حیوانی حیات اور نباتات کے لیے خطرات کا تدارک

ایڈیٹوریل  اتوار 25 مارچ 2018
ماحولیات کے حوالے سے دنیا بھر میں آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ بڑھ رہی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

ماحولیات کے حوالے سے دنیا بھر میں آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ بڑھ رہی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

فرانسیسی خبررساں ایجنسی نے دنیا بھر کی حیوانی حیات اور نباتات پر انسانوں کی بے پروائی کے نتیجے میں مرتب ہونے والے منفی اثرات کا اجمالی جائزہ لے کر صورت حال کی سنگینی پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ یہ اثرات دنیا کے ہر ریجن میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک طرف ضرورت سے زیادہ کاشتکاری کی جا رہی ہے، دوسری طرف ماحولیات کے حوالے سے دنیا بھر میں آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ بڑھ رہی ہے جس سے محفوظ برفانی ذخائر پگھل رہے ہیں جن سے ایک طرف سمندری سطح میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہو رہا ہے دوسری طرف سمندری سطح میں اضافے سے جہاں سمندر کے کنارے واقع ان انسانی بستیوں کے غرقاب ہونے کا خطرہ ہے بلکہ چھوٹے جزائر کے سرے سے نابود ہو جانے کا خطرہ بھی لاحق ہو رہا ہے۔

یہ تو بڑے خطرات کی نشاندہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایشیا بحرالکاہل کے علاقے سے نوے فیصد ’’کورل ریف‘‘ ختم ہو رہی ہے جو کہ قیمتی سمندری حیات کی پرورش کا قدرتی اور فطری ذریعہ ہوتی ہیں۔ نیز کورل کا قیمتی پتھر جواہرات کے بھی کام آتا ہے۔ اردو میں اسے ’’مونگا‘‘ کی چٹانیں کہا جاتا ہے جن کے اندر ایک طرف نایاب آبی حیات پلتی ہے۔

دوسری طرف وہ قیمتی جواہرات کی پیدائش کرتی ہیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2050ء تک یہ قیمتی اثاثہ اپنے حتمی انجام کو پہنچ سکتا ہے جس کے لیے لازم ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین اور مدبرین اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے متحدہ طور پر کوشش کریں ورنہ بہت بڑا خسارہ ہو جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔