مقدس اتحاد کی مقدس حکمرانی

آفتاب احمد خانزادہ  ہفتہ 23 جون 2018

سقراط کا کہنا تھا کہ ’’سچائی ہر ذہن میں موجود ہے اور اسے صرف تلاش کرنے کی ضرورت ہے ، دنیا میں برائی اس وجہ سے ہے کہ لوگوں کو اپنی ذات کے بارے میں علم نہیں‘‘ حضرت عیسی کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے ہندوستان میں پدرانہ اور طبقاتی گلہ بانی کا نظام رائج تھا حکمران طبقوں نے عام لوگوں میں یہ نظریہ پھیلایا کہ جسمانی محنت ادنی ہے اور ذہنی محنت اعلیٰ تر ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے یہ بات بھی عام کر دی کہ ذہنی صلاحیتیں ورثے میں ملتی ہیں جس طرح دولت ورثے میں ملتی ہے اوراس طرح حکمران طبقے کے ورثا ہی حکومت کرسکتے ہیں کیونکہ حکومت کرنے کی صلاحیتیں صرف ان ہی کو ملتی ہیں۔ حکمران طبقے کو اس قسم کے نظریات پھیلانے کی اس لیے ضرورت ہوئی تھی کیونکہ لوگوں کی اکثریت بہت زیادہ محنت کرتی تھی اورحکمران طبقے کے افراد پیدا وارکا بہت زیادہ حصہ خود رکھ لیتے تھے۔ اس وجہ سے حکمران طبقے کے خلاف لوگوں میں نفرت اور بغاوت پیدا ہوئی تھی ۔

حکمران طبقے نے عام لوگوں کوکنٹرول میں رکھنے اور انھیں دبانے کے لیے نفسیاتی طریقے استعمال کیے ۔ اسی لیے ذہنی محنت کی برتری اور ذہنی صلاحیتوں کی وارثت کا نظریہ عام کیا گیا تاکہ عام لوگ حکمران طبقوں کی حکومت تسلیم کرلیں ان نظریات کو عوام میں پھیلانے کے لیے بہت سے لوگوں کی ضرورت تھی یہ ضرورت برہمن نے پیدا کی ۔ برہمن صرف ذہنی کام کرتا اور لوگوں کو حکمرانوں کی اطاعت پر تاکید کرتا رہتا ۔

اس طرح حکمران طبقہ اور برہمن آرام اور سکون سے اپنی زندگیاں گزارتے اور عام لوگ صرف محنت ہی کو اپنا نصیب اور مقدر جانتے اور سمجھتے رہتے اور و ہ کبھی حکمران طبقے کے خلاف بغاوت یا اٹھ کھڑے ہونے کا خیال بھی اپنے ذہن میں نہ لاتے ۔

یہ نفسیاتی طریقے اور حربے برسہا برس کامیابی سے چلتے رہے ، صدیاں اسی طرح بیت گئیں۔ اس کامیابی کے پیچھے اصل راز یہ تھا کہ انھوں نے خوبصورتی سے لوگوں کی سوچنے کی صلاحیت کو اپنے پاس گروی رکھ لیا تھا اور لوگ صرف وہ ہی سوچتے تھے جو حکمران طبقہ اور برہمن سوچنے کے لیے انھیں سو چ دیتے تھے ،اس کے علاوہ کچھ اور سوچنے پر انھوں نے اپنے آپ پر پابندی عائد کررکھی تھی ۔ اس کا صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ مخصوص حالات پیدا کرکے لوگوں کو وہ ہی کچھ سوچنے پر مجبور کیا جاسکتاہے جو سوچ آپ انھیں سوچنے کے لیے دے دیتے ہیں پھر لوگ صرف وہ ہی کچھ سوچتے ہیں جو آپ انھیں سو چنے کے لیے دیتے ہیں اسے سو چ کی غلامی کہتے ہیں ۔لوگوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اور انھیں اپنے مطابق چلانے کے لیے اس سے زیادہ کامیاب طریقہ اور حربہ کوئی اور دوسرا ہوہی نہیں سکتا ۔

ہم اپنے ملک کی حکمرانی کی ستر سالہ تاریخ کا بغور اور باریکی کے ساتھ مطالعہ کریں تو ہم پر یہ وحشتناک انکشاف ہوتا ہے کہ مخصوص خاندانی پس منظر رکھنے والے، مخصوص بیوروکریٹس، مخصو ص علما اور ملا، مخصوص سرمایہ دار اور مخصوص بلڈرز یہ ہی طریقہ اور حربہ استعمال کرتے ہوئے ہم پر حکمرانی جاری وساری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی حکمرانی آج تک خطرے میں نہیں آسکی ہے نہ ان کے خلاف کوئی عوامی شورش یابغاوت سامنے آسکی ہے اور پاکستان کے لوگ اپنی غربت و افلاس، جہالت، بیماریوں، بھوک اور ساراد ن اپنی محنت و مشقت کو اپنا نصیب، مقدر اور انھیں آسمان سے اتری ہوئی چیزیں سمجھ کر ان کے سامنے سر نگوں ہوگئے ہیں۔ ان مخصو ص لوگوں کی حکمرانی اور اتحاد کو مقدس حکمرانی اور مقدس اتحاد کہاجاسکتا ہے ان سب کی آپس میں رشتے داریاں اور نہ ٹوٹنے والی دوستیاں ہیں۔

یہ سب کے سب ایک دوسرے کے مفادات کے ہر وقت نگہبان رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی حکمرانی کو تقویت باہم پہنچاتے رہتے ہیں، یہ مقدس اتحاد کسی نہ کسی شکل میں ستر سال سے حکمرانی کرتا آرہا ہے آپ اور کچھ نہ کریں پچھلے ستر سال کی حکومتی اعلیٰ شخصیات کی مکمل فہرست اٹھا کر دیکھ لیں ان کی آپس کی رشتے داریاں اور تعلقات کو اچھی طرح سے ٹٹول لیں ان کے ستر سالوں کے اثاثہ جات اور جائیدادیں اور بینک بیلنس کا تفصیلی معائنہ کرکے دیکھ لیں ۔ان کے مفادات کا تفصیلی جائزہ لے لیں ۔ستر سال کے دوران اراکین اسمبلی کی مکمل فہرست ترتیب دیں لیں تو آپ خود اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ پچھلے ستر سال سے یہ ہی مخصو ص لوگ حکمرانی کے بھر پور مزے کرتے آرہے ہیں اور انھوں نے اپنے آپ کو اس قدر مضبوط و مستحکم کرلیاہے کہ عام آدمی کا ان کے خلاف بات کرنا یا بولنا یا بغاوت کرنا ناممکن ہوکے رہ گیا ہے ۔ انھوں نے ملک میں انتخابی عمل کو اس قدر مہنگا کر دیا ہے کہ عام لوگ تو اب پارلیمنٹ میں پہنچنے کاسو چ بھی نہیں سکتے ۔

عام آدمی کا اقتدار اور حکومت میں آنا تو ممکن ہی نہیں رہا ہے۔ ملک کے تمام وسائل ، تمام فیصلوں ، قانون پران کا ہی اختیار چلتا ہے ان کی مرضی و منشا سے حکومتیں تشکیل پاتی ہیں ملک کی تمام اعلیٰ پوسٹیں اور نوکریاں یہ ہی مقدس اتحاد آپس میں ہی بانٹ لیتے ہیں، بوقت ضرورت سب ایک دوسرے کی مدد کو برق رفتاری سے پہنچ جاتے ہیں ۔ اور رہے بیس کروڑ بیچارے تو وہ بس سارا وقت وہ ہی کچھ سوچتے رہتے ہیں جو یہ انھیں سوچنے کے لیے دے دیاجاتا ہے اور وہ اپنی بربادی ، تباہی میں اس قدر مست ہیں کہ اس مقدس حکمرانی اور مقدس اتحاد کے خلاف سو چنا بھی گناہ کبیرہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔اس لیے ہم اپنا سرکیوں خواہ مخواہ پھوڑیں۔ آئیں! ہم بھی وہ ہی کچھ سوچتے ہیں جو سوچ مقدس اتحاد نے ہمیں سوچنے کے لیے دے رکھی ہیںکہ غربت وافلاس ، جہالت ، بیماریاں، بھوک، ذلت ، پھٹکار سب ہمارے لیے آسمان سے اتری ہوئی چیزیں ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔