قدرت کا انوکھا عجوبہ

 منگل 27 مارچ 2018
انسانی بدن کے حیرت انگیز حقائق۔ فوٹو: سوشل میڈیا

انسانی بدن کے حیرت انگیز حقائق۔ فوٹو: سوشل میڈیا

نماز فجر کے بعد جب تھوڑی تھوڑی روشنی ہونے لگے تو بہت سہانا وقت ہوتا ہے۔ اس سمے بہت سے لوگ ورزش بھی کرتے ہیں تاکہ تندرست و توانا رہ سکیں۔مگر کبھی آپ نے اپنی جسمانی ساخت پر غور کیا؟

اس بات پر بھی کہ جس جسم کو آپ توانا رکھنا چاہتے ہیں، اللہ عزوجل نے اس میں کیا کیا چیزیں رکھی ہیں؟ اگر ہم اس پر غور کریں تو حیران رہ جائیں۔ انسانی بدن کی دلچسپ معلومات درج ذیل ہیں:

چربی:یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ انسانی جسم میں چربی بھی ہوتی ہے لیکن یہ کتنی ہوتی ہے۔ مگر پتا ہے کتنی؟ سائنس کی رو سے انسان کے جسم میں اتنی چربی ہوتی ہے کہ اس سے تقریباً چار پونڈ صابن تیار ہوسکتا ہے۔

فولاد:بدن انساں میں اتنا فولاد ہوتا ہے کہ اس سے درمیانے درجے کے سات کیل تیار ہوسکتے ہیں۔

حرارت:انسانی جسم میں اتنی حرارت ہوتی ہے کہ اس کے ذریعے ایک وقت میں چائے کی تین پیالیاں تیار کی جاسکتی ہیں۔

چھینک:جب انسان چھینکتا ہے تو اس میں ہوا کی رفتار سو میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔

انسانی خون کی گردش:میرے ناقص مطالعے کے مطابق انسان کے جسم میں خون کا ایک قطرہ پچاس سال تک تقریباً بیس ہزار میل کا سفر طے کرتا ہے۔

مرد کی داڑھی :یہ داڑھی ایک سال میں تقریباً سولہ انچ کے حساب سے بڑھتی ہے۔

ہڈیاں:انسانی ہاتھ میں کل ستائیس ہڈیاں ہوتی ہیں۔ انسانی سر میں آٹھ ہڈیاں ہوتی ہیں۔ انسانی ٹانگ میں اکتیس ہڈیاں ہوتی ہیں، انسانی جسم میں کل دو سو چھ ہڈیاں ہوتی ہیں۔

مسام:ایک اندازے کے مطابق انسانی جسم میں کل پچیس لاکھ مسام ہوتے ہیں۔

ناخن بڑھنے کی رفتار:انسانی ناخن روانہ اوسط اعشاریہ ایک ملی میٹر کے حساب سے بڑھتے ہیں۔

جلد :انسانی جلد کا وزن پورے جسم کے وزن کے سولہ فیصد ہوتا ہے۔

بدن میں پانی:جس طرح دنیا میں سات حصّے پانی ہے،اسی طرح اگر ہم انسانی جسم کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے جسم کا 65 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔

اللّٰہ کی قدرت:پھیپھڑے جنھیں انگریزی میں لنگز کہتے ہیں۔ دو ہوتے ہیں دونوں کا ایک ہی کام ہے لیکن انسان کے دونوں پھیپھیڑوں میں سے دائیں طرف والا پھیپھڑا بڑا ہوتا ہے۔

توانائی:انسانی جسم میں اتنی توانائی موجود ہوتی ہے کہ اگر اس کو برقی توانائی میں تبدیل کیا جائے تو اس سے ساٹھ وولٹ کا بلب دو منٹ تک روشن کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔