بھارت اور افغانستان ہوش کے ناخن لیں

ایڈیٹوریل  پير 16 ستمبر 2019
ہمسایوں کے گھر میں چھوڑے گئے سانپ کل آستین کے سانپ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ہمسایوں کے گھر میں چھوڑے گئے سانپ کل آستین کے سانپ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان اور دیر میں پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے حملوں میں پاک فوج کے 4جوان شہید اور ایک زخمی ہوگیا، آئی ایس پی آر کے مطابق مغربی سرحد پر دو واقعات میں پاک فوج کے چار جوان شہید ہوگئے ۔

شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں جمعہ کی رات دیر گئے اباخیل کے قریب سیکیورٹی فورسز کی پارٹی معمول کے گشت پر تھی کہ شرپسندوں نے اس پر فائرنگ کردی۔فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا سپاہی اخترحسین شہید ہوگیا اور جوابی کارروائی میں دو شرپسند بھی مار ے گئے۔

دوسرے واقعہ میں دیر کے علاقے میں پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں نے باڑ لگانے میں مصروف پاک فوج کے دستوں پر فائرنگ کی جس سے تین فوجی جوان شہید جب کہ ایک زخمی ہوگیا۔ ادھر کنٹرول لائن پر حاجی پیر سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کا حوالدار شہید ہو گیا۔ بھارتی فوج نے نکیال اور جند روٹ سیکٹر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس سے سرحدی گاؤں بالا کوٹ میں ایک خاتون شہید ہو گئی جب کہ چار خواتین سمیت8افراد زخمی ہوئے۔

پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلو والیا کو دفتر خارجہ طلب کرکے کنٹرول لائن پر ہونے والی فائرنگ پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو بھی طلب کیا اور سرحد پار سے فائرنگ کے واقعے پر شدید احتجاج کیا۔

ایک ہی روز میں مغربی اور مشرقی سرحد پر پاک فوج کے پانچ جوانوں کی شہادت ایک افسوسناک واقعہ ہے‘ بھارت کی جانب سے سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کی بنیاد میں چھپے ہوئے نفرت آمیز رویے کی تو سمجھ آتی ہے لیکن افغان سرحد کی جانب سے دہشت گردوں کے حملے انتہائی تشویش اور خطرے کا مظہر ہیں‘ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے افغانستان کے اندر کچھ قوتوں نے غیرعلانیہ گوریلا وار شروع کر رکھی ہے۔ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے ہی پوری سرحد پر خاردار تار کی تنصیب کے علاوہ چوکیاں تعمیر کی جا رہی ہیں۔

پاکستان کے بارہا احتجاج کے باوجود افغان حکومت نے دہشت گردوں کی سرحد پار کارروائیوں کی روک تھام اور سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔ افغان حکومت کو یہ حقیقت نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمسایوں کے گھر میں چھوڑے گئے سانپ کل آستین کے سانپ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

دہشت گردی نے پاکستان اور افغانستان کے سیاسی اور معاشی استحکام کو شدید نقصان پہنچایا‘ علاقائی استحکام کے لیے پاکستان افغانستان کو دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کی بھی بارہا پیشکش کر چکا ہے مگر اس کی جانب سے اس کا مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مشرقی اور اب مغربی سرحد پر ہونے والی فائرنگ اور دہشت گردی کے واقعات نے پاکستان کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔

پاک فوج ان مسائل سے نمٹنے کے لیے تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ بھارت 2003 کی جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کو یقینی نہیں بنا رہا‘ سرحدوں پر آئے دن ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری اس کے جارحانہ عزائم کی غماز ہے۔ پاکستان سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے تمام معاملات کو بڑے تحمل سے ہینڈل کر رہا ہے‘ اسے ادراک ہے کہ دشمن خاص منصوبہ بندی کے تحت اسے اشتعال دلا کر خطے میں جنگ چھیڑنا چاہتا ہے۔

بھارت کا خیال ہے کہ پاکستان اس وقت مغربی سرحد پر بھی الجھا ہوا ہے‘ اس کی معاشی اور اقتصادی حالت بھی کوئی قابل رشک نہیں لہٰذا یہ حالات جنگ کے لیے کارساز ہیں جس میں پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ اپنے ان مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ پاکستان کے اندر کچھ شرپسند عناصر کی بھی معاونت کر رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ان تمام سازشوں سے بخوبی آگاہ ہے اور وہ ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے جرات اور ہمت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر ہاٹ ایشو ہے پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانے پر زور دے رہا ہے مگر بھارت مذاکرات کے بجائے جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کرفیو‘ پابندیوں اور ذرائع مواصلات کی بندش کو 41روز گزر چکے ہیں‘ وادی میں معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج ہیں اور لوگوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے‘ وادی میں بعض مقامات پر بنیادی اشیائے ضروریہ کی بھی سخت قلت پیدا ہو گئی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیریوں کو بولنے دے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارتی فوج کے محاصرے اور کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر کا علاقہ دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔ بھارتی مظالم کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لیے پاکستان سفارتی محاذ پر بھرپور کام کر رہا ہے۔ کشمیری برطانیہ‘ امریکا اور یورپ کے دیگر ممالک سمیت دنیا بھر میں  بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا آزادی کا حق مانگ رہے ہیں۔ بظاہر انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کر رہی ہیں لیکن اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی قوتیں مسلسل خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

جس طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کے لیے ظلم و ستم روا اور سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اقوام متحدہ اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دیتی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاٹ ایشو ہے جس پر کسی بھی وقت شروع ہونے والی فائرنگ بڑی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔

دونوں ممالک ایٹمی اور میزائلی قوت ہیں اگر کسی نے بھی ان مہلک ہتھیاروں کو استعمال کرنے میں پہل کر دی تو پھر یہ خطہ خوفناک تباہی اور بربادی کا شکار ہو جائے گا۔ پھر نہ کوئی فاتح ہو گا اور نہ مفتوح۔ اسی بربادی اور تباہی کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان جنگ سے گریز کرتے ہوئے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اب عالمی قوتوں اور اقوام متحدہ پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاک بھارت کشیدگی اور تناؤ کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کریں اور بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو کا فی الفور خاتمہ کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے۔ یہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔بھارت اور افغانستان کی حکومتوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور خطے کے امن کو سبوتاژ نہیں کرنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔