آزاد کشمیر کے لیے 23 ارب روپے کا پیکیج احسان نہیں ہمارا فرض ہے، وزیراعظم

ویب ڈیسک  جمعرات 16 مئ 2024
مستقل بنیادوں پر معاملات حل کریں گے تاکہ قیامت تک ایسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو، شہباز شریف

مستقل بنیادوں پر معاملات حل کریں گے تاکہ قیامت تک ایسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو، شہباز شریف

 مظفر آباد: وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ  آزاد کشمیر کے لیے 23 ارب روپے کا پیکیج احسان نہیں ہمارا فرض ہے۔

شہبازشریف نے آزاد حکومت جموں و کشمیر کی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دن بہت تشویشناک تھے، ایک تحریک چل رہی تھی، جن میں کچھ لوگ اپنے جائز مطالبات کے لیے جمہوری انداز میں اپنا فریضہ ادا کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن اس تحریک میں بعض شرپسند عناصر بھی شامل تھے جن کا مقصد آزاد کشمیر میں توڑ پھوڑ، انسانی جانوں کا ضیاع اور جلاؤ گھیراؤ تھا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور کچھ شہری جاں بحق ہوگئے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، جاں بحق افراد کے لیے حکومت نے شہدا پیکیج کا اعلان کیا ہے، جو انہیں فی الفور پہنچایا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں وزیراعظم آزاد کشمیر، اور دیگر تمام افراد کا مشکور ہوں جنہوں نے اس نازک مرحلے پر بہترین مشورے دیے اور ہم نے بروقت اس معاملے کو ختم کیا اور ان کے مطالبات کی بلاتاخیر منظوری دیتے ہوئے 23 ارب روپے کا پیکیج منظور کیا، یہ ہم آپ پر احسان نہیں جتا رہے بلکہ یہ ہمارا فرض ہے، پاکستانی اور کشمیریوں دونوں نے ایک دوسرے پر ہمیشہ محبتوں کے پھول نچھاور کیے ہیں۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم دورے پر پاکستان آئی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے وزیر توانائی اور سیکریٹری وہاں مصروف ہیں، جیسے ہی ٹیم واپس جائے گی، میں نے وزیراعظم آزاد کشمیر سے گزارش کی ہے کہ اپنی ٹیم تشکیل دے دیں تاکہ زیرالتوا مسائل پر ہم سیر حاصل گفتگو کرکے مستقل بنیادوں پر معاملات حل کریں تاکہ قیامت تک ایسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔