آصف علی زرداری : مجرم نہیں پھر بھی مسلسل قید میں

بختاور بھٹو زرداری  اتوار 22 ستمبر 2019

شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کے آگے ملک کی دھماکا خیز صورتحال تھی۔ انھیں قوم کی ڈھارس بندھانی تھی اور غمزدہ، غضبناک اور زخم خوردہ پارٹی کو متحد بھی رکھنا تھا۔ آپ اتنے عظیم نقصان کی تلافی کیسے کرسکتے ہیں؟ آپ آگے بڑھنے کی کیا راہ نکال سکتے ہیں؟

انھیں نے “پاکستان کھپے” کے نعرے اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ویژن پر مشتمل نعرے “جیئے بھٹو” کو ایک ساتھ ملانے پر راہ سجھائی دی۔ تقریباً ہر روز ہونے والے دھماکوں کے باعث ایک ناکام ریاست قرار دیے جانے سے پاکستان اتنا ہی دور تھا، جتنا سر کے بال آغازی لکیر کے باعث ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں۔ 2008ء میں آنیوالی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے آگے بہت سارے چیلنجز تھے۔ یہ آصف علی زرداری ہی تھے جو سیاسی افراتفری و قدرتی آفات اور دہشت گردوں کی دھمکیوں کے باوجود وہ آگے بڑھے، کسی قسم کی خونریزی، داخلی انتشار یا مواخذے کے بغیر ہی مشرف کی چْھٹی کرائی، اپنی مرحوم اہلیہ کے ویژن کو زندہ رکھا اور جمہوریت کی بنیادوں کو ازسرِ نو مضبوط کیا۔ یہی وہ عظیم مقصد تھا جس کے لیے شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دی تھی۔

صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کی جانب سے اٹھائے گئے بہت سارے اقدامات میں سے ایک صدارتی اختیارات کو خندہ پیشانی کے ساتھ پارلیمان کو منتقل کرنا تھا جس سے پارلیمان کی بالادستی بحال کی گئی۔ ماضی میں مذکورہ اختیارات کو سابق ڈکٹیٹرز منتخب حکومتوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

اس طرح کے اقدامات سے وہ تاریخ میں ایسا پہلا صدر بن کر ابھرے، جو رضاکارانہ طور اپنے اختیارات سے دستبردار ہوگیا۔ مفاہمت و ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم ہونے والی ان کی مخلوط حکومت نے بیشمار ناقابلِ فراموش کامیابیاں حاصل کیں، جن میں ملک کا پہلا سوشل سیفٹی نیٹ یعنی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اجراء شامل ہے، جو اب کم آمدنے والے خاندانوں کی خواتین کے لیے  کفالت کا اہم ذریعہ ہے۔

انھوں نے 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مزید اختیارات دیے و وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا۔ اس دوران عالمی کساد بازاری اور دہشت گردی عروج پر تھے، جبکہ اس دوران ان کا مقررکردہ گورنرِ پنجاب کو بڑی ہی بے رحمی سے شہید کردیا گیا؛ ان کے وفاقی وزیرِ برائے اقلیتی امور کو بھی قتل کردیا گیا۔ حالات بہت ہی خطرناک تھے، حکومت کو ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑتا تھا۔ اس سے قبل کسی بھی منتخب حکومت کو اپنا ٹرم پورا کرنے بھی نہیں دیا گیا تھا۔

2013 کے عام انتخابات کے متعلق شدید تحفظات اور الیکشن مہم میں پاکستان پیپلز پارٹی کو یکساں مواقع کی عدم فراہمی کے باوجود، صدر آصف علی زرداری نے ایک سے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار کی منتقلی کو اپنی زیرِ سرپرستی یقینی بنایا۔ یہ عمل پاکستان میں جمہوریت کی ارتقا کے لیے انتھائی غیرمعمولی اہمیت کا حامل تھا۔ 2018کے انتخابات سے قبل ہی عوام نے پاکستان کو ایک بار پھر ماضی کی طرف واپس لوٹتے ہوئے اور پرانے ہتھکنڈوں اور حربوں کا استعمال دیکھا۔ اب کی بار عمران خان کو آگے لایا جا رہا تھا۔

عمران خان نے اپنی پوری انتخابی مہم بے بنیاد دعوؤں پر چلائی اور مکمل طور مبالغہ آرائی پر مبنی انتخابی نعرے لگائے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ حزب اختلاف کے سیاستدانوں کے بیرونِ ممالک چھپائے ہوئے 200 ارب ڈالرز واپس ملکی خزانے میں جمع کرائے گا، جس سے پاکستان مالامال ہوجائے گا۔ یہ معاملہ فقط ایک سیاستدان کی مہم تک محدود نہیں تھا، بلکہ ملک میں منظم طریقے سے سیاسی افراتفری و انتشار پھیلایا گیا اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز پالیسیوں کے بجائے ایک شخص کو بنایا گیا۔ گذشتہ 10 سالوں کے دوران اقتدار میں آنے والے سیاسی قائدین کے خلاف جلسوں میں زہر اْگلا گیااور مذہبی جنونیت کو ہوا دی گئی۔

اس مہم کے تمام نعرے دیکھیں، کہتے ہیں پاکستان میں جتنے بھی مسائل ہیں، ان کا سبب فقط بدعنوانی ہے۔ اسے عرصے کے دوران عمران خان یہ کہتا رہا ہے کہ پاکستان میں بہترین ادوار فوجی آمریت کے تلے 1960کی دہائی اور 2000 کے آغاز والا عرصہ تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے پاکستان میں کبھی بھی جمہوریت کو بغیر کسی مداخلت کے پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

لیکن مذکورہ حربے کے ذریعے عمران خان درحقیقت جو کام کر رہا تھا وہ عوامی حکومتوں کے خلاف نفرت کے ماحول کو تقویت دینا تھا۔ وہ پارلیمان کے اجلاسوں میں یہ بول کر شریک نہیں ہوا کہ یہ عمل وقت کا ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں۔ وزیراعظم ہاوَس کی اس طرح سے ملامت کرتا رہا، جیسے وہ زرداری یا شریف کی ذاتی ملکیت ہو۔

اس پروپیگنڈہ کے بھرپور پشت پناہی کی گئی، اس پر پیسہ بھی لگایا گیا اور اس طرح عوام کا ذہن تیار کیا گیا۔ اس مہم کے دوران ایک تکرار آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر مبنی تھی۔ ان باتوں سے یہ واضح ہوگیا تھا کہ یہ تمام اقدامات ایک شخص کے خلاف انتقامی کاروائی کے علاوہ کچھ نہیں۔ آنے والے چند ہفتوں کے دوران، آصف علی زرداری کے خلاف بینکنگ کورٹ کراچی میں زیرسماعت معاملات کو یکایک ملک کی سب سے بڑی عدالت، سپریم کورٹ کے سامنے لاکر رکھ دیا جاتا ہے اور کہا گیا کہ جعلی بینک اکاوَنٹس کے متعلق “تحقیقات سست روی کا شکار” ہے۔

یہ اپنی نوعیت کا ایک غیرمعمولی اقدام تھا، کیونکہ قانون میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ نجی بینکوں کے درمیان رقم کی منتقلی کے متعلق جاری تفتیش کو سست روی کا شکار تصور کیا گیا ہو۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنی بصیرت کو توسیع دیتے ہوئے اس معاملے کو بنیادی حقوق کا معاملا قرار دیا اور آرٹیکل 184-3 کے تحت اس پر ازخود نوٹیس بھی لے لیا۔

یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اس وقت سست روی کیونکر قانونی جواز نہیں بنتی، جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا معاملہ 1979اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ2007دہائیاں گذرنے کے باوجود تاحال معزز عدالتوں میں زیرِ التویٰ ہیں۔ کردار کشی کی اس تمام مہم کے باوجود آصف علی زرداری 26 جولائی 2018 کو انتخابات میں اپنے حلقے سے جیت گئے۔

اْن کے اسلام آباد پہنچنے کے تصور سے بہت سی پیشانیاں شکن آلود ہوچکی تھیں۔ عام انتخابات کا دن مکمل طور افراتفری کا شکار رہا اور اس موضوع پر ایک مکمل باب لکھنے کی ضرورت ہے، لیکن اس دن کس طرح کھلم کھلا الیکشن ایکٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ میرے والد سیاسی منظرنامے سے ہٹ جائیں، لیکن اس کے باوجود عوام نے انھیں ووٹ دے کر قومی اسمبلی کا رکن منتخب کیا اور انھیں ملک کے عین مرکز دارالخلافہ پہنچا دیا تاکہ وہ جمہوریت کے ادارے اور پارلیمانی بالادستی کی حفاظت کرسکیں، جو کہ وہ یہ کام بڑے محتاط انداز اور ذمے داری سے کرتے آئے ہیں۔

وہ دن جب ایوان وزیراعظم کو منتخب کرنے کے لیے جمع ہوا، آصف علی زرداری کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کر دیئے گئے۔ بجائے اس کے کہ وہ پارلیمان میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے، ضمانت کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور کردیئے گئے۔ یقینا یہ دہشت گردی کو فنڈز دینے، یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کا کیس نہیں تھا۔ محض پراپیگنڈے کے زور پر تمام معاملہ اچھالا گیا۔

عوام کو بہت جلد اندازہ ہوگیا کہ تحریک انصاف حکومت کرنے جیسی ذمے داری کے کبھی لائق تھی ہی نہیں۔ اس کے سامنے اگر کوئی تصور تھا تو وہ انتہائی بے سروپا تھا۔ عوامی زبان میں کہیں تو اْنھوں نے قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا۔ ابہام اور دوغلے پن کا شکار حکومت کو احساس ہوگیا کہ ملک چلانا تو اس کے بس سے باہر ہے۔ چنانچہ اْنھوں فسطائی رویہ اپناتے ہوئے جابرانہ ہتھکنڈے اپنانے اور اپوزیشن کی کردار کشی، الزام تراشی اور دھمکیوں کو اپنا وتیرہ بنالیا تاکہ عوام کی توجہ اْن کی نااہلی پر نہ جائے۔

لحاظہ اس دوران عوام کے حقوق پر قدغنیں اور پریس کی آزادی کو دبانا شروع کردیا گیا۔ وہ ان تمام کامیابیوں کو ختم کرنا چاہتے تھے، جو آصف علی زرداری نے اپنے دورِ حکومت میں حاصل کیں تھیں۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بھاری مینڈیٹ کے ساتھ قائم صوبائی حکومت بھی ان کے نشانے پر تھی اور وہ اسے destabilise کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے 18ویں ترمیم کی کھلم کھلا مخالفت کرنا شروع کردی اور صوبوں کو فنڈز کی فراہمی پر بھی اعتراضات اٹھانے لگے۔ اس طرح کے مباحثوں میں کمال مہارت کے ساتھ اراکین سندھ کابینہ کے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔