دیتے ہیں دھوکا؟ (دوسرا اور آخری حصہ)

رئیس فاطمہ  بدھ 27 مارچ 2024
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

گزشتہ کالم میں کچھ احوال شادی دفتروں کا تھا اور ایک ٹیچر کا ذکر کیا تھا جن کے والدین حیات نہیں تھے اور وہ بہن بہنوئی کے ساتھ رہتے تھے۔

شادی دفتر کے توسط سے ایک سوال انجینئر سے رشتہ طے پایا تھا، لیکن شادی کے تین چار دن ہی کے بعد ان صاحب کی حقیقت سامنے آگئی، موصوف پہلے سے شادی شدہ تھے، وہ سول انجینئر بھی نہیں تھے، بلکہ کپڑے کی دکان پر سیلز مین تھے۔

ایک اور واقعہ سنیے، لڑکی والوں کے لالچ نے اپنی ہی بیٹی کو زندہ درگورکر دیا، میرج بیورو کے توسط سے لڑکی والوں کی ڈیمانڈ پر ’’ باہر‘‘ کا رشتہ کروایا، لڑکا امریکا سے صرف شادی کرنے آیا تھا، یہ رشتہ لڑکی والوں کی خواہش کے عین مطابق تھا، پندرہ دن بعد شادی ہوگئی، پھر لڑکا واپس چلا گیا تاکہ بیوی کے کاغذات بنوا سکے، کچھ عرصے بعد وہ لڑکی امریکا چلی گئی۔

وہاں پہنچ کر اسے پتا چلا کہ وہ صاحب تو شادی شدہ تھے، گوری سے شادی کر چکے تھے اور اس لڑکی سے صرف اس لیے شادی کی تھی تاکہ گھر میں ملازمہ کی طرح کام کر سکے۔

موصوف نے لڑکی کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں کر لیا، اس کا موبائل بھی لے لیا کہ کہیں وہ اپنے والدین کو نہ بتا دے، کچھ عرصے بعد اس لڑکی کی بات چیت پڑوس میں رہنے والے ایک ہندو انڈین فیملی سے ہوئی، اس لڑکی نے انھیں سب کچھ بتا دیا، ان لوگوں نے لڑکی کے والدین کو تمام حقیقت بتا دی، اور پھر لڑکی کا پاسپورٹ بنوایا اور ایک دن خاموشی سے اس لڑکی نے اپنا گھر چھوڑ دیا۔

برصغیر کی تقسیم نے جس طرح خاندانوں کو اتھل پتھل کیا ہے، وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ برسوں کا جما جمایا معاشرہ ایک پل میں بدل گیا۔ اب یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کون کیا ہے؟ نئے نئے پروجیکٹ بن رہے ہیں، نئے نئے لوگ آ کر بس رہے ہیں، اب کوئی کسی کا شجرہ نسب نہیں پوچھتا، پہلے لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے، مشاطاؤں کو پتا ہوتا تھا کہ کس کس گھر میں جوان لڑکیاں بیٹھی ہیں اور کن کن گھروں میں لڑکے موجود ہیں۔

خاندانی لوگ ایک دوسرے کا شجرہ نسب مانگتے تھے، پہلے لڑکے والے لڑکی میں سگھڑاپا دیکھتے تھے، خاندان کی چھان بین کرتے تھے اور بھرے پرے گھر کی تعلیم یافتہ لڑکی کو ترجیح دیتے تھے، اس لیے ان لڑکیوں کی بھی شادی ہو جاتی تھی جنھیں عرف عام میں ’’ آدمی کا بچہ‘‘ کہا جاتا ہے۔

مہنگائی کے بعد آج سب سے بڑا مسئلہ لڑکیوں کی شادی کا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ اچھے رشتے ناپید ہوگئے ہیں، مگر ایسا نہیں ہے۔ دراصل ضرورت ہے سوچ بدلنے کی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ٹیچر، صحافی، استاد، ادیب اور شاعر کو رشتہ نہیں ملتا جب کہ ایک انگوٹھا چھاپ اسمگلر، جاگیردار اور وڈیرے کو خوشی خوشی داماد بنا لیا جاتا ہے۔

اسی لیے علم تہذیب اور خاندانی شرافت کی ناقدری عام ہے۔پہلے بیٹی کو رخصت کرتے وقت جب والدین کہتے تھے کہ ’’ سرخ جوڑے میں جا رہی ہو، سفید میں نکلنا‘‘ تو لڑکی یہ احساس لے کر سسرال جاتی تھی کہ اسے ہر صورت میں نباہ کرنا ہے لیکن آج صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب مائیں بیٹیوں کے کان بھرتی ہیں۔

میرے قریبی جاننے والوں کی بہو گزشتہ سال دو چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ سے فوت ہوگئی، بچوں کی عمر تین سال اور پانچ سال ہے ، بہر حال کچھ عرصے بعد دوسری شادی کے لیے والدین نے میرج بیورو سے رابطہ کیا، انھوں نے دو لڑکیاں دکھائیں، دونوں ہی معقول تھیں، لڑکے والوں نے میرج بیورو والوں سے کہا کہ انھیں ایسی لڑکی چاہیے جو ان بچوں کا خیال رکھ سکے۔

جب انھوں نے جس لڑکی کے لیے کہا وہ دیکھنے میں کافی عمر کی لگ رہی تھی، لیکن میرج بیورو والوں نے اس کی بہت تعریف کی کہ لڑکی کا باپ نہیں ہے، غریب ہیں، لہٰذا لڑکے والوں نے یہ کہہ کر ہاں کر دی کہ غریب لڑکی ہے، وہ بچوں کا خیال رکھ سکے گی اور لڑکی کی ماں نے بھی لڑکے والوں کو یقین دلایا کہ ان کی بیٹی اپنے شوہر کے بچوں کا خاص خیال رکھے گی۔

لیجیے جناب شادی ہوگئی، اب محترمہ کمرے ہی سے نہ نکلتی تھیں، بچوں کا خیال کیا رکھنا، وہ بچوں کو اپنے قریب نہ پھٹکنے دیتی تھی، تین چار دن کے بعد روزانہ شوہر سے کہتی کہ انھیں میکے لے جائے، ساس سسر سے اجازت لینی تو در کنار وہ شوہر سے بھی نہیں پوچھتی تھی کہ میکے جاؤں یا نہ جاؤں۔ بس اٹھیں اور چل دیں۔ اسی دوران لڑکے کی والدہ کو لڑکی کے رشتے داروں میں سے کسی نے بتایا کہ یہ اس لڑکی کی دوسری شادی ہے اور اس کے دو بچے ہیں، جن کی عمریں چھ اور آٹھ سال ہیں۔

لڑکے والوں نے جب لڑکی سے اور اس کی والدہ سے پوچھا تو انھوں نے سارا ملبہ میرج بیورو پر ڈال دیا کہ انھوں نے منع کیا تھا۔ لڑکی کے رشتے داروں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے شوہر نے پہلے ہی کہہ دیا تھا، کہ یہ شادی محض وہ اپنے بچوں کی خاطر کر رہا ہے، وہ چاہتا ہے کہ آنے والی صرف بچوں کا خیال رکھے، گھر کے کام کاج کے لیے پہلے ہی ایک ملازمہ موجود تھی۔

لیکن ہوا یوں کہ جیسا کہ آج تک ہوتا آیا ہے کہ سوتیلی ماں آخر سوتیلی ماں ہوتی ہے، وہ لڑکی میاں کے جانے کے بعد میکے چلی جاتی تھی اور شوہر کے آنے سے پہلے واپس آ جاتی تھی۔ ملازمہ کا منہ اس نے کچھ رقم دے کر بند کر دیا تھا، لیکن وہ شخص بہت اچھا باپ تھا، ایک دن اس نے دن میں چکر لگایا تو بیوی غائب اور ملازمہ پڑی سو رہی ہے، اس نے تنبیہ کی مگر چند دن بعد دوبارہ چھاپہ مارا تو وہ عورت بچوں کو مار رہی تھی، اس شخص نے طلاق دے دی اور یہ عورت میرے جاننے والوں کے پلے پڑ گئی۔

اب بھی وہ ہر دوسرے دن میکے چلی جاتی ہے، آئے دن والدہ محترمہ تشریف لے آتی ہیں، گھر کے کسی کام میں دلچسپی نہیں لیتی، بس کھانا لگ جائے تو مہمانوں کی طرح آ کر بیٹھ جاتی ہے، لڑکا بالکل بیوی کا غلام بن کر رہا گیا ہے۔ ماں باپ میرج بیورو والوں کو کوستے ہیں، یہاں تو وہی مثل صادق آتی ہے کہ:

دو ہاجو کی بیوی، سوداگر کا گھوڑا

جتنا کودے، اتنا تھوڑا

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔