ہنڈیا، آدھی خالی

ڈاکٹر توصیف احمد خان  جمعرات 29 فروری 2024
tauceeph@gmail.com

[email protected]

پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو تین وقت کا معیاری کھانا میسر نہیں آتا۔ اقوام متحدہ کے بچوں کی بہبود کے ادارہ یونیسیف Unicef National Nutrition Survey  نے 2018ء میں سروے کیا تھا۔ اس سروے میں کہا گیا تھا کہ 36.9 فیصد افراد خوراک کی کمی کا شکار ہیں مگر یہ تعداد 50 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔

ماہرِ معاشیات ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے ایک آرٹیکل میں انکشاف کیا ہے کہ 50.48 فیصد پاکستانی اپنی آدھی آمدنی غذائی اشیائی کی خریداری میں خرچ کردیتے ہیں اور باقی رقم یوٹیلٹی بلزکی ادائیگی، مکان کے کرائے، بچوں کی اسکول فیس اور علاج معالجے پر خرچ ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر سلہری 2021کے ایک سروے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ایک پاکستانی اس وقت روزانہ معیاری خوراک پر 3.89 ڈالر روز خرچ کرنے پر مجبور تھا۔

اس سال 82.8 فیصد آبادی روزانہ اتنی رقم اپنی خوراک پر خرچ نہیں کرسکتی تھی مگر گزشتہ تین برسوں میں ڈالرکی قیمت بڑھنے اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمت دگنے سے زیادہ اضافہ ہونے سے آبادی کا کتنا حصہ معیاری خوراک پر خرچ کرسکتا ہے، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا اور دو سال قبل آنے والے سیلاب اور روپے کی قیمت میں مسلسل کمی سے مہنگائی کا طوفان آیا۔ اس سے عام شہری کا بجٹ تہس نہس ہوگیا۔

حکومت پاکستان نے 2016 کے ایک سروے میں یہ اعدادوشمار دیے ہیں کہ شہریوں کو مناسب خوراک کی فراہمی کے لیے سالانہ 7.6 بلین ڈالرکی ضرورت ہے۔ اب 7 سال بعد اس رقم میں خاصا اضافہ ہوا مگر حکومت کا خزانہ خالی ہوگیا۔ آئین کے آرٹیکل 38 کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی یہ ذمے داری ہے کہ شہریوں کو مناسب خوراک کی فراہمی کا انتظام کرے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک وڈیو سے پتا چلتا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں آٹا 25 روپے فی کلو میں دستیاب ہے جب کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آٹا 250 روپے کلو میں مشکل سے ملتا ہے۔ بھارت کے میڈیا میں پاکستان کے سیاسی اور معاشی بحران کے بارے میں خاصے معلوماتی سروے ہوئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ بات چھپی ہوئی نہیں ہے کہ پاکستان پر 346 کھرب روپے ( 125 ارب ڈالر) قرضے اور واجبات ہیں۔

بھارت کے معروف اخبار ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ بھارت کے قدیم تجارتی و صنعتی ادارے، ٹاٹا گروپ کا کاروباری تخمینہ کیپٹلائزیشن 1010 کھرب 33 ارب روپے (365 ارب ڈالر) کے قریب ہے جب کہ آئی ایم ایف نے پاکستانی جی ڈی پی کا تخمینہ 943 کھرب 90 ارب روپے 9کروڑ (341 ارب ڈالر) روپے لگایا ہے جب کہ بھارت کی جی ڈی پی جس کی مالیت 10241کھرب 74 ارب (37کھرب ڈالر)یا 3.7 ٹریلین ڈالر ہے یوں بھارت نمک سے سوفٹ ویئر تک لمیٹڈ کمپنیوں کا سال میں اسٹاک ایکسچینج میں جو منافع ہے ان کی مجموعی مالیت اب پاکستان کی پوری معیشت سے زیادہ ہے۔

آئی ایم ایف کے ماہرین کے اندازوں کے مطابق صرف ایک کمپنی ٹی سی ایس پاکستانی معیشت کا نصف ہے جب کہ ٹاٹا گروپ کے حصص میں ایک سال میں 110 فیصد اضافہ ہوا ہے، یوں ٹاٹا گروپ کی مشترکہ مارکیٹ ویلیو پاکستان کی معیشت سے زیادہ ہے۔

بھارت کے جی ڈی پی کی مالیت 10241 کھرب 1174ارب روپے ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی فیچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی غیر یقینی سیاسی صورتحال کا آئی ایم ایف سے نئے معاہدے پر اثر پڑسکتا ہے۔

فیچ کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ برسر اقتدار آنے والی حکومت کو اپنا مالیاتی نظام متحرک کرنے کے لیے فوری فنڈنگ کی ضرورت ہوگی۔ اس ایجنسی کے ماہرین نے مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ انتخابی کارکردگی میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی پوزیشن مضبوط ہے اور تحریک انصاف کو اقتدار سے دورکیا تو عوام میں اس کی پوزیشن بہتر ہوجائے گی۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غیر یقینی سیاسی صورتحال سے آئی ایم ایف کے پروگرام میں بھی پیچیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ نئی حکومت کے لیے آئی ایم ایف کے قرضے کی ادائیگی کے لیے خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔ ایک طرف تو ملکی آبادی کو دو وقت کی روٹی مل جائے تو خدا تعالیٰ کا کئی دنوں تک شکر ادا کیا جاتا تھا مگر ایک طرف بڑھتی ہوئی آبادی اور دوسری طرف کم غذائیت کا شکار بچوں اور عورتوں کی ہلاکت اور بڑی عمر کے مردوں اور عورتوں میں مہلک بیماریاں اور ان بیماریوں کا مہنگا علاج صورتحال کو مزید گھمبیر کررہا ہے۔

گزشتہ 5 برسوں کے دوران پہلے ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں پر کورونا کی روک تھام کے لیے زندگی معطل ہونے سے ملک کی غذائی معیشت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ دو سال قبل آنے والے سیلابوں نے ملک کے دوتہائی حصے میں تباہی مچا دی تھی۔ اس وقت کی اتحادی حکومت کی کوششوں کے باوجود توقع سے کم بیرونی امداد ملنے اور پھر اس امداد کی تقسیم میں شفافیت کی کمی سے ملک کے معاشی نظام کو مجموعی طور پر متاثرکیا۔

مخلوط حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں کے حصول کے لیے پٹرول کی مصنوعات، بجلی اورگیس کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے سے صرف گھریلو صارفین کا بجٹ ہی تباہ نہیں ہوا بلکہ ٹیکسٹائل کی صنعت سے لے کر ہیوی مینوفیکچرنگ کی صنعت بھی بند ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

اس بحران کے نتیجے میں صرف برآمدات کم ہوگئیں جس کا لازمی نتیجہ ہزاروں کارخانوں کے بند ہونے اور لاکھوں مزدوروں کی بے روزگاری کی صورت میں برآمد ہوا۔ اتحادی حکومت کی مسلسل کوششوں کے باوجود آئی ایم ایف کے حکام نے  قرضے کی منظوری میں اتنی دیر لگا دی تھی کہ ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا۔ نگراں حکومت کے بعض اقدامات کی بناء پر ڈالرکی قیمت میں کچھ استحکام تو آیا مگر مہنگائی کسی صورت کم نا ہوسکی۔ ماہرین اقتصادیات کی یہ متفقہ رائے ہے کہ معاشی بحران کی بناء پر ایک طرف خودکشی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف امن و امان کی صورتحال بگڑگئی ہے۔

اس صورتحال میں نا تو ملک کی قسمت کے فیصلے کرنے والی مقتدرہ معیشت کی بحالی کے لیے انقلابی اقدامات کرنے کو تیار ہوئی اور نہ ہی انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں نے ریاستی ڈھانچے میں کمی اور غریبوں کے حالات کارکو بہتر بنانے کے لیے جامع منصوبے پیش کیے۔ غذائی بحران محض مخیر تنظیموں کے مفت کھانا کھلانے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ختم نہیں ہوسکتا۔

پاکستان، بھارت ایک ساتھ آزاد ہوئے اورآج بھارت کے ایک تجارتی گروپ کی آمدنی پاکستان کی مجموعی آمدنی سے زیادہ ہونے سے واضح سبق مل رہا ہے کہ 76 سال سے ایک سیکیورٹی اسٹیٹ برقرار رکھنے کی پالیسی غلط تھی۔ اب بھی وقت ہے کہ ملک کا سیاسی بحران ختم کیا جائے۔ ریاستی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل کے لیے غوروفکرکیا جائے۔

آج 80 فیصد خاندانوں کی ہنڈیا آدھی خالی ہے، اگر سوچ کے زاویے تبدیل نا ہوئے تو پھر 100 فیصد خاندانوں کی ہنڈیا مکمل خالی ہوجائے گی۔ برسراقتدار جماعتوں کو ہی نہیں بلکہ تمام جماعتوں اور رائے عامہ بنانے والے ماہرین کو اس حقیقت کو اجاگرکرنا چاہیے کہ گزشتہ 75برسوں میں پاکستان سیکیورٹی اسٹیٹ رہا، اب اگر اسے ویلفیئر اسٹیٹ میں تبدیل نا کیا گیا تو مستقبل مخدوش ہوجائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔