آٹھ فروری کے بعد…

جاوید قاضی  پير 12 فروری 2024
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

ان انتخابات کے نتائج میں پی ٹی آئی ایک بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔پاکستان کو سب سے پہلے ان کو حکومت بنانے کا موقع دینا چاہیے، وہ یقیناً حکومت بنا نہیں پائیں گے کیونکہ کوئی بھی ان کے ساتھ اتحاد بنانے کے لیے راضی نہیں۔خورشید شاہ نے پیپلز پارٹی کا موقف دہرادیا ہے کہ جنھوں نے ریاست کے ساتھ بغاوت کی ان کے ساتھ الحاق نہیں کیا جاسکتا۔

میں نے اپنے پچھلے مضامین میں لکھا تھا کہ ان انتخابات میں آزاد امیدوار اکثریت سے جیتیں گے مگر ان آزاد امیدواروں میں بھی دو قسم کے ممبران ہیں ایک تو پی ٹی آئی کے ممبران اور دوسرے ٹھوس اصلاح کے زمرے میں آتے ہوئے ممبران۔اگر اس طرح دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے ممبران کی جیتی ہوئی نشستیں  80سے زیادہ نہیں ہیں لیکن پھر بھی مسلم لیگ (ن) دوسری پوزیشن پر کھڑی ہے۔

پیپلز پارٹی نے اس دفعہ قومی اسمبلی میں پچھلے دو انتخابات سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ اور دوسری جماعتوں کو ملا کر بیس سے پچیس ممبر بنتے ہیںجو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان اتحادیوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے بغیر وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتی۔ یہ اچھا موقعہ ہے بلاول بھٹو کے لیے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے اتحادیوں سے مصالحت کریں لیکن اخلاقی طور پر وہ ایسا کر نہیں سکتے کیونکہ ان الیکشن میں پیپلز پارٹی ایک بڑی جماعت کے طور پر نہیں ابھری۔وزیر اعظم کا عہدہ نواز شریف کے حصے میں آتا نظر آ رہا ہے، وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور شاید صدر پاکستان آصف علی زرداری !

پی ٹی آئی کو اس وقت جلد از جلد انٹرا پارٹی انتخابات کروا کر اپنے آزاد امیدواروں کو پابند کرنا چاہیے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو سکا تو عین ممکن ہے کہ ان کے کچھ آزاد امیدوار کسی اور راہ پر چل پڑیں یا پھر استحکام پارٹی کا رخ اختیار کرلیں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ مسلم لیگ (ن) چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد بنا کر ، اتحادیوں سے مل کر پیپلز پارٹی کے بغیر ہی حکومت بنا لے۔

ان انتخابات کے بعد پاکستان بہت حد تک بحرانوں سے نکل آیا ہے،جو لوگ اس بیانیہ کو ہوا دے رہے تھے کہ یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے وہ اپنے بیانیہ کو مضبوط کرنے میں ناکام ہو گئے۔ان انتخابات پر تنقید، اعتراضات یا خدشات تو ظاہر کیے جا سکتے ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ انتخابات 2013 اور   2018 کے انتخابات سے بہتر ہوئے ہیں۔

ان انتخابات کو چیلنج کرکے کوئی تحریک نہیں چلا سکتا۔پاکستان تحریک انصاف اب اپوزیشن میں بیٹھے گی اور وہ یہ باور کروائے گی کہ وہ سسٹم میں رہ کر پاکستان میں تبدیلی لا نا چاہتے ہیں۔پی ٹی آئی کے پاس اب اتنی طاقت ہے کہ وہ عمران خان کے لیے NRO مانگ سکتے ہیں کیونکہ تما م جماعتیں اور خاص کر میاں صاحب یہ کہہ چکے ہیں کہ انکو واپس مفاہمت اور مذاکرات کی طرف آنا ہوگا۔پاکستان میں اسوقت سیاسی مستقل مزاجی اور سنجیدگی کا عمل شروع ہوتا نظر آ رہا ہے۔ان میں بڑی شخصیات کا عمل دخل ضرور ہے ۔

پا کستان اب بھی بڑے بحرانوں کے گھیرے میں ہے۔ہمارے ملک کے لیے سب سے بڑا بحران اور چیلنج ہے معاشی بحالی کا۔اس الیکشن کے حوالے سے کچھ بین الاقوامی خدشات پیش کیے گئے ہیں مجھے ان خدشات کے پیچھے مبالغہ آرائی نظر آ رہی ہے۔جیسا کہ ’’دی اکانومسٹ‘‘ جریدے نے عمران خان کا انٹرویو شایع کیا اور خان صاحب نے اس انٹرویو کی تردید کی اور اس انٹرویو پرجریدے کو وضاحتیں دینا پڑیں۔خان صاحب کے بین الاقوامی تعلقات بہت بہتر ہیں جس میں ان کی سابقہ اہلیا جمائمہ کا بھی کردار ہے۔

خان صاحب کی جماعت شور مچانے میں ،سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے میں اپنے حواریوں سے بھی آگے ہے۔اسی پروپیگنڈہ حکمت عملی نے ووٹرز کو متاثر کیا۔عمران خان کی کوئی کارکردگی نہیں سوائے اس کے کہ انھوں نے اس ملک کو معاشی بدحالی کی طرف دھکیلا۔انھوں نے جس طرح سے اسٹبلشمنٹ سے ٹکر لی انقلاب کے نام پر جلاؤ ، گھیراؤ کی سیاست کی اس سے پہلے اسٹبلشمنٹ سے اتحاد کیا اور آج یہی کام میاں صاحب کرنے جا رہے ہیں جو لوگوں کو اچھا نہیں لگ رہا ہے۔

اب اس بات میں قدرے سنجیدگی پائی جاتی ہے کہ اب تمام لوگوں کا یہی موقف ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔یہ کام سیاستدان، پارلیمنٹ اور آئین پر چھوڑ دینا چاہیے، کیونکہ یہ ملک بحرانوں کے بھنور میں اسی لیے دھنسا کیونکہ اس ملک کی سیاست میں مداخلت تھی۔

بہرحال خان صاحب قومی اسمبلی کی نشستوں ، خواتین اوراقلیتی بیس سیٹوں کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ اگلے انتخابات کے لیے بہت ضروری اور اہم ہے کہ پارلیمان میں بھرپور شرکت کر کے عام لوگوں کے موقف کو ایوانوں میں اجاگر کیا جائے، یقیناً ملک ایک بہت بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے اور اگلے انتخابات تک روایتی سیاست بھی ٹوٹتی نظر آ رہی ہے۔

یہ ملک اس نہج تک پہنچ چکا تھا کہ انتخابات ہونا ہی مشکل تھے پھر شفاف انتخابات ہونا تو بہت دور کی بات تھی۔آخری وقت تک بھی بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کی یہی پیش گوئی تھی کہ اس ملک میں انتخابات ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں۔ یہاں تک کہ سیاست دان بھی یہی رائے دے رہے تھے، اور یہی چاہ رہے تھے کہ الیکشن کو کچھ مہینوں تک ملتوی کیا جائے۔

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان آیا، سونے کی قیمتیں کچھ گریں گی۔پاکستان اسوقت تعمیر نو کے مرحلے میں داخل ہوا چاہتا ہے،لہٰذا سیاسی بحران کا خاتمہ ہو اور یہیں سے معاشی بحران کے خاتمے کو ایک ٹھوس بنیاد ملے گی۔ہمیں اپنے پڑوسیوں سے بھی اچھے تعلقات استوار کرنے ہو نگے۔دہشت گردی اور اس دہشت گردی کے پیچھے سیاسی وجوہات کو بھی سنجیدگی سے ختم کرنا ہوگا۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ اسمبلی تین سال سے زیادہ نہیں چل سکے گی، اور شاید میاں صاحب بھی یہی چاہیں کہ وہ اپنے مینڈیٹ کی طرف واپس جائیں، سادہ اکثریت لے کر واپس ایوان میں آئیں۔

کل کا سویا ہوا پنجاب آج جاگ چکا ہے۔خیبر پختونخوا میں شورش ہے۔سندھ اور بلو چستان میں ابھی صحیح بیداری نہیں آئی جس کی بڑی وجہ دیہی سندھ میں وہ ہی پرانے معاشی اسٹرکچر کا ہونا ہے،وہ ہی وڈیرہ شاہی، وہ ہی غلامی اور وہ ہی سوچ ۔ بلوچستان میں وہ ہی سردار ، اسی لیے بلوچستان کی مڈل کلاس انتخابی سیاست سے الگ ہے اور سندھ کی شہری مڈل کلاس بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔سندھ کی قوم پرست سوچ اس سے الگ ہے، بلوچ اور سندھی قوم پرستوں کو واپس قومی دھارے میں لانا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔