پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی

سلمان عابد  منگل 28 نومبر 2023
salmanabidpk@gmail.com

[email protected]

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی سیاسی سوچ میں فرق کو مصنوعی سمجھنا درست نہیں بلکہ اسے سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

آج کی طاقت یا اقتدار یا جوڑ توڑ کی سیاست میں اصولی , نظریاتی , فکری اور دیانت کی سیاست کا غلبہ نہیں ہے ۔ جو غلبہ ہے وہ محض اقتدار کی سیاست کا ہے اور اقتدار کی سیاست کے اپنے ہی رنگ ہوتے ہیں او رجب بھی ہم اس کو ایک بڑے سیاسی اور جمہوری فریم ورک میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

عمومی طور پر سیاسی جوڑ توڑ یا اقتدار یا اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ معاملات کو طے کرنے یا ان کے قریب رہنے کی سیاست کو غلبہ حاصل ہے۔ آصف زرداری یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار اورطاقت کی سیاست کا راستہ اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت سے جڑا ہوا ہے اور ان کے ساتھ بگاڑ پیدا کر کے اقتدار کے کھیل میں شمولیت ممکن نہیں ۔

اس لیے اگر آصف علی زرداری نے اپنے  صاحبزادے کو واضح انداز میں ریڈ لائن کی نشاندہی کی ہے یا ان کو بتایا ہے کہ وہ محتاط انداز میں رہ کر کس طرح آگے بڑھنے کی سیاست کر سکتے ہیں۔ جن کے پاس فیصلے کرنے کی طاقت ہے،ان کے ساتھ لڑنا عقل مندی نہیں ہے۔

آصف زرداری انتہائی تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کو ہینڈل کرنے کاجو تجربہ ان کے پاس ہے ۔ وہ بلاول بھٹوکے پاس نہیں ہے۔ ان کا وزیر خارجہ بننا یا اسے اس عہدہ تک لانے میں بھی آصف زرداری کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔

بلاول بھٹو تسلسل سے ایک ہی نقطہ پر زور دے رہے تھے کہ سیاسی بزرگ نئی قیادت کے لیے راستہ چھوڑیں او ران کو سیاسی فیصلوں میں آزادی دی جائے ۔ غور سے دیکھا جائے توجو کچھ آصف زرداری نے کہا ہے‘ وہ ملک کی تجربہ کار سیاسی قیادتوں کی ترجمانی ہے جس میں واضح پیغام دیا گیا کہ سیاسی جماعتوں میں قیادت اور فیصلوں کا ریموٹ کنٹرولتجربہ کار اور بزرگ لیڈر شپ ہی کے ہاتھ میں رہے گا ۔

پیپلز پارٹی کے کچھ لوگ کافی عرصہ سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ بلاول بھٹو کھل کر سیاست نہیں کر رہے کیونکہ اختیارات محدود ہیں۔ان کے بقول پارٹی کو محض اندرون سندھ تک محدود کرنے کی پالیسی بھی پارٹی مفاد میں نہیں اور پارٹی کا اسٹیبلیشمنٹ کی طرف جھکاؤ بھی ان کی جماعت کو بڑی عوامی قوت بننے سے روک رہا ہے۔

بلاول بھٹو کو اندازہ ہے کہ ا ن کی جماعت سکڑ رہی ہے او راسے اگر دوبار ہ فعال اور عوامی جماعت بنانا ہے توپارٹی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی کارگر نہیں ہے یا ہمیں متبادل پالیسی درکار ہے۔ادھر جب بھی بلاول بھٹو نے پارٹی پالیسی میں کوشش کی اور جارحانہ حکمت عملی اختیار کی تو آصف زرداری کسی نہ کسی شکل میںسامنے آ کرمعاملات کو ٹھنڈا کر دیتے ہیں۔

ایک طرف بلاول بھٹو کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طو رپر پیش کیا جارہا ہے او رکہا جارہا ہے کہ وہی اگلے وزیر اعظم ہونگے ۔لیکن دوسری طرف آصف زرداری کا یہ کہنا کہ ابھی اس کا تجربہ زیادہ نہیں یا وہ سیکھ رہا ہے او رمیں ہی تین پی پی کے مقابلے میں چار پی پی کا سربراہ ہوں او رمیں نے ہی پارٹی کا ٹکٹ بلاول بھٹو کو بھی دینا ہے ‘کچھ زیادہ ہی ہوگیا او راگر اب اس پر بلاول بھٹو کا ردعمل کسی نہ کسی شکل میں سامنے آیا ہے تو یہ فطری امر تھا ۔

لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ باپ بیٹے میں اختلافاتاختلافات ہیں یا معاملات بغاوت تک پہنچ گئے ہیں درست تجزیہ نہیں۔ کیونکہ آصف زرداری بلاو ل بھٹو کے باپ ہیں اور بلاول بھی سمجھتا ہے کہ اگر انھوں نے کچھ واقعی بڑی سیاسی کامیابی حاصل کرنی ہے تو اس کا راستہ ان کے والد کی سیاسی حکمت عملی سے ہی جڑا ہوا ہے ۔ اس لیے دونوں کا رشتہ اور سیاسی مفاد ایک ہے یا اس سے باہر نکل کر سوچنا دونوں سمیت پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے ۔

آصف زرداری بنیادی طور پر مزاحمت کے نہیں بلکہ مفاہمت کے آدمی ہیں اور انھوں نے یہ طے کرلیا ہے کہ ہمیں سیاسی و غیر سیاسی مفاہمت یا عدم ٹکراو کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آصف زرداری کی مجموعی سیاست اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ہی کھڑی نظر آتی ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ بلاول بھی اسی راستے کو بنیاد بنا کر آگے بڑھے۔

پیپلز پارٹی سندھ کی قیادت آصف زرداری کی اس سیاسی حکمت عملی کی حامی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ طاقت اور اقتدار کی سیاست میں آصف زرداری کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے اور18 ویں ترمیم کو بنیاد بنا کر جس انداز میں انھوں نے سندھ کی طاقت ور حکمرانی کو مضبوط بنایا ہے وہ ہمیں اقتدار کی سیاست سے جوڑے رکھے گی۔

البتہ دیگر صوبوں بشمول پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لوگ بلاول بھٹو کو ہی امید سمجھتے ہیں کہ وہ پنجاب میں پارٹی کو فعال بنائے گا ۔کیونکہ آصف زرداری کی حکمت عملی کے تحت پیپلز پارٹی سندھ میں تو اقتدار میں آ جائے گی لیکن پنجاب اور وفاق میں اس حکمت عملی کے تحت اقتدار میں نہیں آیا جا سکتا۔سندھ میں موجود پیپلزپارٹی کے لوگوں کی پنجاب میں پارٹی فعالیت پر کوئی دلچسپی نہیں ۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ پیپلز پارٹی کے لیے آصف زرداری کی حکمت عملی کارگر ہے یا بلاول بھٹو اور ان کے ساتھیوں کی حکمت عملی کامیاب ہے۔

اس بات کا امکان بھی ہے کہ آنے والے دنوں میں آصفہ بھٹو کو بھی سیاسی میدان میں اتارا جاسکتا ہے او ر اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھی پیپلز پارٹی کا نیا سیاسی کارڈ ہوگا۔بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ’’نواز شریف اور آصف زرداری کو ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جس سے میرے او رمریم نواز کے لیے سیاست آسان ہو ،مشکل نہ ہو۔

کیونکہ جس طریقے سے ہم چل رہے ہیں اس کو دیکھ کر تو ایسے لگتا ہے کہ ہمارے بڑوں نے یہ ہی فیصلہ کیا ہے جو تیس برس آپ لوگوں نے سیاست بھگتی ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ اگلے 30 برس ہم وہی سیاست کریں ۔‘‘اس بیان کی گہرائی میں جاکر پیپلز پارٹی کے اندر چلنے والے پالیسی معاملات کو سمجھ سکتے ہیں ۔

جو لوگ بھی بلاول بھٹو کو آصف زرداری کے ساتھ مقابلہ پر لاکر کھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘ وہ پارٹی مفاد کے حق میں نہیں ہیں ۔ کیونکہ اس وقت جو سیاست پاکستان میں ہورہی ہے اس میں بلاول بھٹو ہوں یا آصف زرداری دونوں کو سیاسی حکمت عملیوں پر جو بھی اعتراضات یا تحفظات ہیں ان کو بند کمروں تک محدو دکرکے ہی اس کا علاج کرنا چاہیے۔

کیونکہ جو لوگ یہ مشور ہ دے رہے ہیں کہ بلاول کا اعلان جنگ پیپلز پارٹی کو مقبول بنائے گا وہ ممکن نہیں۔ کیونکہ بلاول بھٹو اور مریم نواز کی قیادت سے ان کی پارٹی کی عوامی مقبولیت میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا،اس کی وجہ اقتدار کی اس جنگ میں تنہا سیاسی قیادتیں اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ سسٹم ایسا ہو چکا ہے کہ جس میں اقتدار کے دیگر اسٹیک ہولڈر بھی طاقتور ہیں۔ اس لیے سیاسی قیادتیں جوڑ توڑ کی بنیاد پر یا ریاستی اداروںکے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرکے عملی طور پر اقتدار کا راستہ تلاش کررہی ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔