سے عمومی کینسر میں 20 فیصد کمی اور جگر کے کینسر میں 30 سے 50 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔

تولیدی نظام:طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی نے مرد اور خواتین دونوں میں تولیدی نظام کی تقویت کے ثبوت فراہم کئے ہیں، جن خواتین شرکاء نے حمل کے شروع میں وٹامن ڈی کی مطلوبہ مقدار حاصل کی تھی، ان کے ہاں صحت مند بچے کی پیدائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

گھٹنا:گھٹنا انسانی جسم میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے جوڑوں میں سے ایک ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ جوڑوں کے درد کا اولین تجربہ گھٹنوں سے ہی ہوتا ہے۔ میڈیکل ریسرچ کے مطابق جوڑوں کے درد کی سب سے عام وجوہات جوڑوں کے زیادہ استعمال یا چوٹ کو قرار دیا جاتا ہے اور اس بیماری کو گنٹھیاکا نام دیا گیا ہے۔

جرنل آف آٹو امیونٹی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، وٹامن ڈی گنٹھیا جیسی بیماریوں کے خلاف بہترین مزاحم کا کردار ادا کرتا ہے۔ دوسری طرف امریکی کالج آف ریمیٹولوجی کی تحقیق کے مطابق کم وٹامن ڈی کی سطح والے لوگوں نے اوسٹیو ارتھرائٹس کی زیادہ علامات کی اطلاع دی، جیسے گھٹنوں میں درد اور چلنے میں دشواری۔

پاؤں:ہڈیوں کا فریکچر عمومی طور پر تناؤ یا کھچاؤ اور چوٹ کی وجہ سے ہوتا ہے اور ہڈیوں کا تناؤ عمومی طور پر گھٹنوں کے بعد پیروں میں تکلیف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن The Journal of Foot and Ankle Surgery میں شائع ایک نئی تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی ہڈیوں کی کثافت کو بہتر بنا کر تناؤ کے فریکچر کو کم کر سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔