قومی کردار

ایم جے گوہر  جمعرات 28 مارچ 2024
mjgoher@yahoo.com

[email protected]

12 مئی 1940 کو برطانیہ کے وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے دوسرے دن سرونسٹن چرچل نے ایک ایسی شہرہ آفاق تقریر کی جسے تاریخ دانوں نے ’’خون، پسینہ اور آنسو‘‘ (Blood, Sweat and Tears) کا عنوان دیا ہے۔ چرچل نے کہا کہ ’’ آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہماری پالیسی کیا ہے؟ ہماری صرف اور صرف ایک پالیسی ہے کہ اپنے خوف ناک دشمن کو ہر جگہ شکست دیں گے۔

آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا مقصد کیا ہے؟ ہمارا مقصد صرف اور صرف فتح حاصل کرنا ہے۔‘‘ (یہی وہ وقت تھا جب چرچل نے اپنی دو انگلیوں سے مشہور زمانہ وی (V) یعنی ’’وکٹری، فتح‘‘ کا نشان بنایا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ یاد رکھیں فتح اور موت کے درمیان کوئی اور چناؤ نہیں ہوا کرتا۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ہماری منزل نزدیک نہیں، نہ آسان ہے۔ میں آپ کو اس وقت یہی یقین دہانی کرا سکتا ہوں کہ میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھوں گا۔ آپ سب مل کر میرا ساتھ دیں تو خون، پسینہ اور آنسو کے درمیان سے ہوتے ہوئے ہم کامیاب ہو کر رہیں گے۔‘‘

اول صاحب کردار، دوربین، ایمان دار اور اصل لیڈر کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی قوم سے جھوٹ نہیں بولتا۔ دوم ایسا رہنما بددیانت، بدعنوان، غاصب، کرپٹ، آئین اور قانون شکن اور خائن نہیں ہوتا۔ انفرادی، ذاتی، خاندانی، جماعتی اور سیاسی مفادات کو ترجیح نہیں دیتا۔ اس کے پیش نظر ملک و قوم کا مفاد ہی عزیز ہوتا ہے۔ آئین کا پاس دار، قانون کا پابند، عوام کا خدمت گزار، قومی وسائل کا محافظ اور ملکی وقار، عزت، استحکام، ترقی اور خوش حالی کا رکھوالا ہوتا ہے۔ ایسے بالغ نظر، باوقار، ملک و قوم کے وفادار، سنجیدہ، راست گو، مخلص، صادق اور امین رہنما ہی اپنی قوم کے ہیرو ہوتے ہیں، وہ قوم کے یقین کی علامت ہوتے ہیں۔

لوگ ان پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں اور ان کی ایک آواز پر لبیک کہنے میں ذرا تامل نہیں کرتے۔ عوام کو اعتماد ہوتا ہے کہ ان کا لیڈر ان سے جھوٹ نہیں بولے گا، انھیں دھوکا نہیں دے گا، ملک و قوم کے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھے گا۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی یہ بدقسمتی ہے کہ آزادی کے 70 سال گزرنے کے بعد بھی انھیں قائد اعظم اور لیاقت علی خان جیسے مخلص، اصول پسند، باوقار، آئین و قانون کے پابند، قومی مفادات کے محافظ، جمہوریت کے علم بردار اور عوام کے غم خوار رہنما نصیب نہ ہوئے جو اس ملک کو ترقی و کامیابی کی راہ پر لے کر جاتے، معاشی، سیاسی، آئینی، قانونی اور عدل کے حوالے سے اپنے پاؤں پرکھڑا کرتے۔ قائد اعظم کے رہنما سیاسی اصولوں کی پاس داری کرتے، نتیجتاً آج ہماری حالت دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے بالخصوص ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد آزاد ہونے والے ملکوں کے مقابلے میں نچلے درجے پر ہے، ریاست کے چار اہم ستون انتظامیہ (حکومت)، عدلیہ، مقننہ اور میڈیا جن پر کسی بھی ملک کی عمارت استوار ہوتی ہے۔

آج متزلزل نظر آتے ہیں۔ پورا نظام لرزہ براندام ہے اور عوام پریشان حال ہیں کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ہے کہ امور سلطنت کو کیسے چلایا جائے کہ ریاست کے تمام ستونوں کو مضبوط کیا جا سکے۔ انھیں استحکام حاصل ہو، عوام اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر چلیں۔ معیشت کو اربوں ڈالر کے قرضوں سے نجات حاصل ہو، آئی ایم ایف کا طوق غلامی گلے سے اتارا جا سکے، سیاست میں رنجش اور تلخیاں ختم ہوں، ملک و قوم کے مفاد میں اختلافات بھلا کر تمام سیاسی رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ملکی مسائل کا حل تلاش کریں۔

ہمیں ماضی کی تلخ حقیقتوں سے سبق سیکھنا ہوگا، محب وطن اور غیر محب وطن کی سطح سے اوپر اٹھ کر بات کرنا ہوگی، کوئی غدار نہیں، سب وفادار ہیں۔ ہر ایک کی اپنی اپنی سوچ ہے۔ سب سیاستدانوں کے قول و فعل عوام کے سامنے ہیں۔ جمہوریت میں عوام کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور وہی نوشتہ دیوار بھی۔ ملک کی کشتی کو گرداب سے نکالنے کے لیے ریاست کے اہم ستونوں کو اپنا قومی کردار آئین کے مطابق ادا کرنا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔