سال میں 2 لیگز؛ پاکستانی کرکٹرزکیلیے فیکا نے آوازاٹھا دی

اسپورٹس ڈیسک  جمعـء 11 مئ 2018
پابندی کنٹریکٹ سے بدظن اورانٹرنیشنل کرکٹ چھوڑنے کا پیش خیمہ بنے گی، ٹونی۔ فوٹو:فائل

پابندی کنٹریکٹ سے بدظن اورانٹرنیشنل کرکٹ چھوڑنے کا پیش خیمہ بنے گی، ٹونی۔ فوٹو:فائل

 لندن:  پاکستانی کرکٹرز کے لیے فیکا نے آواز اٹھا دی جب کہ پی سی بی کی جانب سے سال میں صرف 2 ٹوئنٹی 20 لیگز کی پالیسی پر شدید تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔

پی سی بی کی جانب سے کنٹریکٹ یافتہ پلیئرز کو سال میں صرف 2 ٹوئنٹی 20 لیگز کھیلنے کی اجازت دی گئی ان میں سے ایک پی ایس ایل ہے، اس طرح وہ صرف ایک غیرملکی لیگ میں شرکت کرپائیں گے۔

اس حوالے سے فیکا کے چیف ٹونی آئرش نے ’’کرک انفو‘‘ سے بات چیت میں کہاکہ پلیئرز پر ٹی 20 لیگز میں حصہ لینے پر اجتماعی پابندی بطور پروفیشنل کرکٹرز روزگار کے مواقع محدود کرنے کی کوشش ہے، یہ کسی بھی صورت میں کھیل کے اسٹرکچر کو درپیش بنیادی مسائل کا جواب نہیں ہے، اصل میں آپ کو اسٹریکچرل تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

ٹونی آئرش نے کہا کہ اگرچہ ہمیں مختلف ممالک کی جانب سے اپنے پلیئرز پر کام کے بوجھ کو بہتر انداز میں برتنے کے حق کی عزت کرنا چاہیے مگر یہ چیز تمام کھلاڑیوں پر اجتماعی پابندی عائد کرکے حاصل نہیں کی جاسکتی، ہم پہلے ہی دوسرے ممالک میں ایسی پابندیوں کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں جس کی وجہ سے پلیئرز نیشنل کنٹریکٹس پر دستخط سے انکار کرتے یا پھر قبل از وقت انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوجاتے ہیں، اگر کوئی کھلاڑی کنٹریکٹ سے باہر ہوگا تو اس کو کھیلنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جس کا نتیجہ انٹرنیشنل سطح پر زوال کی صورت میں برآمد ہوسکتا ہے، اسی طرح آئین کی رو سے بھی یہ پابندی غیرقانونی ہیں۔ دوسری جانب پلیئرز کے ایجنٹس بھی اس پابندی سے خوش نہیں۔

یاد رہے کہ پی سی بی کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن ہارون رشید اس فیصلے کی وجہ ورلڈ کپ سے قبل کھلاڑیوں کو انجریز سے محفوظ رکھنے کو قراردے چکے،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پالیسی پر نظرثانی بھی کی جاتی رہے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔