تبدیلی کے خواہشمند نوجوان

عتیق الرحمٰن  جمعرات 5 جولائی 2018
پی ٹی آئی کارکنان کو دیکھنا چاہیے کہ ان کی جماعت اپنے سابقہ مؤقف اور نظریئے سے پیچھے تو نہیں ہٹ گئی۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پی ٹی آئی کارکنان کو دیکھنا چاہیے کہ ان کی جماعت اپنے سابقہ مؤقف اور نظریئے سے پیچھے تو نہیں ہٹ گئی۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

آج کل تبدیلی کے خواہشمند نوجوانوں ایک جملہ کثرت سے دوہراتے ہیں کہ عمران خان ٹھیک ہے، پارٹی کے دیگر لیڈران نہ بھی ہوں تو کیا فرق پڑتا ہے؟ ایسا کہنا ہی کھلا تضاد ہے۔ نعرہ تبدیلی کا لگایا جائے جبکہ یہ معلوم بھی ہو کہ قیادت نے جس کا ہاتھ تھاما ہوا ہے اور جس کے گلے میں پارٹی کا جھنڈا ڈالا ہے وہ چور، کرپٹ، لینڈ مافیا اور موقع پرست ہے تو یہ عمل تضاد سے پڑھ کر منافقت ہے۔ اگر نواز شریف کو پارٹی سے نکال دیا جائے اور ن لیگ کسی اور کے ہاتھ میں دے دی جائے تو کیا وہ تبدیلی چاہنے والوں کو قابل قبول ہوگی؟ ہرگز نہیں، کیونکہ وہ ایک لیڈر ہی نہیں اس کی پوری ٹیم بھی اس کے جرم میں برابر کی شریک ہے۔

کیا ماڈل ٹاؤن قتلِ عام اور اسلام آباد دھرنے میں صرف شریف خاندان ملوث تھا؟ نہیں، بلکہ وزراء، پولیس، انتظامیہ، ارکان اسمبلی اور وہ پارٹی لیڈرز جو اس ظلم کو ڈیفینڈ کررہے تھے یا اس عمل کے بعد بھی اپنے مفادات کی وجہ سے ان کے ساتھ جڑے رہے، نہ صرف شامل جرم ہیں بلکہ حکومت کے تمام جرائم، کرپشن اور بری کارکردگی میں بھی ان سب کا حصہ ہے۔ اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان جرائم کی سزا صرف ایک خاندان کو دی جائے، ہاں ہر شخص جرم میں شراکت کے حساب سے اس کا مستحق ہے۔

اگر کوئی سیاستدان اقتدار کی اکھاڑ پچھاڑ اور باری کے بخار کی وجہ سے پارٹی بدل کر ایک صاف لیڈر کے ساتھ ہولیا تو کیا وہ پاک صاف ہوگیا؟ اگر وہ پاک صاف نہیں ہوا تو بطور کارکن آپ اسے کیسے سپورٹ کریں گے؟ اور کیا یہ اس کے جرائم میں آپ کی شراکت نہیں؟ جب جماعتیں اور ان کے لیڈران سمجھوتے کرتے ہیں تو پھر نظریہ پس پشت ڈالنا ہی پڑتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ تبدیلی کی جماعت نے کس حد تک سمجھوتہ کیا ہے؟

کارکنان کو دیکھنا چاہیے کہ ان کی جماعت اپنے سابقہ مؤقف اور نظریئے سے پیچھے تو نہیں ہٹ گئی؟

جنہیں آپ کی قیادت نے چور، قاتل یا ان کا ساتھی کہا، انہیں اپنے ساتھ تو نہیں بٹھا لیا؟

خان صاحب! پہلے تو آپ کہتے تھے کہ ہم ریفارمز کے بغیر الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ پھر کن شرائط اور کس کی گارنٹی پر ایک مرتبہ پھر وہی عمل دوہرایا جارہا ہے، جبکہ سابقہ عمل کو آپ نے خود ہی غلط بھی کہا تھا اور اس غلطی کا ایوان اور ٹی وی انٹرویوز میں برملا اظہار بھی کیا۔ آیا اس غلطی کا خمیازہ صرف پی ٹی آئی کو بھگتنا پڑا یا قوم اور ریاست کو بھی اس سے نقصان ہوا؟ ریاست اور عوام کو اس سے وہ نقصان پہنچا کہ جس کا ازالہ بہت مشکل ہے۔

کیا پی ٹی آئی نے اسمبلی کے فلور پر ناموسِ رسالتﷺ اور آئین کی شقوں 62، 63 کو حلف نامے سے نکالنے کے عمل میں سمجھوتہ نہیں کیا؟ اس سمجھوتے سے دین کی اساس (ختم نبوتﷺ) اور الیکشن میں شفافیت کو ختم کرنے کے جرم میں آپ کو شامل نہیں ہونا پڑا؟ کیا سینیٹ الیکشن میں سمجھوتہ نہیں کیا گیا؟ سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں اسی پیپلزپارٹی کو ووٹ نہیں دیا جسے بہت سے القابات سے نوازا گیا؟ کیا اس وقت ان کے جرائم سمجھوتے کی وجہ سے معاف ہوگئے تھے؟

کیا سینیٹ کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے اراکین نے لین دین نہیں کی جو انہیں پارٹی کی سیٹوں سے بڑھ کر ووٹ ملے۔ کیا یہ سمجھوتہ نہیں تھا؟ کیا سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کے اراکین کی بہت بڑی تعداد نے پارٹی فیصلے کے خلاف ووٹ نہیں ڈالا؟ پھر انہیں پارٹی سے نکالا گیا، اب جبکہ لوٹوں کو ٹکٹ دیا جارہا ہے تو کیا ان سے خیر کی توقع کی جاسکتی ہے؟

کیا پی ٹی آئی اراکین نے اسلام آباد دھرنے کے دوران اسمبلی سے استعفیٰ دینے کے عمل سے بغاوت نہیں کی تھی اور فارورڈ بلاک نہیں بنایا تھا؟ اس وقت تو صرف صوبائی اسمبلی کی حکومت تھی اور ٹکٹ بھی 2018 کی نسبت دیکھ بھال کر دیئے گئے تھے۔ لیکن اراکین اسمبلی نے اپنے مفادات کی خاطر علم بغاوت بلند کردیا۔ پھر موجودہ ممبرز سے نیک امید ایک دھوکا نہیں، جبکہ وہ پہلے ہی کئی پارٹیاں اور لیڈر بدل چکے ہیں؟

کے پی کے میں وہ پارٹی کہ جو پی ٹی آئی کے ساتھ شریک اقتدار تھی اور جس پر عمران خان نے خود کرپٹ ہونے کے الزامات کر حکومت سے باہر کردیا تھا، پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ اسی پارٹی کے ارکان کو دوبارہ حکومت میں شامل کیا گیا۔ کیا یہ فیصلہ عمران خان صاحب کی مرضی کے بغیر ہوا؟ اگر فیصلہ ان کی مرضی سے ہوا تو اس کا مطلب ہے خان صاحب نے سمجھوتہ کیا۔

آج پارٹی کے مرکزی عہدیداران مستقبل کے ذاتی فائدے کی خاطر دست و گریباں ہیں۔ اگر اقتدار کا حصول، تبدیلی اور عوام کی فلاح کےلیے ہے تو یہ لڑائی کیوں؟ اور پارٹی کے کارکنان جن کی امید ٹوٹی ہے وہ بنی گالہ اور پارٹی دفاتر کے باہر احتجاج کیوں کررہے ہیں؟

وہ پارٹی لیڈران جو آج پارٹی اور اس کی قیادت پر خرچ کررہے ہیں، کیا وہ ثواب کی نیت سے ایسا کررہے ہیں؟ بادی النظر میں یہ وہ سرمایہ کاری ہے جسے وہ سود سمیت وصول کریں گے۔ وہ سرمایہ کار جو پارٹی پر خرج کرتے ہیں، کیا انہوں نے کاغذات نامزدگی میں اپنے صحیح اثاثے اور ان کی قیمت ظاہر کی ہے؟ جو الیکشن پر کروڑوں خرچ کرے گا، وہ عوامی خدمت کےلیے کیا کرے گا؟ اس نظام میں جو بھی الیکشن پر پیسہ لگاتا ہے وہ اس کی سرمایہ کاری ہے جسے وہ سود سمیت مملکت پاکستان سے وصول کرتا ہے۔

اگر ماضی میں کسی بھی وجہ سے قیادت نے غلط فیصلے یا سمجھوتے کیے یا ان سے کروائے گئے تو کارکن آج کیسے کہتے ہیں کہ لیڈر ٹھیک ہے، باقی پارٹی سیاستدانوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟

فرق پڑتا ہے کیونکہ آپ کے لیڈر عمران خان صاحب ہیں لیکن آپ کی پارٹی تحریک انصاف ہے اور پارٹی کسی ایک شخصیت سے نہیں بنتی۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو ن لیگ اب ش لیگ ہوچکی ہے لیکن یہ آج بھی تبدیلی کے خواہش مند عوام کو قبول نہیں۔ مرغی کی نیت اور قابلیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، وہ گندے انڈوں سے بچے پیدا نہیں کرسکتی۔

پاکستان کی بھولی بھالی عوام کو سمجھ لینا چاہیے کہ تبدیلی کے لیے مختلف راستے تو اختیار کئے جاسکتے ہیں لیکن نظریئے پر سمجھوتے کرنے سے اقتدار میں حصہ ضرور مل سکتا ہے لیکن تبدیلی نہیں آسکتی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔