تہذیبوں کا ٹکراؤ

مدثر حسیب  ہفتہ 17 اکتوبر 2020
مغرب کی تہذیب حکومتوں کے کنٹرول میں ہے لیکن ہمارے ہاں یہ کام عوام کو کرنا پڑتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

مغرب کی تہذیب حکومتوں کے کنٹرول میں ہے لیکن ہمارے ہاں یہ کام عوام کو کرنا پڑتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ہماری دنیا کروڑوں برسوں سے قائم ہے۔ اس میں بنی نوع انسان مختلف منازل طے کرتا رہا ہے۔ انسانوں کے مل جل کر رہنے سے مختلف معاشرے اور تہذیبیں قائم ہوتی رہی ہیں اور ختم بھی ہوتی رہی ہیں۔ اب بھی اس موجودہ دنیا میں کئی قسم کی تہذیبیں موجود ہیں، مثلاً مغربی تہذیب، چینی تہذیب، اسلامی تہذیب۔ کچھ تہذیبیں تو ایسی ہیں جن کا نام و نشان تک صفحہ ہستی سے مٹ گیا جیسے فرعون مصر کی تہذیب، جمہوریہ روم کی تہذیب۔ ان کی کئی روایا ت تو چل رہی ہیں لیکن یہ مکمل حالت میں معدوم ہیں۔ کئی تو ایک دوسرے سے برتری لے جانے میں باقاعدہ برسرپیکار ہیں۔

یہاں ایک بات بہت قابل غور ہے کہ جب کبھی بھی تہذیب کا نام لیا جاتاہے تو اس سے مراد کوئی خاص ملک نہیں ہوتا۔ جیسے کہ اب اگر ہم مغربی تہذیب کا نام لیں تو ہمارے ذہن میں یورپ آتا ہے کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے ذہن میں پالا پوسا ایک آئیڈیا شاید کئی صدیوں سے موجود تھا کہ پورے یورپ کی چھوٹی چھوٹی بادشاہی ریاستیں مل کر ایک ایسی یوٹوپین ریاست بنائیں جس میں سیاست کا مقام صفر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کے اندر نیشنلزم ہونے کے باوجود نہیں ہے، یورپ میں کوئی گولی نہیں چلتی، وہاں کوئی بم نہیں پھٹتا۔ جب کہ عوام اور حکومت مل کر ایک مقصد پر کام کرتے ہیں جسے اکانومی کہا جاتا ہے۔ بیلجیم کے لوگ بیلجین ہیں اور ساتھ میں یورپی بھی، جرمنی کے عوام جرمن بھی ہیں اور یورپی بھی۔ اسی تجربے کو امریکا کے بابائے قوم لیفٹیننٹ جنرل جارج واشنگٹن اور ان کی اسٹیبلشمینٹ نے بھی کاپی کیا، اور باقی نئے آباد شدہ یا برباد شدہ جزائر یعنی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا میں بھی آزمایا گیا اور یہ تجربہ نہ صرف کام کرگیا بلکہ ابھی تک اس کا کام جاری و ساری ہے۔ تو جب کبھی بھی مغربی تہذیب کا نام آئے تو اس سے مراد یہ سارے ممالک ہی ہوں گے۔

سو اس ساری بات سے یہ چیز تو واضح ہوگئی کہ تہذیب سے مراد کوئی ایک خاص ملک نہیں ہے۔ ایک ہی تہذیب کئی ممالک میں رائج ہوسکتی ہے۔ تہذیب کو متاثر کرنے میں جس چیز کا رول سب سے زیادہ ہے، وہ مذہب ہے۔ مطلب ایک تہذیب یہ فیصلہ کرسکتی ہے کہ وہ مذہب کون سا اختیار کرے، یا بالکل ہی اختیار نہ کرے۔ مذہب کو مکمل طور پر اختیار نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرے میں یا تہذیب میں اس کا کردار ہی نہیں ہے۔ قدیم ترین مصری تہذیب میں فرعون (جو اپنے وقت کے بادشاہ ہوتے تھے) اپنے آپ کو خدا کہلواتے تھے اور یہی ان کا مذہب اور لائف اسٹائل تھا۔ انہیں بھی جب کوئی اللہ کا بندہ دعوت دیتا تھا تو وہ اسے اپنی بادشاہت، اپنے ایجاد کردہ مذہب، ملک و قوم اور لائف اسٹائل کےلیے چیلنج سمجھتے تھے۔ اسی طرح قدیم یونانی جمہوریہ کا اپنا ایک مذہب تھا، جو بہت سارے دیوی، دیوتاؤں اور کئی قسم کی افسانوی کہانیوں پر مبنی تھا۔ اصل تکرار یہ ہے کہ کسی بھی دور میں تہذیب وتمدن کی پہلی اکائی ہمیشہ سے مذہب ہی رہا ہے۔

موجودہ دور میں جب مختلف تہذیبیں وجود میں آئیں تو ظاہر ہے، جب کبھی بھی کسی ایک کا دوسری سے ٹکراؤ ہوگا تو اس میں مذہب بھی ضرور آئے گا۔ اور اس میں ایک کا لائف اسٹائل دوسری سے ضرور ٹکرائے گا۔ ایک کو لگے گا کہ اس کا مذہب، ملک و قوم اور لائف اسٹائل سبھی خطرے میں ہیں۔ مثال کے طور پر جب یورپ کو اپنی تہذیب خطرے میں محسوس ہوتی ہے، تو وہ کبھی پین اسلام، بنیاد پرست اسلام کے سلوگن بلند کرتا ہے تو کبھی اسلام کو دہشت گردی سے منسلک کرتا ہے۔ اس ٹاپک پر ابھی اکتوبر 2020 میں کی گئی فرانس کے صدر میکرون کی تقریر بہت معنی خیز ہے جس میں انہوں نے ڈائریکٹ اسلام ہی کو ٹارگٹ کیا ہے اور کہا کہ اسلام خطرے میں ہے۔ حالانکہ شائد وہ یہ کہنا چاہتے ہوں گے کہ ہماری تہذیب خطرے میں ہے، لیکن بات بالکل تین سو ساٹھ ڈگری مخالفت میں کی گئی۔ اسی طرح کی ایک تقریر کچھ عرصہ پہلے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی کرچکے ہیں، جس میں انہوں نے چائنیز کو اپنے لائف اسٹائل کےلیے چیلنج قرار دیا۔ مغرب کا شروع سے ہی ایک موقف رہا ہے کہ وہ ہر ایک کو اپنی عینک سے دیکھنے کے عادی رہے ہیں جو اس میں فٹ آگیا وہی بندہ ہے باقی سب دہشت گرد وغیرہ۔ فرانس نے ہی فادر آف دی نیشن جارج واشنگٹن کی مدد کی تھی اور انہوں نے انگلینڈ کو امریکا سے مار بھگایا تھا۔ فریڈم آف اسپیچ بھی فرانس سے امپورٹ ہوکر امریکا کی راج دھانی پہنچی تھی جس کے بارے میں صدر ٹرمپ فرماتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑ ی غلطی کی۔ مطلب صیاد اپنے ہی دام میں آگیا ہے۔

اب یہاں پر ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ مغرب کی تہذیب حکومتوں کے کنٹرول میں ہے لیکن ہمارے ہاں یہ کام عوام کو کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ ہماری حکومتوں کی خواہش کچھ اور ہے۔ یہیں سے تضاد پیدا ہوتا ہے، پھر فساد پھیلتا ہے، جو کبھی تو جلسے جلوسوں کی شکل میں اور کبھی اس سے بھی سخت لہجے میں سامنے آتا ہے۔ پھر بیچ میں بیرونی قوتیں پڑ جاتی ہیں اور پرائی جنگیں ہماری ہوجاتی ہیں۔ اس کی قیمت بھی عوام کو ہی چکانا پڑتی ہے۔

پھر مغربی میڈیا کا رول اس میں بہت اہم ہے جو ان کی تہذیب کو پھیلانے کےلیے بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پھیلانا نہیں بلکہ ہمارے ہاں لوگ اتنے امپریس ہیں کہ اسے یہ اپنانا شائد امارت اور عزت سمجھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ اس قسم کا رویہ تقریباً تمام ایسے ممالک میں موجود ہے جو کسی نہ کسی طرح مغربی کالونی رہے ہیں اور غلامی کو بھگتایا ہوا ہے۔

ہمارے ہاں اس کے اظہار اکثر ہوتا ہے، مثلاً مختلف دن منانا، جن کا ہمارے ساتھ دور دور کا کوئی تعلق نہیں، جیسے کہ لیبر ڈے، برتھ ڈے۔ برتھ ڈے کو ہی لے لیجئے، یہ سب سے پہلے مصری فراعین نے شروع کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ صرف بادشاہوں یا فرعونوں تک محدود تھا۔ وہاں سے یہ رومنز میں آیا۔ رومنز نے ہی سب سے پہلے موم بتیاں لگانے کا رواج اپنایا کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اس سے بدروحیں بھاگتی ہیں۔ پھر جب روم عیسائی ہوا تو یہ ایونٹ بھی عیسائی مذہب کا حصہ بن گیا۔ لیکن ابھی تک یہ عوام تک نہیں پہنچا تھا۔ یہ کام آخرکار کیپٹلزم نے کیا۔ جرمن بیکری والوں نے اس کےلیے کیک بنایا اور اسے عوام کو بیچنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ بادشاہوں کا یہ ایونٹ ایک عام شخص کی پہنچ تک آگیا اور مغربی کلچر اور لائف اسٹائل کا لازم جزو بن گیا۔ لیکن حیرانگی اس بات پر ہے کہ آج یہ ہمارے کلچر میں اتنا عام ہے جیسے کہ ہم تو اس کے بغیر پیدا ہی نہیں ہوئے۔ اوپر سے میڈ مائی ڈے اسپیشل کے چکر میں اب فیس بک مجھے ان لوگوں کی بھی برتھ ڈے بتا رہا ہے جن سے میں دس سال میں کبھی نہیں ملا۔ کیپیٹلزم ہر جگہ جیت جاتا ہے۔

بہرحال تہذیبوں کی اس جنگ کی بحث کےلیے یہ نشست ناکافی ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ ہم نے اپنا دامن اس جنگ سے کیسے بچانا ہے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مدثر حسیب

مدثر حسیب

بلاگر نے مالیات (فائنانس) کے شعبے میں ایم فل کیا ہوا ہے اور دس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ آج کل متحدہ عرب امارات میں بھی شعبہ مالیات میں کام کررہے ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔