تھانے کے خادم اور پی آر او

سعد اللہ جان برق  جمعـء 1 دسمبر 2023
barq@email.com

[email protected]

ایک بہت پرانا حقیقہ یادآرہا ہے، یہ ایک پرانے تھانے کا قصہ ہے جو انگریز دور میں ایک ہی نقشے اورایک ہی شکل وصورت بلکہ رنگ تک میں ایک جیسے ہوتے تھے بلکہ اس کے اندر جو ’’لوگ‘‘ بھی ایک جیسے ہواکرتے تھے۔ ان کی زبان اورگالیاں بھی ایک جیسی ہوتی تھیں۔

تھانے کے گیٹ کے سامنے ایک خالی جگہ تھی جہاں کچھ درخت بھی تھے اورپکڑی ہوئی گاڑیاں بھی ، اکثرسائلین بھی یہاں بیٹھ کر یاکھڑے ہوکر انتظار کھینچتے تھے اوراسی احاطے میں وہ درخت تھا جسے شیور لیٹ کہتے تھے۔

سنتری اکثر فالتو لوگوں کو شیورلیٹ کے سائے میں انتظار کرنے کو کہتے تھے ۔ادھر بیٹھ جاؤ شیور لیٹ کے سائے میں۔ فلاں صاحب ابھی نہیں آئے ہیں ۔ چالان ابھی تیار نہیں ہوا ، ادھر بیٹھ جاؤ شیورلیٹ کے نیچے ۔ وہ دیکھو شیورلیٹ کے پاس کھڑا ہے ۔

حالاںکہ وہ درخت ’’توت‘‘ کا تھا جو یہاں خالی جگہوں پرعام اورخودرو اگتے تھے ۔ شیورلیٹ کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ کسی زمانے میں یہاں ایک ’’شیورلیٹ امپالا‘‘ کھڑی کی گئی جو کسی کیس میں پکڑی گئی اورپکڑی گئی گاڑیوں کے بارے میں تھانوں کااصول ہے کہ ایسی گاڑیاں بھی مقدمہ چلنے تک ’’ملزم‘‘ کادرجہ رکھتی ہیں اس لیے ایسی گاڑیوں کو آرام ہرگزنہ کرنے دیا جائے چنانچہ پہلے تو ایسی گاڑیوں کاانجر پنجر ڈھیلا ہوجاتا ہے ، ہرہر پرزہ فریاد کرنے لگ جاتاہے اورآخر کار وہ صاحب فراش ہوجاتی ہیں۔

ویسے تھانے والوں کو پتہ ہوتاہے کہ اس گاڑی کامقدمہ کتنے عرصے تک چلے گا چنانچہ اس عرصے کے اندر ہی اندر اس گاڑی کو بھی ’’کیفرکردار‘‘ تک پہنچایا جاتاہے لیکن وہ شیورلیٹ امپالا بہت ہی خوبصورت اورلگژری گاڑی تھی اس لیے بہت شیورلیٹ ہوگئی اب اس کادوسرا مرحلہ شروع ہوگیا۔

ٹائراوراچھے اچھے پرزے نکال کرٹھیک ٹھیک مقامات تک پہنچانا ، جب مقدمہ ختم ہوگیا اورمالک عدالت سے گاڑی کی رہائی کاپروانہ لے کر آیاتو کچھ دیر گاڑی کے ارد گرد گھومتا رہا ، آخر اس نے گاڑی کو پہچان لیا۔

کچھ دیر گم صم کھڑا گاڑی کو دیکھتا رہاپھر اس نے سٹیئرنگ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی پھر بونٹ اٹھا کر دیکھا اورپھر ایک مرتبہ پھر بت بن کر گاڑی کو دیکھتا رہا پھر اچانک چابیاں نکال کرگاڑی کے اندرپھینک دیں اورمردہ قدموں سے باہرنکلا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ، اپنے مردہ گاڑی کے انتقال پرملال اوروفات حسرت آیات پر ۔

عرصہ گزرتا رہاگاڑی کے حصے بخرے غائب ہوتے رہے پھر اچانک لوگوں نے دیکھا کہ گاڑی میں نیچے زمین سے ایک توت کا پیڑ اگ آیا ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے اس پیڑ نے چھت کو بھی پار کرلیااور بڑا ہونے لگا ، گاڑی کے پرزے کچھ تو غائب ہوگئے اورکچھ زنگ کھا کر زمین کا رزق ہوگئے لیکن گاڑی اس لحاظ سے خوش قسمت تھی کہ اس کانام زندہ رہ گیا اس درخت کی شکل میں اس کانام شیورلیٹ پڑگیا۔

ہندوستان کاآخری تاجدار بہادر شاہ ظفر۔

نہ تو میں کسی کاحبیب ہوں نہ تو کسی کارقیب ہوں

جو بگڑگیا وہ نصیب ہوں، جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں

اب یہاں قصے میں ایک نیا ٹوسٹ آتاہے ، ہرتھانیدار جب نئے تھانیدار کو چارج دیتاہے تو وہ اسے کچھ نام بھی بتاتاہے کہ یہ لوگ’’گندہ گیر‘‘(یہ پولیس کی اپنی اصطلاح ہے) ہیں اوریہ یہ لوگ بہت وسیع ہیں لیکن ان میں ایک نام سب سے الگ اور سرفہرست ہوتاہے۔

اسے آپ تھانے کاپی آر او بھی کہہ سکتے ہیں ، عام لوگوں سے معاملات ’’طے ‘‘ کرنے والے اوربھی ہوتے ہی جو ہرگاؤں میں ہوتے ہیں ، انھیں اہل انصاف بھی کہہ سکتے ہیں لیکن ’’ پی آراو‘‘ اکثر ایک ہوتا ہے اوراس کاکام بھی بڑا سخت اورپیچیدہ ہوتاہے۔

اصلی اسلحہ جات کی جگہ راتوں رات نقلی اسلحہ جات مہیا کرنا اور پھر اصلی کو صحیح مقام تک پہنچانا ، نقلی منشیات فراہم کرکے اصلی سے بدلنا، گاڑیوں کے ٹائر انجن اورپرزہ جات کی جگہ کباڑی مال مہیا کرنا۔ اوراس قسم کاسامان تبادلہ کا اسٹاک رکھنا کوئی آسان کام نہیں، کافی کچھ انوسٹ بھی کرنا ہوتاہے اورمال کے بروقت خریدار ڈھونڈنا، بلکہ اکثرتو اس کے پاس آرڈرموجود ہوتے ہیں کہ فلاں چیز  درکارہے ۔کیسزمیں مک مکا کرنا اس کا کام نہیں اس کے لیے تھانے کے دوسرے خدمت گار ہوتے ہیں ۔

ہمارے ایک رشتہ دار پولیس والے کے بیٹے کو ایک شخص نے قتل کردیا اوراس نے پولیس کے سامنے اقبال جرم بھی کرلیا اس دن پولیس والے اتنے پرجوش نظر آتے تھے کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ یہ لوگ ابھی جاکر حوالات میں ملزم کوقتل نہ کرڈالیں۔

کئی انسپکٹروں نے صلاح مشورہ کر کے اس کے خلاف ایسا کیس بنانے کا منصوبہ بنایا کہ ملزم سیدھا پھانسی کے تختے پر پہنچا دیا جائے گا لیکن رات کے سناٹے میں تھانے کے کسی خدمت گارنے کیس کی دھجیاں اڑادیں، صبح کو جب ملزم مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا تو نہ صرف اقبال جرم سے پھر گیا بلکہ ایسا نپا تلا بیان دیا کہ آگے جاکر بری ہوگیا۔

لیکن یہ سارے قصے پرانے ہیں ہمیں یقین ہے کہ جدید دورکے پولیس والے ایسے نہیں ہوں گے اکثرپڑھے لکھے اورتعلیم یافتہ لوگ اب آگئے ہیں ۔اس لیے ’’تبدیلی‘‘ آگئی ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔