یہ چیز کیا چیز ہے

سعد اللہ جان برق  اتوار 21 اپريل 2024
barq@email.com

[email protected]

زندگی کے اس لمبے سفر میں بہت سارے ایسے ’’دانا‘‘ بھی ملے جنھوں نے’’دانائی‘‘ احمقوں سے سیکھی تھی اور ایسے احمق بھی ملے جنھوں نے ’’حماقت‘‘ داناؤں سے سیکھی تھی۔

اور ہم نے ان دونوں سے کسب فیض حاصل کیا تو ایک ایسی چیز سیکھی جو ’’ٹو ان ون‘‘ ہے، یعنی دانائی بھی ہے اور حماقت بھی۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بیک وقت وہ’’مرغی‘‘ جس کے اندر انڈا بھی ہوتا ہے یا وہ انڈا جس کے اندر مرغی بھی۔ اصطلاحاً ایسے لوگوں کو ’’دیوانہ‘‘ کہتے ہیں۔

ایک ایسے حضرت بھی گزرے ہیں جنھیں بہلول دانا بھی کہتے ہیں اور بہلول دیوانہ بھی۔آپ شاید یقین نہ کریں لیکن ایسے لوگ دنیا میں ہوا کرتے ہیں۔جو ’’یہ‘‘ بھی ہوتے ہیں اور’’وہ‘‘ بھی۔یا ’’یہ‘‘ بھی نہیں ہوتے اور’’وہ‘‘ بھی نہیں ہوتے۔یہ جن کے ’’دوست‘‘ ہوجاتے ہیں، ان کو دشمن کی حاجت نہیں رہتی۔

اور جن کے دشمن ہوجاتے ہیں، اسے ’’دوست‘‘ کی ضرورت سے بے نیاز کردیتے ہیں،جیسے آج کل پاکستان میں اور خصوصاً سیاست میں ایسے لوگوں کی بھرمار ہے، جن کو ’’جھوٹے سچے‘‘ بھی کہا جاسکتاہے اور’’سچے‘‘ سچے بھی ہوتے ہیں لیکن اصل میں نہ جھوٹے ہوتے ہیں نہ سچے ہوتے ہیں بلکہ ایسے ہنرمند ہوتے ہیں جو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے کے ماہر ہوتے ہیں۔

یوں کہیے کہ یہ ’’درزی‘‘ ہوتے ہیں جو جھوٹ کو سچ کا اور سچ کو جھوٹ کا’’لباس‘‘ پہناتے ہیں اور لباس بھی ایسا کمال کاکہ خود جھوٹ اور سچ کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ ہم نے کس کا لباس پہنا ہے؟ ہم تو ایسے لوگوں کو ہر فن مولا،امرت دھارا،پرکارہ یا ’’آل ان ون‘‘ کہتے ہیں۔

ایک اصطلاح تو آپ نے سنی ہوگی کہ ’’ایک ہی چھت کے نیچے سب کچھ‘‘۔لیکن یہ بینگن کے نہیں بلکہ کسی نواب صاحب کے ملازم ہوتے ہیں۔یہ اتنے باکمال ہوتے ہیں اور اتنا لاجواب پرواز کرتے ہیں کہ ایک ہی وقت بلکہ ایک نشست میں ایک ہی چیز کو دو طرح سے بیان کرسکتے ہیں، مثلاً اگر ان سے کہا جائے کہ اونٹ کو بُرا ثابت کرنا ہے تو یہ جھٹ سے دلائل کا ایک پورا ڈھیر لگا کر ثابت کردیں گے کہ اونٹ دنیا کا بدترین جانور ہے اور اگر اونٹ کو اچھا ثابت کرنے پر اتر آئیں تو اگلے ہی لمحے اونٹ کو نہایت ٹھوس دلائل سے دنیا کا بہترین جانور بنادیں گے بلکہ اگر چاہیں تو اونٹ کی سواری شیطان یا بزرگوں کی سواری بھی ثابت کرسکتے ہیں، ان کا ایک اور کمال یہ ہے کہ سیکڑوں الفاظ کے بیان میں بہت کچھ کہہ بھی دیتے ہیں اور کہنے کے باوجود بھی کچھ نہیں کہتے ہیں۔

کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے

کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے

ایسے کمال کے لوگ ہوتے ہیں کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کے لباس میں ایسا چھپاتے ہیں کہ دل ہوا بوکاٹا۔اور تو اور سچ اور جھوٹ خود اپنے آپ کو بھی پہچان نہیں پاتے۔کہتے ہیں برطانیہ کا کوئی لیڈر ہمارے ملک کے دورے پر آیا ہوا تھا، دورے کے احتتام پر اس سے پوچھا گیا کہ کہیے ہمارا ملک کیسا لگا تو اس نے کہا باقی تو سب کچھ میری سمجھ میں آگیا ہے لیکن یہ نئی چیز جو تمہارے ملک میں پائی جاتی ہے اور بہت زیادہ پائی جاتی ہے، یعنی یہ’’معاون خصوصی برائے…‘‘کیا ہوتا ہے؟

کیا وزیر سب مرگئے، ترجمانوں کو آندھی طوفان لے گیا۔مشیروں کو کورونا وائرس ہوگیا ہے، وزرائے مملک کو لقوہ ہوگیا ہے، منتخب نمایندے منہ کے کینسر میں مبتلا ہوگئے ہیں، سرکاری محکموں کو کوئی اغوا کرکے لے گیا ہے اور ادارے کام نہ کرنے کے غم میں بے ہوش ہوگئے۔ جو یہ نئی چیز’’ معاون خصوصی برائے…‘‘ پیدا کی گئی۔ کہتے ہیں، مقامی میزبان یا ترجمان نے جواب دیا کہ اگر زبانی طور پر اس’’چیز‘‘ کے بارے میں بتاؤں تو دس لاکھ، دس ہزار، دس سو دس الفاظ میں بھی اس’’چیز‘‘ کی ضرورت، اہمیت اور حقیقت بیان نہیں کرپاؤں گا۔

اس لیے آئیے! آپ کو’’عملی نمونہ‘‘ دکھاتا ہوں۔ وہ مہمان کو باہر لان میں لایا اور پھر محکمہ اطلاعات کے ایک افسر کو بلایااور آسمان کی طرف اشارہ کرکے پوچھا ، ’’آپ کو وہ’’ستارہ‘‘ نظر آرہا ہے نا‘‘۔اس وقت بھری دوپہر تھی، افسر نے آسمان کو گہری نظروں سے دیکھا، چشمہ لگا کر دیکھا ،چشمہ اتار کر دیکھا۔پھر بولا، سر مجھے تو کوئی ستارہ نظر نہیں آرہا ہے؟ترجمان نے اسے رخصت کرکے متعلقہ وزیر کو بلایا۔اور اسے بھی آسمان کی طرف متوجہ کرکے اور انگلی سے اشارہ کرکے پوچھا،’’ وہ ستارہ دیکھ رہے ہو، اس کے بارے میں مہمان کو بتاؤ۔

وزیر موصوف نے آسمان کو غور سے دیکھا ،کافی دیر دیکھتا رہا، پھر مایوسی سے سر ہلا کر کہا، جناب! مجھے تو کوئی ستارہ دکھائی نہیں دیا۔ ترجمان نے کہا، اچھا جاؤ اور اپنے معاون خصوصی کو بھیجو۔معاون خصوصی آیا تو ترجمان نے اس سے بھی کہا کہ دیکھو تم آسمان پر ایک ستارہ دیکھ رہے ہو نا۔اس کے بارے میں ہمارے مہمان کو بریف کرو۔معاون خصوصی نے آسمان پر ایک نگاہ ڈالی جو نگاہ سے کم تھی اور پھر گویا ہوا۔جی ہاں جناب! ستارہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ جو سورج کے پہلو میں خوب خوب چمک رہا ہے۔

یہ ستارہ سحری ہے اور اس بات کا اشارہ ہے کہ ہماری حکومت ہر لحاظ سے قابل تعریف ہے۔رعایا چین کی بانسری پر پاک سرزمین الاپ رہی ہے، دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمارے وزیراعلیٰ کی ذات بابرکات کے وجود سے روشنی کی کرنیں پھوٹ کر سارے جہاں کو منور کررہی ہیں بلکہ یہ ستارہ ہی ہمارے وزیراعلیٰ ہیں جو آسمان سے عوام پر’’نور‘‘ برسا رہا ہے اور بہت جلد یہ سورج کو مات دے کر ساری دنیا کو چکا چوند کردے گا۔

بہت مبارک ستارہ ہے اور ہمارے وزیراعلیٰ کے دور میں اس کے نکلنے کا مطلب یہی ہے کہ ہمارے وزیراعلیٰ کی ذات بابرکات ہمارے لیے نعمت ہے۔ترجمان نے اس کی پیٹھ ٹونک کر اسے رخصت کردیا اور مہمان سے کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے مہمان بول پڑا ، بس میری سمجھ میں آگیا ہے کہ یہ چیز کیا چیز ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔