مستقبل مایوسی پر تعمیر نہیں کیا جا سکتا

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 4 جولائی 2018

شاید ہی کبھی کوئی تحریر ایسی بروقت لکھی گئی ہو جیسی کہ فرانس کے شہر لی ہاوغ نے سونے کے قلم سے اس بکس پر لکھی تھی جو فرینک کیلاگ کو پیش کیاگیا تھا جب انھوں نے پیرس جاتے ہوئے فرانس کے ساحل پر پہلا قدم رکھا تھا۔

فرانس اور دنیا کی دوسری بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے لیے 27 اگست 1928ء کو اورکہا تھا ’’اگر امن چاہتے ہوتو امن کے لیے کام بھی کرو‘‘ مستقبل کبھی مایوسی، شکوؤں، بداعتمادی، غم وغصے اور شک پر تعمیر نہیں کیا جاسکتا۔ سمجھ یقینا پہلی لازمی شرط ہوتی ہے۔

سب سے پہلے خود بیماری کی وجہ اور نوعیت کی سمجھ ہونی چاہیے۔ سمجھ ان رحجانات کی جو ہمارے وقت پر نظر رکھتے ہیں ایسی سمجھ یقینا ایک دن میں پیدا نہیں کی جا سکتی مگر اس کے حتمی حصول کی پہلی شرط سمجھنے میں سنجیدگی ہوتی ہے کہ یہ اس سمت میں پہلا بڑا قدم ہوتی ہے، ہمیں یاد رہے ’’اگر ہم خوشحالی، ترقی، سکھ اور سکون چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے لیے کام بھی کرنا ہوگا‘‘جہاں ہم نے اور بہت کچھ ترک کر دیا ہے وہاں ہم نے سوچنا اور ہنسنا بھی چھوڑ دیا ہے اب نہ تو ہمیں زندگی سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی اپنے آپ سے کوئی دلچسپی ہے، بس اس طرح جئے جا رہے ہیں جیسے یہ کوئی عادت ہو۔

جب حضرت عیسیٰ کے شاگردوں نے اس سے پوچھا کہ وہ تبلیغ کرتے وقت تمثیلیں کیوں بیان کرتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا ’’اس لیے کہ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی لوگ نہیں دیکھتے،کان رکھتے ہوئے بھی نہیں سنتے اور عقل رکھتے ہوئے بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے‘‘ ہم سب اس وقت شکوؤں والی گلی کے مکین ہیں بات کا آغاز بھی شکوے سے کرتے ہیں اور اختتام بھی شکوے پر ہوتا ہے، ہر بات پر شکوہ ہر چیز میں شکوہ ہر ایک پر شکوہ ایک دبلا پتلا مریض سا شخص ابھی کچھ تقریرکرکے بیٹھا ہی تھا کہ یارک شائر کے ایک تیز فہم اور دانشمند آدمی نے کہا ’’میں سمجھتا ہوں کہ جو بھائی ابھی بیٹھے ہیں، ان کا مکان گلوں شکوؤں والی گلی میں ہے میں بھی کچھ عرصہ وہاں رہ چکاہوں اور جتنے عرصہ میں وہاں رہا میری صحت کبھی اچھی نہ رہی۔

ہوا خراب، مکان خراب، پانی خراب۔ اس گلی میں تو پرندے بھی آکر نہیں چہچہاتے اور میں سدا غمگین اور اداس رہتا تھا پھر میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ میں نے مکان صبر وشکر والی گلی میں لے لیا ہے اس وقت سے میری اور میرے کنبے کی صحت اچھی ہے ہوا صاف ہے، مکان اچھا ہے سورج وہاں سارے دن چمکتا رہتا ہے، پرندے صدا لگاتے رہتے ہیں اور مجھے زندگی کا لطف آتا ہے میں اپنے بھائی کو صلاح دیتا ہوں کہ وہ بھی گلوں اور شکوؤں کی گلی والا مکان چھوڑ دیں صبر وشکر کے کوچہ میں بہت سے مکان کرائے کے لیے خالی پڑے ہیں.

مجھے یقین ہے کہ اگر ہمارے بھائی وہاں آجائیں تو وہ اپنے آپ کو تبدیل شدہ شخص پائیں گے مجھے تو ان کو اپنا پڑوسی دیکھ کر بڑی ہی خوشی ہوگی ‘‘ ہم سب اپنے لیے خوشحالی ، ترقی ، سکھ اور سکون تو چاہتے ہیں لیکن ان کے حصول کے لیے کچھ کر بھی نہیں رہے ہیں ہم آنکھیں،کان اور عقل بھی رکھتے ہیں لیکن انھیں استعمال بھی نہیں کررہے ہیں ہم سب ہیں تو مریض لیکن ہمیں اپنے مرض سے کوئی سروکار نہیں ہے ہم سب زندگی کو ایک عذاب سمجھ بیٹھے ہیں ۔گوئٹے ہم سے سوال کرتا ہے ۔

’’اگر ہم زندگی کو بڑی فکر والی چیز سمجھ لیں تو اس کی کیا قدروقیمت ہے اگر صبح جاگ کر ہم کوکوئی خوشیاں نہیں ملتیں ، اگر شام اپنے ساتھ نئی خوشیوں کی امید نہیں لاتی توکپڑے پہننا اور اتارنا کیا وقعت رکھتا ہے ؟کیا سورج آج مجھ پر اس لیے چمکتا ہے کہ میں گزرے ہوئے ایام پر غوروفکر کروں یا میں ان چیزوں کو قبل از وقت دیکھنے اور زیرکرنے کی کوشش کروں جو نہ قبل از وقت دیکھی جاسکتی ہیں اور نہ ہی زیر ہوسکتی ہیں یعنی آنیوالے ایام میں کیا کچھ مدعا ہے اس کی فکر کروں۔ ‘‘

چام فرٹ کہتا تھا وہ دن بالکل ہی ضایع شدہ خیال کرنا چاہیے جس دن ہم کو سہنی نہ آئی ہو ۔ ایڈورڈ دوئم بادشاہ انگلستان کے پرانے نسخہ جات کی کتب میں ہیوم کو ایک باب ملا ’’بادشاہ کو ہنسانے کے لیے‘‘ لنکن کہا کرتا تھا ’’اگرکبھی کبھی کھلکھلا کر ہنسنے کا عادی نہ ہو ں تو مر جاؤں‘‘ آلورونیڈل ہالمیز لکھتا ہے ’’کئی سال گزرے کوہ آئرن پر قبرستان میں پھرتے پھراتے میں نے ایک ایسی قبر دیکھی جس پر ایک سیدھا سادا سنگ مرمر کا ٹکڑا لگا ہوا تھا اور جس پر صرف چار لفظوں کا ایک کتبہ لکھا ہوا تھا گو لفظ چار تھے مگر آس پاس کے لمبے چوڑے کتبوں کی نسبت میرے خیال میں زیادہ پر معنیٰ تھے وہ لفظ یہ تھے ’’ She was so pleasant‘‘ صرف اتنا ہی کتبہ تھا اوریہ کافی سے زیادہ تھا اس ایک فقرہ سے ایک زندگی کی ہم آہنگی ظاہر ہوتی تھی۔

امریکی صدر لنکن کے میز کے درازکے ایک کونے میں لطائف وظرائف کی ایک کتاب پڑی رہتی تھی اور یہ اس کی عادت تھی کہ جب کبھی تھک جاتا یا رنجیدہ و ملول ہوجاتا تو اس کتاب کو نکال کر پڑھ لیتا ۔ ایمرسن کا قول ہے ’’اپنی دیواروں پر کوئی اداس و غمگین تصویر نہ لٹکاؤ اور اپنی گفتگو میں رنج و ماتم کا ذکر درمیان میں نہ لاؤ۔ سینیکا کہتا تھا ’’جو ضرورت سے پہلے رنج کرتا وہ ضرورت سے زیادہ رنج پاتا ہے‘‘ دنیا میں کہیں بھی کسی ایسے شخص کا کوئی وجود نہیں ہے جسے مسائل اور دکھوں کا سامنا نہ ہو۔

ہم سب ہمیشہ ہی سے مسائل اور دکھوں کے درمیان جیتے آئے ہیں اور جی رہے ہیں مسائل اور دکھوں کا وجود اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ ہم زندہ ہیں۔ صرف مُردوں کو مسائل اور دکھوں کا سامنا نہیں ہوتا ہے ہاں یہ صحیح ہے کہ کبھی وقت اچھا ہوتا ہے اورکبھی برا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ اس وقت ہمارا وقت برا چل رہا ہے ہمیں دنیا بھر کے لوگوں کے بر خلاف زیادہ مسائل اور دکھوں کا سامنا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم سب جینا ہی چھوڑ دیں اور مسائل اور دکھوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر اکڑوں بیٹھ کر ان سے معافی مانگنے لگ جائیں اور اپنے آپ کو ’’دکھ اور مسائل کی مخلوق‘‘ سمجھنا شروع کردیں۔

کسی روز آپ ٹھنڈے دل سے سو چیے گا کہ ہمیں اس کیفیت میں مبتلا کرنا کہیں ہمارے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش تو نہیں ہے۔ کہیں یہ سب ایک پلاننگ کے تحت تو نہیں کیاگیا ہے۔ جب آپ سوچیں گے تو آپ فوراً نتیجے پر پہنچ جائیں گے اور آپ کے ہونٹوں پر اسی وقت مسکراہٹ آجائے گی اس کے بعد آپ ہنستے ہوئے اٹھیں گے اور اپنی ’’خو شحالی، ترقی، سکھ اور سکون‘‘ کے لیے کام کرنا شروع کردیں گے پھر آپ جیئیں گے بھی اور ہنسیں گے بھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔