’’ واشنگٹن ارونگ کا حسین ترین خواب‘‘

زاہدہ حنا  اتوار 24 مارچ 2024
zahedahina@gmail.com

[email protected]

میری کم عمری، امی کی سنائی ہوئی الحمرا اور غرناطہ کی طلسمی فضاء کو سنتے ہوئے گزری۔ میں نے اس دیوار کی تصویر کو دیکھا جس کے ساتھ بیٹھے ہوئے علامہ اقبال نماز ادا کر رہے تھے۔ یہ تصویر اب تک نگاہوں میں نقش ہے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے قصص الحمرا کی بوسیدہ داستانیں بھی مل گئیں۔

انھوں نے مجھے ایک طلسمی دنیا میں گرفتار کر دیا اور پھر میں نے جب قرۃ العین حیدر کی ’’ کار جہاں دراز ہے‘‘ کے صفحوں پر ملکہ غرناطہ کی وہ چیخ سنی جو اس نے اپنے بیٹے کو جھڑکتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ جب تُو فرڈیننڈ کی فوجوں سے لڑ نہیں سکا تو اب عورتوں کی طرح یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے آنسو کیوں بہا رہا ہے۔‘‘

اس کے بعد سے آج تک میں سلطنت ہسپانیہ کے سحر میں گرفتار رہی ہوں۔ آپ میری لکھی ہوئی دو قسطیں گزشتہ کالموں میں ’’ الحمرا کی داستانیں‘‘ کے عنوان سے پڑھ چکے ہیں۔

واشنگٹن ارونگ امریکی اور انگریزی ادب کا ایک بڑا نام ہے۔ وہ اپنی کتاب کے آخر میں لکھتا ہے کہ ’’ لوگوں کی دو قسمیں ہیں جن کے لیے زندگی ایک مسلسل تفریح و تماشا ہے۔ جو بہت غریب ہیں اور جو بہت امیر ہیں۔ ایک کے لیے یوں کہ انھیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں اور دوسرے کے لیے یوں کہ ان کے پاس کچھ کرنے کو نہیں۔ لیکن دنیا میں شاید کوئی طبقہ ایسا نہیں جو کچھ نہ کرنے اور کچھ نہ کر کے جینے کا فن اسپین کے غریب طبقے سے بہتر جانتا ہو۔ اس تن آسانی و سہل نگاری میں آدھا کام آب و ہوا کرتی ہے اور آدھا ان کی ازلی فطرت۔

ایک ہسپانوی کو گرمیوں میں سایہ دے دیجیے اور سردیوں میں دھوپ اور اس کے علاوہ تھوڑی سی روٹی، تھوڑی سی شراب، ایک پیاز، ایک پرانا فرغل اور ایک ستار اور اس کے بعد اسے اس سے غرض نہیں کہ دنیا کدھر جا رہی ہے۔ اس سے مفلسی و ناداری کی باتیں کیجیے تو وہ یہ باتیں بڑی بے نیازی سے سنے گا۔ مفلسی و ناداری بھی اسے اتنی ہی عزیز ہے جتنا اپنا پرانا فرغل۔ وہ صحیح معنوں میں حال مست ہے۔‘‘

واشنگٹن ارونگ ہمیں بتاتا ہے کہ ’’ اسپین کی بہت سی پرانی اور محبت آمیز رسموں میں سے ایک رسم یہ ہے کہ کوئی دوست باہر سے آتا ہو تو دو تین میل پہلے اس کے خیر مقدم کے لیے پہنچتے ہیں اور اسی طرح جب کوئی دوست رخصت ہوتا ہو تو اسے دو تین میل تک رخصت کرنے آتے ہیں۔ اس لیے جب ہماری گاڑی شہر سے روانہ ہوئی تو ہمارا طویل القامت رہنما اور محافظ گاڑی کے آگے آگے چل رہا تھا۔ مینول اور ماتیو اس کے دائیں بائیں تھے اور بوڑھے سپاہی پیچھے پیچھے۔ جدائی کا وہ سماں واقعی غم انگیز تھا۔ جب ایک ایک کرکے میں اپنے ان محبت کرنے والے میزبانوں سے رخصت ہوا۔ وہ سب آہستہ آہستہ پہاڑی سڑک کے نیچے اتر رہے تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر میں پیچھے مڑ کر مجھے ہاتھوں کے اشارے سے الوداع کہہ رہے تھے۔ مینول کے سامنے ایک روشن مستقبل تھا اس لیے اس نے جدائی کے اس صدمے پر غلبہ پا لیا لیکن غریب ماتیو کی حالت واقعی غیر تھی۔ وہ غالباً بڑی شدت سے یہ محسوس کر رہا تھا کہ مصاحب اور رہنما کے جو معتبر منصب میں نے اسے عطا کیے تھے وہ اس سے چھین لیے گئے ہیں اور اب اس کے پرانے فرغل اور تنہائی کے لمحوں کے سوا کوئی اس کا شریک غم نہیں۔ غروب ہوتا ہوا سورج حسب معمول الحمرا کے سرخ برجوں پر غم ناک کرنوں کا سایہ ڈالتا ہوا رخصت ہو رہا تھا۔ رخصت ہوتی ہوئی کرنوں کی دھندلی روشنی میں مجھے برج قماش کا وہ دریچہ نظر آ رہا تھا جہاں میں بارہا اپنے آپ کو شیریں خوابوں میں گم کر چکا تھا۔ سورج کی آخری شعاعیں شہرکے کنجوں اور بوستانوں پر فیاضی سے اپنا سونا نچھاور کر رہی تھیں۔ ہر چیز حسن کی رنگینی میں ڈوبی ہوئی تھی لیکن میری وداعی نظر کو اس اس حسن میں سوگ کی ایک جھلک دکھائی دی اور میں نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے اس حسنِ سوگوار کو اپنی آنکھوں میں بسائے یہاں سے فوراً رخصت ہو جانا چاہیے۔ میں اپنے تصورکو سدا اس حسن و رعنائی سے رنگین رکھوں گا۔ یہ سوچا اور تیزی سے نظریں اس حسین منظر کی طرف سے ہٹا لیں۔ گاڑی چند قدم آگے بڑھی اور غرناطہ اور الحمرا کا حسن میری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا اور اس طرح میری زندگی کا سب سے حسین خواب تمام ہوا۔‘‘

ارونگ کے اس خواب کے ساتھ ہی میری زندگی کا بھی حسین ترین خواب مکمل ہوا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔