مفروروں کا دیس

آفتاب احمد خانزادہ  اتوار 25 نومبر 2018
aftabkhanzada2@yahoo.com

[email protected]

اب ہم سب مفرور ہوچکے ہیں ہمارا ملک مفرورستان بن کے رہ گیا ہے اپنی اپنی ذمے داریوں اور فرائض سے مفرور ، بین الاقوامی و ملکی کر پشن کے مفرور ، اخلاقی و معاشرتی خرابیوں کے مفرور، اوپر سے نیچے تک جہاں نظریں دوڑالیں ہر جگہ آپ کو بغیر ڈھونڈے مفرور ہی مفرور نظر آئیں گے ایک دوسرے سے چھپتے ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ، مفرور ایک دوسرے پر الزام دھرتے مفرور مضبوط پناہ گاہوں میں چھپے مفرور۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اپنے مفرور ہونے کے انہیں دس بیس نہیںبلکہ پورے ایک ہزار بہانے اچھی طرح سے رٹے ہوئے ہیں اور وہ ان بہانوں کو وجوہات قرار دیتے پھرتے ہیں بس آپ ان سے پوچھنے کی غلطی تو کرکے دیکھیں پھر آپ کو ایک سے ایک نایاب اور سنہری بہانہ سننے کو نصیب ہوجائے گا اور اس قدر تواتر کے ساتھ کہ تھوڑی ہی دیر میں آپ اپنی چپل چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوجائیں گے اور وہ صاحب بڑے غصے سے ’’بڑا پوچھنے آیا تھا ‘‘کہتے ہوئے اپنی پناہ گاہ کی طرف جارہے ہونگے ٹالسٹائی کے مطابق لوگوں نے زندگی کے سوالات سے بچنے کے لیے فرار کے چار مختلف طریقے اپنا رکھے ہیں فرار کا پہلا اور سب مقبول طریقہ جہالت ہے اس کے شکار افراد یہ جاننے اور سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے ہیں کہ زندگی لغو یا بے معنیٰ ہے وہ اس کے شر کو جانچنے سے قاصر ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو بدھ، بیکن ، سولن ، شوپنہار یا سقراط کی ذہنی سطح سے کوسوں دور ہیں انھوں نے کبھی عفریت موت کو اپنے طرف بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان چوہوں کو جو اس شاخ حیات کو کاٹ رہے ہیں جس سے وہ لٹکے ہوئے ہیں انہیں صرف شہد کے قطروں سے سروکار ہے جنہیں وہ متواتر چاٹ رہے ہیں دوسرا طبقہ لذت پسندوں کا ہے یہ سب مسرت کو فرار کا بہتر طریقہ قرار دیتے ہیں یہ طبقہ زندگی کے حقائق اور تلخیوں سے بخوبی آگاہ ہے لیکن کھانے پینے عیش و عشرت اور انبساط و کیف کو ہر شے پر ترجیح دیتا ہے وہ عفریت اور چوہوں سے بھی باخبر ہیں اور ان کی موجودگی میں شہد چاٹنے ہی کو بہترین حکمت عملی مانتے ہیں ہمارے گرد و پیش میں انسانوں کی بڑی اکثریت اسی فلسفہ حیات کے سہا رے جیتی ہے اور اسے ہی کامیاب تسلیم کرتی ہے یہ لوگ اپنی زندگی کے مثبت پہلوئوں اور مسرتوں کو ناکامیوں اور محرومیوں پر ترجیح دیتے ہیں ان کے خیال میں انہیں زندگی کی خوشیوں میں زیادہ اور بہتر حصہ ملا ہوتا ہے اپنی ذہنی اور اخلاقی کمتری یا کند ذہنی کے باعث وہ یہ سو چنے اور سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ زندگی میں انہیں حاصل ہونے والی بیشتر نعمتیں حادثاتی ہیں ، فرار کا تیسرا طریقہ طاقت اور مضبوطی کا ہے اس کا طریقہ کار یہ جاننے میں مضمر ہے کہ زندگی بے مقصد ، شر پر مبنی اورلا یعنی ہے ۔ فرارکا چوتھا راستہ کمزوری اور بے مائیگی کا راستہ ہے یہ اس زندگی سے چمٹے رہنے کا راستہ ہے جس کی لغویت سے ہر کوئی واقف اورآگاہ ہو اور یہ بھی جانتا ہو کہ آئندہ بھی اس سے کوئی نتیجہ حاصل ہونے کا امکان نہیں۔

ہم اس لحاظ سے خوش نصیب اور خود کفیل واقع ہوئے ہیں کہ ہمیں چاروں قسم کے مفروروں سے پالا پڑا ہوا ہے سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سارے مفرور ایک طرف تو اپنی پوری طاقت سے زندگی کی تمام لذتوں سے بھرپور لطف اندوز ہورہے ہیںزندگی کی تمام لذتوں پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں انہیں یرغمال بنائے بیٹھے ہیں اور دوسروں کے لیے حرام قراردیتے پھرتے ہیں ہیں اورجس جس کو جہاں جہاں موقع مل رہا ہے وہ مال غنیمت کو لوٹ کر موقع سے فرار ہورہا ہے اور دوسری طرف یہ سب حضرات اپنے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے معصوم اور سیدھے سادے لوگوں میں انتہائی خاموشی کے ساتھ بددلی اور مایوسی پھیلانے میں مصروف ہیں اگر آپ کو کہیں کوئی صاحب یہ کہتے ہوئے پائے جائیں کہ کچھ بھی کرلو کچھ بدلنے والا نہیں ہے 71 سالوں سے یہ ہی سب کچھ ہوتا آرہا ہے اور آئندہ بھی یہ ہی سب کچھ اسی طرح سے ہوتا رہے گا تو آپ انہیں اسی وقت پہچان لیجئے گا کہ یہ صاحب مفروروں کے ایجنٹ ہیں اور مفروروں کا کام خوبصورتی سے آگے بڑھا رہے ہیں یاد رکھیں دنیا میں ہم صرف واحد قوم نہیں ہیں جنہیں مفروروں سے پالا پڑا ہوا ہے ہم سے پہلے نہ نجانے کتنی قومیں مفروروں کو جھیل چکی ہیں ان کے کرتوتوں ، کرتبوں اور چالاکیوں، شاطر پن کو برداشت کرچکی ہیں پھر جب سب کچھ ان کی برداشت سے باہر ہوگیا اور پھر جب وہ اپنے مفروروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو پھر سب کے سب مفرور اپنے اپنے ملکوں سے ایسے فرار ہوئے کہ آج تک وہ مفروروں کی زندگی غیر ملکوں میں گذار ر ہے ہیں اور اپنے لوگوں کو دن رات کوسنے میں مصروف ہیں عظیم یونانی فلسفی پامنائی ڈیز نے کہا تھا ’’ جو کچھ بھی کہا جاتا ہے اور سو چا جاتا ہے وہ ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ موجود ہواور یہ ممکن نہیں ہے کہ جو چیز نہ ہو وہ وجود رکھتی ہوکوئی شے جوسوچی جا سکتی ہے اور جس کی خاطر سو چا جاسکتا ہے دونوں ایک ہیں کیونکہ تم کسی شے کے نہ ہونے پر کچھ سوچ نہیں سکتے ۔

’’ اوڈیسی‘‘ کایہ اقتباس ہمارے لیے ہی ہے کہ ’’ بیزار روحو! تم پر کونسی مصیبت کی گھڑی آنے والی ہے رات تمہارے سروں اور پیروں کو ڈھکے ہے تمہارے قدموں تلک صف ماتم چار جانب بچھی ہے رخسار لتھڑے پڑے ہیں سائبان بھرا پڑا ہے کمرے میں جمگھٹا ہے بھوتوں کا جو جانب جسم اور تاریکی رواں دواں ہیں آسمان میں آفتاب سرد ہوچکا ہے ملگجا کہرا سارے میں پھیلا ہے ‘‘ ظاہر ہے جوکچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے اس سے زیادہ اور براتو ہی نہیں سکتا ہے اگر ہم نے اپنے لیے یہ ہی سب کچھ سو چ رکھا تھا تو پھر جانے دو لیکن اگر ہم نے اپنے لیے ایک خو شحال، کامیاب بے فکر پر سکون پر اطمیان پر مسرت زندگی کے خواب دیکھ رکھے تھے تو پھر تم ہی بتائو کہ تم اپنے خوابوں کی اتنی تذلیل کیوں کررہے ہو ان کی اتنی بے عزتی کیوں کررہے ہو بیزار روحوں تم پر اب اور کونسی مصیبت کی گھڑی آنے والی ہے جتنی بھی مصیبتیں ہیں تم سب کی سب جھیل چکے ہو اسی جہنم کے علاوہ کوئی اورجہنم دنیامیں نہیں ہے ان بھوتوں کے علاوہ اور کوئی بھوت نہیں ہیں ان مفروروں کے علاوہ اور کوئی مفرور نہیں ہیں لہذا آئو اب وقت سبق سیکھنے کا نہیں بلکہ سکھانے کا آگیاہے اب مفروروں اوربھوتوں کو گھر میں چھپانے کا نہیں بلکہ نکالنے کا وقت آ گیا ہے آئو اپنے تمام مفروروں اور بھوتوں کواپنی دنیا سے مفرور ہونے پر مجبور کردیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔