مناسب غذا اور ورزش کے فوائد

ظہیر احمد طاہر  پير 28 ستمبر 2020
متوازن غذا اور ورزش سے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

متوازن غذا اور ورزش سے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

جس طرح زندگی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی عطا ہے اسی طرح اچھی صحت بھی قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ زندگی کی خوشیوں اور مسرتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کےلیے تندرستی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دراصل تندرست انسان ہی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں اور لذتوں سے بھرپور لطف اُٹھا سکتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ نظام قدرت نے ہماری صحت کی حفاظت اور ہمارے جسم کو مناسب وقت تک برقرار رکھنے کےلیے ہمارے جسم میں ایسا خودکار نظام وضع کیا ہے جس پر غور کرنے سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

انسانی جسم میں بیماریوں اور اُن کی شفایابی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیشہ اور ہر وقت جاری رہتا ہے۔ انسانی جسم کے اندر ایک خودکار مدافعتی نظام ہر وقت متحرک رہتا ہے جو ہمارے جسم میں پیدا ہونے والی بے شمار بیماریوں کو خودبخود ختم کردیتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے منہ میں روزانہ بے شمار ایسے جراثیم پیدا ہوتے ہیں جو مختلف اعضا اور خاص طور پر ہمارے دل کےلیے نہایت مضر ہوتے ہیں۔ لیکن جب کوئی انسان تیز تیز چلتا ہے اور تیز سانس لینے پر جب اُس کا منہ کھلتا ہے تو اس کے نتیجے میں بے شمار خطرناک جراثیم ہلاک ہوجاتے ہیں۔ گویا مناسب ورزش کے ذریعے ہمارے جسم کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جو عام طور پر ہمارے علم میں نہیں آتے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جیسے جیسے انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کی رگیں سخت سے سخت تر ہوتی جاتی ہیں اور اس کی رگوں میں رکاوٹیں پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ رگوں میں سختی کی وجہ سے بھی انسان دل کے عارضے میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ ہلکی پھلکی ورزش نہ صرف پٹھوں کو نرم اور ذہن کو صاف کردیتی ہے بلکہ یہ رگوں کو زیادہ پھیلنے کے قابل بنادیتی ہے۔ اس لیے مناسب ورزش کو زندگی کا معمول بنا لینا چاہیے۔ زیادہ عمر کے افراد کےلیے گھر میں چلتے پھرتے رہنا ہی کافی ہوسکتا ہے۔

ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اور اس کے پیارے صحت مند زندگی گزاریں۔ صحت مند زندگی گزارنے کےلیے دیگر بہت سارے عوامل کے ساتھ اچھی اور مناسب غذا کا استعمال بہت ضروری ہے۔ لہٰذا ایسی غذا کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے جو غذائیت سے بھرپور ہو۔ انسانی جسم کو بہتر نشوونما کےلیے روزانہ کی بنیاد پر پانی، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، وٹامن اور منرلز درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ وہی غذا استعمال کی جائے جو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کی جائے۔

اچھی صحت کےلیے اگر کچھ بنیادی باتوں کو دھیان میں رکھ کر زندگی گزاری جائے تو انسان کئی پیچیدگیوں سے بچ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر انسانی صحت کی اچھی نشوونما کےلیے صفائی اور پاکیزگی کی بہت اہمیت ہے۔ کھانے پینے کے اوقات کی پابندی، کام اور کام میں توازن اور متوازن غذا کا استعمال انسانی صحت کےلیے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

صحت مند کھانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان پلیٹیں بھر بھر کر کھائے اور سانس لینے کےلیے جگہ بھی نہ چھوڑے۔ کچھ لوگ گوشت پر بہت توجہ دیتے ہیں جبکہ ہفتے میں گائے کے گوشت کا ایک برگر یا مہینے میں ایک بڑے اسٹیک کے برابر گوشت انسانی جسم کی ضرورت کےلیے بہت سمجھا جاتا ہے۔ ہفتے میں ایک بار تھوڑی مچھلی اور مرغی بھی کھا سکتے ہیں۔ جبکہ انسانی جسم کو درکار پروٹین کا باقی حصہ سبزیوں سے پورا کرنا چاہیے۔ پھلوں اور سبزیوں کو ہماری غذا کا ضروری حصہ ہونا چاہیے۔ قدرت نے جو مختلف چیزیں ہمارے لیے پیدا کی ہیں ان سب کا مناسب استعمال انسانی صحت کو برقرار رکھنے میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لیے کسی ایک چیز کا زیادہ استعمال کرنے کے بجائے مختلف قسم کی غذا کھانی چاہیے تاکہ جسم کو اس کی ضرورت کے مطابق غذائیت ملتی رہے۔

ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انسانوں کےلیے فائبر سے بھرپور غذا بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ انسانی خوراک میں روزانہ 25 گرام فائبر شامل ہونا چاہیے جبکہ 30 گرام فائبر زیادہ مناسب ہے۔ فائبر قدرتی طور پر دل کے دورے، فالج اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کے خطرے کو کم کردیتی ہے۔ اس سے وزن، بلڈپریشر اور کولیسٹرول لیول بھی قابو میں رہتا ہے۔ فائبر ہمیں پھلوں، سبزیوں، بریڈ، چھلکے دار اناج سے بنے پاستا، دالوں، چنے، میوہ جات اور بیجوں سے حاصل ہوسکتی ہے۔ عام سائز کے ایک کیلے میں تقریباً تین گرام فائبر ہوتی ہے۔ جبکہ آدھا کپ جو میں 9 گرام، براؤن بریڈ کا بڑا سلائس 2 گرام، ایک کپ پکی ہوئی دال 4 گرام، چھلکے کے ساتھ پکا ہوا آلو 2 گرام، ایک گاجر 3 گرام، چھلکے کے ساتھ سیب میں 4 گرام فائبر ہوتی ہے۔

ہماری صحت کا تعلق ہمارے جسم سے ہی نہیں بلکہ جذبات سے بھی ہے۔ غصے اور اپنے جذبات پر قابو نہ رکھنا انسانی جسم کےلیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لیے اپنی سوچوں کو بھی پاکیزہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حسد جس طرح نیکیوں کو بھسم کرتا ہے اسی طرح انسانی جسم کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لیے اخلاق حسنہ کو اپنانا اور اخلاق سیئہ یعنی بری عادتوں سے بچنا انسانی صحت اور اس کی روح کےلیے بے حد مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکیزہ اور طیب غذائیں استعمال کرنے سے جسم میں پاکیزہ اور صالح خون پیدا ہوتا ہے جس سے انسانی خیالات، سوچوں اور ارادوں میں بھی پاکیزگی پیدا ہوتی ہے، جس کا انسانی روح پر بھی اثر پڑتا ہے۔ پس اپنی روح کی پاکیزگی اور اپنے جسم کی صحت مندی کےلیے پاکیزہ غذائیں استعمال کیجئے۔ اپنی سوچوں، ارادوں اور خیالات میں پاکیزہ باتوں اور مثبت رویوں کو شامل کیجئے تاکہ ہمارا جسم اور ہماری روح پاکیزہ ہوجائیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ظہیر احمد طاہر

ظہیر احمد طاہر

بلاگر طویل عرصہ سے جرمنی میں مقیم ہیں۔ مختلف اردو رسائل اور اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔ بلاگر سے ٹویٹر ہینڈل @zaheer_a_tahir پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔