اسلام آباد ؛ فلسطین کے حق میں دھرنے پر گاڑی چڑھا دی گئی، 2 مظاہرین جاں بحق

ویب ڈیسک  پير 20 مئ 2024
جماعت اسلامی نے حملے کے منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا:فوٹو:ایکسپریس ویب

جماعت اسلامی نے حملے کے منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا:فوٹو:ایکسپریس ویب

اسلام آباد میں فلسطین کے حق میں جاری دھرنے پر گاڑی چڑھانے کے واقعے میں 2 مظاہرین جاں بحق ہوگئے۔

اسلام آباد کے ڈی چوک پرجماعت اسلامی کی جانب سے فلسطین کے حق میں دئیے گئے دھرنے پر گاڑی چڑھانے کے واقعے میں تین کارکن زخمی ہوئے۔

ترجمان جماعت اسلامی اسلام آباد کے مطابق نامعلوم شخص نے دھرنے میں بیٹھے شخص پر پولیس کی موجودگی میں گاڑی چڑھائی۔ واقعہ میں دو ساتھی شہید ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے گاڑی میں سوار شخص کو حراست میں لے کرگاڑی کو تھانہ کوہسار منتقل کردیا گیا ہے۔ ڈرائیور کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہے۔جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے ڈی چوک میں جاری سیو غزہ دھرنے پہ رات 2 بجے کے قریب سڑک پہ بیٹھے مظاہرین پر نامعلوم افراد نے گاڑی چڑھا دی۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اس خون ناحق کی ذمہ دار حکومت اور اسلام آباد پولیس ہے۔ 8 روز سے جاری پرامن دھرنے پر  سوچی سمجھی سازش کے تحت حملے کے منصوبہ سازوں کو گرفتار کیا جائے۔ موقع پر موجود پولیس کی مجرمانہ خاموشی پر کارروائی کی جائے اور حملے کی ایف آئی آر کاٹ کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ یہ کوئی سیاسی دھرنا نہیں ہے۔ دھرنے کا مقصد حکومت کو جگانا اور فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنا ہے۔

جماعت اسلامی کے جاں بحق کارکن رومان کی نماز جنازہ ڈی چوک میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ مشتاق احمد نے پڑھائی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے سینیٹر مشتاق احمد نے خطاب کیا اور کہا کہ میں سیو غزہ مہم میں شامل تمام سیاسی، طلبا اور خواتین تنظیموں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ ایک غیر سیاسی جدوجہد ہے جس کا مقصد غزہ کو بچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نومبر سے یہ مہم جاری ہے، غزہ میں 150000 لاکھ لوگ بھوک سے گزر رہے ہیں، ایک لاکھ فلسطینی زخمی ہوئے، ہم 8 دنوں سے 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں اور ہمارا احتجاج پرامن طریقے سے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل رات کو تیز رفتار  گاڑی دھرنے پر چڑھ دوڑی جس کے نتیجے میں دو نوجوان جاں بحق جبکہ چار زخمی ہوئے تاہم پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔