برفانی تیندوا، جس کی بدولت ہزاروں بچے اسکول پہنچ سکے

شبینہ فراز  جمعرات 28 نومبر 2019
برفانی تیندوے کی نسل شدید خطرات سے دوچار ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

برفانی تیندوے کی نسل شدید خطرات سے دوچار ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاکستان کے دلکش شمالی علاقوں میں پہاڑوں کے سائے تلے چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں میں دل لبھانے والی کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ یہ وہاں کے انسان، ماحول اور جنگلی حیات کو آپس میں جوڑتی، حوصلوں کو مہمیز کرتی کہانیاں ہیں۔ سچ کہتے ہیں کہ سفر وسیلۂ ظفر ہے۔ آپ کا ایک سفر عرفان و ادراک کے کتنے در وا کردیتا ہے۔ آئیے ایسی ہی ایک خوبصورت کہانی تک پہنچتے ہیں۔

وہ ایک خوبصورت روشن دن تھا۔ ایسے سعادت بھرے دن روشن ہی ہوتے ہیں۔ اطالوی خاتون تانیہ روزن بلند پہاڑوں سے گھری ایک جنت نظیر وادی بھاشا میں گھوم پھر کر وادی کی خوبصورتی دیکھ رہی تھیں کہ ان کی نظر گھروں کی کھڑکیوں سے جھانکتی بہت سی معصوم اور کمسن لڑکیوں پر پڑی، جو انہیں حیرانی سے دیکھ رہی تھیں۔ یہ لڑکیاں اس وقت گھروں پر کیا کررہی ہیں؟ انہیں تو اسکول میں ہونا چاہیے۔ معلوم کرنے پر وہ ششدر رہ گئیں، انہیں شدید جھٹکا لگا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں، کیونکہ ان کے والدین بہت غریب ہیں اور اگر تھوڑے بہت وسائل ہوں بھی تو وہ لڑکوں کو پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ وہ لڑکوں کو اپنا مستقبل سمجھتے ہیں اور اسے سنوارنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

تانیہ روزن جنگلی حیات کی بقا کے حوالے سے کام کرنے والے بہت سے اداروں سے وابستہ رہی تھیں اور وہ آئی یو سی این کے ’’کیٹ اسپیشلسٹ گروپ‘‘ کی ممبر بھی ہیں۔ وہ 2010 میں پاکستان کے شمال میں برفانی چیتے کی بقا کےلیے جاری منصوبے کو دیکھنے پاکستان آئی تھیں، جب ان پر یہ دل فگار انکشاف ہوا کہ وادی بھاشا کی کوئی بچی اسکول نہیں جاتی۔ آگے کی کہانی ہمیں بلتستان وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غلام محمد نے اسکردو میں قائم اپنے آفس میں سنائی۔

غلام محمد تانیہ کے ساتھ تھے جب تانیہ روزن نے اپنے ہاتھ میں پکڑے لفافے پر ہی جمع تفریق کرکے حساب لگایا کہ صرف 2100 ڈالرز میں یہ 76 بچیاں اسکول جاسکتی ہیں۔ یہ رقم ان کی کتابوں، یونیفارم اور جوتوں کےلیے کافی ہے۔ ایک لمحہ سوچے بغیر تانیہ نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ رقم مہیا کردیں گی۔ انہوں نے غلام محمد کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور پہلا فون اپنی دس سالہ بیٹی بیانکا کو کیا اور بتایا کہ یہاں تمھاری عمر کی بہت سی بچیاں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اسکول نہیں جاسکتیں، اس لیے ہم ان کےلیے فنڈ جمع کریں گے۔ فراخ دل ماں کی فراخ دل بیٹی نے فوراً دس ڈالرز اپنی طرف سے عطیہ کردیے۔ یوں دس سالہ بچی بیانکا اس کارخیر کی پہلی ڈونر تھی۔ وہ کارخیر جس کی روشنی اب 1700 لڑکیوں اور 1200 لڑکوں کی زندگی کو منور کررہی ہے۔

گلگت بلتستان قدرت کے عظیم شاہکار تین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے، بلندوبالا برفانی چوٹیوں، دودھیا آبشاروں، مترنم جھرنوں، جھاگ اڑاتے شفاف ندی نالوں، انواع و اقسام کے پھول، پودوں اور جنگلی حیات کی دولت سے مالامال ہیں۔ یہ بلندوبالا پہاڑ دنیا کے نایاب جانداروں کا مسکن ہیں۔ ان میں برفانی چیتا، کالا ریچھ، بھورا ریچھ، بھیڑیا، لومڑی، مارخور، مارکوپولو شیپ، بلیو شیپ، لداخ اڑیال اور لدھڑ وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں بھورا ریچھ اور برفانی چیتا انتہائی نایاب اور بقا کے خطرے سے دوچار ہیں۔

برفانی چیتا (Uncia uncia) عموماً سطح سمندر سے 17,000 فٹ کی بلندی پر رہتا ہے، لیکن سردیوں میں خوراک کی تلاش میں نیچے اتر آتا ہے۔ یہ برفانی چیتا پاکستان کے علاوہ چین، نیپال، افغانستان، ہندوستان، منگولیا، بھوٹان، تاجکستان، کرغیزستان، ازبکستان اور قازقستان میں بھی پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے اس کے مسکن ہیں۔

ایک محتاظ اندازے کے مطابق پوری دنیا میں برفانی چیتوں کی تعداد چار سے چھ ہزارتک ہے اور پاکستان میں دو سو سے چار سو کے قریب برفانی چیتے موجود ہیں۔ برفانی چیتا اکثر مقامی آبادی کے مویشیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لیے مقامی لوگ اس کو مار دیتے ہیں۔ یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ اگر اسی طرح اس کی آبادی گھٹتی رہی تو آئندہ چند سال میں روئے زمین سے اس نایاب جاندار کا وجود مٹ جائے گا اور ماحولیاتی طور پر ایک بہت بڑا نقصان ہوگا۔ یاد رہے کہ برفانی چیتے کو بقائے ماحول کی انجمن آئی یو سی این نے بقا کے خطرے سے دوچار جانداروں کی سرخ فہرست (ریڈ لسٹ) میں شامل کیا ہے۔

یہ برفانی چیتے کی بقا کے منصوبے کا ہی سلسلہ تھا جس کےلیے تانیہ روزن یہاں آئی تھیں۔ وہ بھاشا وادی کے سبری گاؤں میں موجود تھیں اور یہاں کی بچیوں کے اسکول میں داخلے کےلیے انہوں نے درکار رقم کا حساب کتاب کرلیا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ بھی تھا کہ صرف سبری وہ واحد گاؤں نہ تھا جہاں کی بچیاں اسکول نہیں جاتی تھیں، بلکہ یہاں تو ہر گاؤں کا یہی حال تھا اور اگر کہیں اسکول موجود تھے تو وہاں سے اساتذہ غائب تھے۔

اسی سال تانیہ روزن کو ایک ماہر تعلیم جینیویئیو اور ان کے کوہ پیما شوہر ڈاؤگ شابوٹ کے بارے میں علم ہوا کہ وہ گلگت بلتستان میں ایک ایسی تنظیم قائم کرنا چاہ رہے تھے جو لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی دے سکے۔ تانیہ نے انہیں وادیٔ بھاشا کی ان لڑکیوں کے بارے میں بھی بتایا جو اسکول نہیں جاسکتی تھیں۔ ان دونوں میاں بیوی نے ان علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کےلیے اقرا فنڈ قائم کردیا۔ اس فنڈ کی بدولت بے شمار لڑکے اور لڑکیاں اسکول پہنچ گئے۔ ان میں کچھ لڑکیاں ایسی بھی ہیں جو اپنی نسل کی پہلی لڑکی ہیں جو اسکول پہنچ پائی ہیں۔ یہ دونوں میاں بیوی سال میں کئی چکر ان علاقوں کے لگاتے ہیں۔ ان مہربان لوگوں کی فہرست میں بشریٰ فاروقی بھی ہیں جو لندن میں رہائش پذیر ہیں۔ غلام محمد جب ایک تربیتی کورس کےلیے لندن گئے تو ان کی ملاقات بشریٰ سے ہوئی۔ انہوں نے بھی ان علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا، کوہ پیمائی بھی کی اور اسکول بھی دیکھے اور ان علاقوں میں علم کی روشنی پھیلنے کی جو کوشش جاری تھی، اس میں اپنا حصہ ڈالا۔

اس علاقے میں ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کا آغاز 1999 ہوا۔ بلتستان وائلڈ لائف اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے چیئرمین شفقت حسین نے، جو اس وقت امریکا کے ٹرینٹی کالج میں بشریات کے پروفیسر تھے، بلتستان کے دو دیہاتوں میں برفانی چیتے کے تحفظ کےلیے انشورنس کا منصوبہ شروع کیا تھا، جس کےلیے مالی تعاون برطانیہ کی رائل جغرافیائی سوسائٹی اور امریکا کی برفانی چیتے کے تحفظ کی تنظیم نے فراہم کیا تھا۔ یہ منصوبہ اب 22 دیہاتوں تک پھیل چکا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف برفانی چیتے کو تحفظ فراہم کیا گیا، بلکہ اس کے تحت 2006 سے 2012 تک مقامی لوگوں کو 206 مویشیوں کےلیے زرتلافی بھی ادا کیا گیا، جو برفانی چیتوں کا شکار بنے تھے، تاکہ گاؤں والے چیتے کے شکار سے باز رہیں، کیونکہ وہ برفانی چیتوں کو اپنی بکریوں اور دیگر مویشیوں کےلیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

غلام محمد نے مزید بتایا کہ اردگرد کے گاؤں میں تقریباً پندرہ سو سے سولہ سو گھرانے آباد ہیں۔ ان میں سے چالیس فیصد نے اپنے مویشیوں کا بیمہ کروالیا ہے۔ لیکن مقامی افراد کی بہت بڑی تعداد اب بھی ایسی ہے جو اس عمل سے دور ہے، کیونکہ یہ ان کی استطاعت سے باہر ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس منصوبے کو کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کی کامیابی کا ثبوت یہ ہے کہ اب ایسے ہی منصوبے چین، بھارت اور نیپال میں بھی شروع کیے جارہے ہیں۔ غلام محمد نے مزید بتایا کہ ہم مختلف چراگاہوں میں مویشی خانوں کی تعمیر کررہے ہیں، تاکہ مویشی برفانی چیتے کے حملے سے محفوظ رہیں۔ کیمرا فکسنگ اور مقامی آبادی میں برفانی چیتے کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی بھی دے رہے ہیں۔

 

 

برفانی چیتے کو کیوں بچایا جائے؟

برفانی چیتا صحت مند قدرتی ماحول خصوصاً بلندوبالا چراہ گاہوں، جنگلات کی صحت کا ضامن اور بہتری کی علامت ہے۔ اس کا قدرتی نظام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ہے۔ مثلاً یہ دوسری جنگلی حیات کا شکار کرتا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف ان کی آبادی کنٹرول کرتا ہے بلکہ بیمار جنگلی جانوروں سے ماحول کو صاف رکھتا ہے۔ اس طرح انسان اور مویشی کئی مہلک بیماریوں سے بچ جاتے ہیں۔

برفانی تیندوے تنہائی میں اور چھپ کر رہتے ہیں، اس لیے قدرتی ماحول میں بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا سراغ لگانا یا ان کا سروے کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آج وسطی ایشیا کے پہاڑی علاقوں میں 6 ہزار کے قریب برفانی تیندوے موجود ہیں اور تقریباً 6 سے 7 سو تیندوے دنیا کے چڑیا گھروں میں موجود ہیں۔

بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این نے اپنی بقا کے خطرے سے دوچار جانداروں کی ریڈ لسٹ میں برفانی تیندوے کو شامل کیا ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی انہیں مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ شکاری کھال کی غرض سے ان کا شکار کرتے ہیں اور چرواہے اکثر مویشیوں کو ان کے حملے سے بچانے کی غرض سے مار دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پہاڑوں میں مارخور کی کم ہوتی تعداد، جو کہ ان تیندوؤں کا فطری شکار ہوتا ہے، اور ان کے سکڑتے ہوئے قدرتی ماحول، ان سب چیزوں نے مل کر برفانی تیندوؤں کی نسل کا مستقبل غیریقینی بنادیا ہے۔

برفانی تیندوے کی نسل شدید خطرات سے دوچار ہے، کیونکہ اس کی کھال غیر قانونی مارکیٹ میں انتہائی قیمتی سمجھی جاتی ہے۔ چرواہے بھی اپنے مویشیوں کو اس سے بچانے کےلیے اسے مار دیتے ہیں۔ لیکن اب یہ ضرور ہوا ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ برفانی چیتا ہی ان کے علاقے میں علم کی روشنی پھیلانے کا سبب بنا ہے۔ لہٰذا اس کی حفاظت کی کوششوں میں ہاتھ بٹایا جائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔