قصوں کے میلے سے کچھ سوغاتیں

محمد علی عمران خان  اتوار 7 اپريل 2024
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

 (حصہ دوم )

 

’’ایک اور طرح کی کتاب‘‘ کے مصنف قیصر زیدی اپنی  مذکورہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ’’ملک الشعراء ابو نواس عربی زبان کا مشہور شاعر تھا۔ اس کا کلام طلباء  کے نصاب میں شامل تھا۔ ایک دن وہ اپنے کسی دوست سے ملنے اس کے گھر گیا۔ ایک گلی سے گزرتے ہوئے راستے میں ایک مدرسہ پڑتا تھا جہاں کوئی استاد طلباء کو شاعری پڑھا رہا تھا۔

اتفاق سے اس وقت ابونواس ہی کی ایک غزل زیرِمطالعہ تھی۔ ابونواس قصداً دروازے کی آڑ میں رک گیا کہ دیکھوں استاد صاحب میرے شعروں کا کیا مطلب بتاتے ہیں۔ اس وقت ابونواس کا ایک شعر زیرِبحث تھا جس میں شاعر ساقی سے کہہ رہا  ہے کہ مجھے شراب دے اور یہ کہہ کے دے کہ ’’لے شراب لے۔‘‘ ظاہراً اس  شعر کا مفہوم تو سادہ، اور واضح ہے مگر استاد نے طلباء سے اس کی تشریح یوں کی کہ’’شاعر جب جامِ شراب دیکھے گا تو قوت ِباصرہ کو لطف آئے گا۔

جب وہ جام ہاتھ میں لے گا تو قوتِ لامسہ کو لطف آئے گا۔ جب جام ناک کے قریب لائے گا  تو قوتِ شامہ کو لطف ملے گا اور جب شراب پیئے گا تو قوتِ ذائقہ کو لطف ملے گا۔ لیکن قوتِ سامعہ کے لطف کی کوئی صورت نہیں پیدا ہو رہی ہے۔ اس لیے شاعر ساقی سے کہتا ہے کہ  تو اپنی زبان سے کہہ کہ ’’لے شراب لے‘‘ تاکہ کانوں کو بھی لطف آئے۔ یہ تشریح سنتے ہی ابونواس بے اختیار مدرسے میں گھس کر استاد سے لپٹ گیا اور بولا: ’’خدا کی قسم یہ پہلو تو خود میں نے بھی نہیں سوچا تھا۔‘‘

ادبی رسالے’’اردوئے معلی‘‘ میں شوکت بلگرامی مرزا غالب پر  تحریرکردہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ میرے ایک بزرگ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ ہم مع چند احباب دہلی میں مرزاغالب ؔکے حضور بہرزیارت پیش ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ مرزا قوت سماعت سے بے بہرہ ہوچکے تھے، جو حضرات آتے وہ پاس پڑے کاغذقلم کے ذریعے اپنا مدعا لکھ کر پیش کرتے تھے۔ ہم نے بھی لکھ کر مدعا پیش کیا آپ کا کلام بلاغت نظام آپ کی زبان فیض ترجمان سے سننا چاہتے ہیں۔ پڑھ کر فرمایا،’’بہت اچھا ‘‘اور اس کے بعد سمجھائیں کیا، دکھلائیں کیا والی غزل سنائی،جب مقطع پر پہنچے:

؎پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟

تو فرمایا، کہو!! کچھ سمجھے بھی؟ ہم نے  تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے عرض کیا،’’ہرگز نہیں‘‘، اس پر مسکرا کے فرمایا،’’سمجھو گے بھی نہیں‘‘، سنو! ’’ایک زمانہ ہوا جب ہم اپنی معشوق کے پاس گئے، جب ہم جیتے تھے، یعنی جوان تھے، تنا ہوا سینہ، بھرے بھرے بازو، چمپئی رنگ، نگاہ اٹھا  کے دیکھتے تھے تو آنکھوں سے شعلے نکلتے تھے، چلتے تھے تو درودیوار دہلتے تھے، مگراب جب گئے، تو نہ آنکھوں میں نور، نہ دل میں سرور، نہ جسم میں دم، کمر خم، سماعت ختم۰۰اب ہماری ہیت کذائی میں دیکھ کر:

؎پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟؟

رفعت سروش اپنی کتاب ’’یادوںکا دریچہ‘‘ میںلکھتے ہیں کہ ساحرؔ لدھیانوی کے والد چوہدری فضل الٰہی ان پڑھ، عیاش طبع اور سخت گیر زمیندار تھے۔ انہوں نے اپنی بیوی اور ساحرؔ کی والدہ کو ناجائز طلاق دی، مگر بیٹے کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر دی، مگر عدالت نے درخواست منظور نہ کی، جس کی وجہ ساحر ؔکے والد کی جانب سے دیا جانے والا ایک عدالتی سوال کا جواب تھا۔

عدالت کے جج نے دورانِ سماعت ساحر کے والد سے پوچھا کہ آپ ساحرؔ کی تعلیم کا کیا انتظام کریں گے؟ ساحر ؔکے والد نے جواب دیتے ہوئے کہا، پڑھائے اولاد کو وہ جس کو نوکری کروانا ہو، اللہ کا دیا بہت کچھ ہے، بیٹھ کر کھائے گا۔ معززجج نے فیصلہ دیا کہ بچے کو ماں کے ساتھ ہی رکھا جائے،کیوںکہ وی تعلیم دلوا رہی ہیں، اگر اسے والد کے ساتھ رکھا گیا تو وہ اَن پڑھ رہ جائے گا۔

ادبی ماہ نامے نقوش کے شخصیات نمبر کی جلد دوم میں اکبرؔ الہ آبادی کی شخصیت پر مضمون تحریر کرتے ہوئے عبدالماجد دریاآبادی لکھتے ہیں کہ  اکبرؔ الہ آبادی کی مذہبی شدت پسندی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار جب وہ دہلی میں خواجہ حسن نظامی کے مہمان ہوئے، تو درگاہ کے دروازے کے قریب ہی غالبؔ کا مزار بھی تھا۔ خواجہ صاحب نے بتایا تو ان کے ساتھ فاتحہ پڑھنے چل پڑے، مگر کچھ ہی دور چل کر رک گئے اور بولے، میں نہیں جاؤں گا، یہ تو وہی ہے نا جس نے  جنت کے لیے کہا تھا:

؎ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن!!

دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

میںایسے شخص کی قبر پر فاتحہ نہیں پڑھوں گا۔ اللہ میاں اس کے ساتھ جو چاہے معاملہ کریں۔

ادبی یادداشتوں پر مبنی اپنی کتاب ’’چند یادیں‘‘ میں خواجہ جمیل احمد، جگرؔ مرادآبادی کی صاف گوئی سے متعلق لکھتے ہیں کہ ایک بار جگر ؔصاحب کی محفل میں  ایک بڑے عالی مقام حاکم بھی پہنچ گئے جو شعر و سخن کے معاملے میں انتہائی پھوہڑ تھے۔ ان کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ ہلکا شعر سن کر کھلکھلاتے اور بے تحاشا داد دیتے، جب کہ  اچھے سے اچھے شعرپر خاموش  ہوجاتے۔ دورانِ محفل جگر ؔصاحب  کے ایک شعر پر انہوں نے بے ساختہ داد دی اور کہنے لگے ،’’پھر پڑھیے!!‘‘ اس پر جگرؔ صاحب نے ان کی جیب میں لگے ہوئے قلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،’’ذرا قلم عنایت کیجیے، میںاس شعر کو حذف کردوں، اس میں ضرور کوئی خرابی ہے کہ یہ آپ کو پسند آیا۔‘‘ حاکم اعلٰی دانت نکال کر رہ گئے جب کہ حاضرین اس توہین عدالت پر انگشت بدنداں رہ گئے۔

ڈاکٹر ایس ایم شکیل اپنے مضامین کے مجموعے ’’مضامیںسر بستہ ‘‘میں لکھتے ہیں کہ’’ عرب میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کابھی کنیت کا نام رکھا جاتا تھا۔شیر کی کنیت ابوالحارث،گھوڑے کی کنیت ابو الصباء۰۰مگر کوے کی کوئی کنیت نہ تھی۔جس کی کمی فارسی کے ایک شاعر نے پوری کر دی جس کا ذکر عرفی کے تذکرے ’’لباب الالباب ‘‘کی جلد دوم میںکیا ہے۔اس شعر میں کوے کی کنیت’’ ابوالکلام‘‘ آئی ہے:۔

؎اے فاختہ ببین و بخود اعتبار گیر

در شست خون ِ لالہ سر ِ زاغ ابوالکلام

ابوالکلام آزادؔ،گرچہ فارسی کے بہت بڑے عالم تھے مگر جانے کیوں یہ تذکرہ ان کی نظروں سے نہ گزرا،ورنہ وہ اپنی اس کنیت پہ ضرور نظر ثانی کرتے۔۔۔جبکہ محمد علی جوہر کہا کرتے تھے کہ ’’یوں تو بڑے’’ ابولکلام‘‘ ہیں ،مگر جب مسلمانوں کے حقوق کی بات آجائے تو’’ ابوالسکوت‘‘ بن جاتے ہیں‘‘۔

اخلاق احمد دہلوی اپنی کتاب ’’یادوں کا سفر ‘‘میں بیان کرتے ہیں کہ’’ حال و قال کی ایک محفل میں ایک صوفی منش بزرگ  اس شعر پر رقتِ قلب میں مبتلا ہو گئے۔

؎یونہی گر، یہ توڑا مروڑی رہے گی

تو کاہے کو انگیا نگوڑی رہے گی

ایک صاحب نے ان سے پوچھا کہ حضرت ! ’’اس میں معرفت کا کونسا پہلو آشکارہوا ہے؟؟‘‘۔ تو بزرگ بولے، ’’انگیا جسم ہے اور جو کچھ انگیا میں ملفوف ہے اسے روح سے تعبیر سمجھو۔یعنی جسم اور روح میں اگر ریاضتِ الہی کے باعث یونہی کشمکش چلتی رہی تو جان یعنی جسم کا زیاں یقینی ہے اور جسم کو کمزور  کیے بغیر نروان حاصل نہیں ہوتا‘‘۔

معروف ناول نگار ،ادیب اور صحافی  قاضی عبدالغفار  جب حیدر آباد کی سکونت ترک کر کے دلی چلے گئے،تو اپنا اخبار وزنامہ پیام،حسرت موہانی کے بھائی اکبر حسن کے صاحبزادے اختر حسن کے حوالے کر گئے جو حیدر آباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں بطور لیکچرار مقررتھے۔قاضی  صاحب کے زمانے میں اخبار کے سرورق پہ اخبار کے نام پیام کی رعائیت سے درج ذیل شعر  لکھا جاتا:۔

؎بہ آںگروہ کہ از ساغر وفا مَستند

زما پیام رسانید ہر کجا  ہستند۔۔

جب اختر حسن صاحب نے اخبار کی ادارت سنبھالی تو اخبار کی پیشانی  پہ درج شعر کو بدل کر یہ شعر لکھوا دیا:۔

؎عقل کے دردمند کا طرزِ کلام اور ہے

ان کا پیام اور تھا میرا پیام اور ہے

ہندوستان میں  ایک جگہ مشاعرہ تھا ۔ردیف دیا گیا ’’دل بنا دیا‘‘۔ سب سے پہلے حیدر ؔدہلوی نے اس ردیف  کو یوں استعمال کیا:

؎اک دل پہ ختم قدرت ِ تخلیق ہو گئی

سب کچھ بنا دیا جو میرا دل بنا دیا

اس شعر پہ ایسا شور مچا کہ بس ہو گئی۔۔لوگوں نے سوچا کہ اس  سے بہتر کون گرہ لگا سکتا ہے؟ ایسے میں جگرؔ مراد آبادی آئے اور کہا:

؎بے تابیاں سمیٹ کے  سارے جہان کی

جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا

حیدر دہلوی جو کہ اپنے وقت کے استاد تھے اور خیام الہند کہلاتے تھے، جگر کا کلام سنتے ہی سکتے میں آ گئے۔جگر کو گلے سے لگایا، ان کے ہاتھ چومے  اور وہ صفحات  جن پر  ان کی شاعری درج تھی جگر کے پاؤں میں ڈال دیے۔۔

مناظر عاشق ہر گانوی اپنی کتاب ’’ یادیں باتیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ’’  پٹنہ کی ایک ادبی نشست میں دیگر شعراء ادباء کی موجودگی میں ،میں  نے فراق ؔصاحب سے پوچھا،ادب کی افادیت کیا ہے؟؟،فراق ؔصاحب نے جواب دیا،’’ایک بچہ گولی کھیل رہا تھا،اس کے باپ نے اسے سمجھایا کہ گولی کھیلنا مناسب نہیں ہے،اس کا کوئی فائدہ نہیں ،اس لیے مت کھیلو۔بچہ گولی کھیلنے کی بجائے لٹو گھمانے لگا،باپ نے اس کھیل سے بھی منع کیا کہ لٹو نچانے سے کوئی فائدہ نہیں۔تب وہ بٹیر لڑانے لگا،لیکن باپ نے اس حرکت سے بھی منع کیا کہ اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں،بچے نے جھنجھلا کر باپ سے پوچھا ،آپ یہ تو بتائیں کہ آخر اس فائدے کا فائدہ کیا ہے؟؟۔۔یہی حال ادب کی افادیت کا ہے‘‘۔

سید مقصود زاہدی اپنی کتاب’’ یادو ںکے سائے میں‘‘لکھتے ہیں کہ ’’لکھنو میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے کے بعد ایک نجی نشست میں، میں  نے اپنی آٹو گراف بک حسرتؔ موہانی کی طرف بڑھائی تو انہوں درج ذیل شعر تحریر فرمایا:۔

واں تک پہنچ پہنچ کے پھر آیا میں نا مراد

ایسا تو اس گلی میں کئی بار ہو چکا

میں شعر کو بغور پڑھ ہی رہا تھا کہ حسرتؔ میرے چہرے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے،’’بھئی !!یہ کُوئے دلدار کا ذکر نہین،اس شعر کے پس منظر کا تعلق دراصل ہندوستان میں مسلمانوں کی سماجی اور سیاسی زندگی کی روداد سے ہے۔مسلمانوں نے بارہا اس  ملک میںہند و اکثریت کے ساتھ ملکر  باعزت زندگی گزارنے کی کوشش کی،لیکن ہر کوشش کا انجام نامرادی کی شکل میں نکلا ہے۔۔اسی کرب کو محسوس کرتے ہوئے میں نے درج ذیل شعر لکھا ہے۔۔

خداداد خان مونسؔ اپنی ادبی یادوں پہ مبنی کتاب’’ بکھرے ہوئے اوراق‘‘ میںتہذیب مشاعرہ کی تاریخ  بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ ’’دہلی میں بہادر شاہ ظفرؔ کے دور تک طرحی مشاعروں کی مضبوط روایت تھی ۔ایک بار بادشاہ وقت مصاحبین کے ساتھ مشورہ فرما رہے تھے کہ آئندہ  ہونیوالے مشاعرے کے لیے کیا طرح دی جائے۔یکایک زنان خانے سے ملکہ کی آواز کانوں سے ٹکرائی،’’ یا اللہ!!آیا نے بچے کو کیا بے طرح لٹایا ہے‘‘۔ظلِ سبحانی نے بات سے بات پیدا کر لی اور فرمایا ،لیجیے!! مسئلہ حل ہو گیا،اب مشاعرہ بے طرح ہو گا۔۔۔اور پھر اسطرح قلعہ معلی سے شروع  ہونیوالی بے طرح مشاعروں کی یہ رسم آہستہ آہستہ پوری دہلی میں پھیل گئی۔

’’بکھرتی یادیں  ‘‘نامی کتاب میں ڈاکٹر افضال  احمد لکھتے ہیں کہ’’ آرز وؔلکھنوی اپنے عہد کے اساتذہ فن مین شمار کیے جاتے تھے۔انہیں عروض میں مہارت اور اصلاح سخن میں خاص ملکہ حاصل تھا ۔کیونکہ ان کا نظریہ تھا کہ’’ بہتر سے بہترین کی گنجائش ہمہ وقت موجود رہتی ہے‘‘۔شعر و سخن کی ایک محفل میں ،جہاں آرزو ؔلکھنوی بھی موجود تھے ،بیخود ؔموہانی نے اپنی مشاعرہ لوٹ شاہکار شعر سنایا:۔

؎ نشیمن پھونکنے والے ہماری زندگی یہ ہے

کبھی روئے کبھی سجدے کیے خاک نشیمن پر

محفل میںبڑی واہ واہ ہوئی۔۔ بیخودؔ موہانی نے آرزو کو مخاطب کرتے ہوئے فخریہ پوچھا،’’حضرت!!کیا اس میں بھی اصلاح کی گنجا ئش موجود ہے؟؟۔‘‘آرزو  ؔچند ثانئے کے توقف کے بعد بولے،’’کیوں نہیں؟؟ ‘‘۔بیخود ؔنے استعجابیہ لہجے میں کہا ’’ارشاد!!  ‘‘اس پہ آرزو ؔکہنے لگے  ’’بات چونکہ نشیمن کی ہو رہی ہے تو اس کی نسبت سے عرض ہے کہ پرندوں میں سجدے کا شعور نہیں ہوتا،یہ بشریت کا خاصا ہے۔۔لہذا اگر مصرعہ ثانی کو یوں کر دیا جائے تو شعر کی معنویت دو بالا ہو جائے گی‘‘:۔

؎ نشیمن پھونکنے والے ہماری زندگی یہ ہے

کبھی روئے کبھی ’’سر رکھ دیا‘‘ خاک نشیمن پر

رفعت سروش کی کتاب’’  یادوں کا دریچہ ‘‘میں تحریر ہے کہ’’ ایک زمانے  میں کیفیؔ اعظمی اور ساحرؔ لدھیانوی میں رقابت ہو گئی۔۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ علی سردار ؔجعفری کی صدارت میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے ایک ایسے جلسے میں جس میں کیفی ؔاعظمی اپنی بیگم کے ساتھ شریک تھے،ساحرؔ نے کیفی ؔکے خلاف مضمون پڑھا جس میں کہا گیا کہ کیفیؔ تو سرے سے شاعر  ہی نہیں۔۔۔اس کی شاعری صرف ایک پروپیگینڈا ہے۔

جلسے کی اگلی نشست میں علی سردارؔ جعفری نے کیفی ؔسے اپنی دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے ساحرؔ کی موجودگی میں ایک مضمون ،ساحرؔ کی شاعری کی مذمت میںپڑھا،جس میں بلخصوص اس ی مقبول نظم،’’تاج محل‘‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے  ہندوستان کے تاریخی و تہذیبی ورثے کی توہین قرار دیتے ہوئے ساحر کو ؔرجعت پسند شاعر قرار دیا گیا۔مضمون کے اختتام پہ ساحر ساؔمعین کی صفوں سے اٹھے  اور با اعتماد و پر سکون لہجے میں بآواز بلند کہنے لگے،جعفری صاحب!!آپ اس مضمون سے یہ تو ثابت کر سکتے ہیں کہ ساحرؔ ایک گھٹیا شاعر ہے،لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ کیفی ؔاعظمی اچھا شاعر ہے؟؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔