خودپرستی کا آزار

شایان تمثیل  جمعـء 8 دسمبر 2023
انفرادیت پسندی کوئی برا جذبہ نہیں، بس اپنی سوچ کو صحیح روپ اور درست سمت دی جائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

انفرادیت پسندی کوئی برا جذبہ نہیں، بس اپنی سوچ کو صحیح روپ اور درست سمت دی جائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

سورج اپنا سفر ختم کرتا ہوا پستیوں میں ڈوب رہا تھا۔ شام کی ملگجی روشنی میں پنچھی اپنے گھروں کی جانب مائل بہ پرواز تھے۔ وہ اپنے فلیٹ کی بالکونی میں کھڑا سمندر کی لہروں کو ساحل سے سر پٹکتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ رات کے گہرے ہوتے ہوئے سائے اسے اپنے اندر اترتے محسوس ہورہے تھے۔ من کی بے کلی اسے ستائے دے رہی تھی۔ نجانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا کہ بھری دنیا میں وہ بالکل تنہا ہے۔ بے کس، لاچار، ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج کی طرح۔

’’کیوں… کیوں ہے یہ تنہائی میری قسمت میں؟‘‘ ایک گہری آہ اس کے ہونٹوں سے خارج ہوئی۔ موسم کی خنکی کچھ مزید بڑھ گئی تھی۔

ََ’’تمام عمر میں لوگوں کے ہجوم میں گھرا رہا، مجھے ہمیشہ ستائش اور تعریفی کلمات سننے کو ملے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آج سب لوگ میرا ساتھ چھوڑ گئے؟ میرا وجود تو اس بے ثمر برگ کی مانند ہے جس کی چھاؤں میں کسی کو راحت نصیب نہیں ہوتی۔ نہیں اب اور نہیں! آخر کیا حاصل ہے اس زندگی کا؟ نہیں جینا ہے مجھے۔‘‘ وہ خودکلامی میں مصروف تھا۔

ضمیر کی خلش حد سے بڑھ گئی تھی۔ آخری جملہ اس کے ذہن میں بار بار چکرا رہا تھا۔ اس نے اضطرابی حالت میں اپنا سر دونوں ہاتھوں سے جکڑ لیا۔ لیکن یہ بات اس کے ذہن سے چپک چکی تھی۔ بالآخر وہ اوپر چڑھا اور بلڈنگ کی سولہویں منزل سے نیچے چھلانگ لگادی۔ فضا میں اس کی گہری چیخ بلند ہوئی اور بتدریج معدوم ہوتی چلی گئی۔

مندرجہ بالا سطور کسی ناول کا حصہ نہیں، بلکہ یہ عکاس ہیں ان لمحات کے جب انسان خود احتسابی کے عمل سے گزرتا ہے۔ ماضی میں کی گئی غلطیاں اسے بے کل کیے دیتی ہیں۔ ندامت اور پچھتاوے کے زہریلے ناگ اسے چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ بھاگنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ وہ اپنے آپ کو بہت تنہا محسوس کرتا ہے۔ اور جب اندرونی خلش حد سے بڑھ جاتی ہے تو اسے صرف ایک ہی راہِ فرار سوجھتی ہے… ’’موت‘‘۔

یہ سطور اس انسان کے جذبات کی ترجمان ہیں جو تمام زندگی خودپرستی، خودنمائی اور انفرادیت کے سراب میں پھنسا رہا۔ زندگی کے مختلف ادوار میں اسے بہترین ساتھی اور چاہنے والے ملے لیکن وہ اپنی ہی انا کا اسیر رہا۔ آخر اس کے تمام ساتھی اسے چھوڑ گئے اور وہ زندگی کی راہ گزر پر تنہا رہ گیا۔ تب اسے احساس ہوا کہ اس نے کیا کچھ کھو دیا ہے۔

خودنمائی اور منفرد نظر آنے کی خواہش ازل سے ہی انسانی فطرت میں شامل ہے۔ لاکھوں لوگوں کے ہجوم میں اپنے آپ کو سب سے نمایاں اور منفرد دیکھنے کا احساس بڑا جانفزا ہوتا ہے۔ لیکن ہر چیز کی طرح اس کی بھی ایک حد ہے اور جب یہ خواہش حد سے بڑھ جاتی ہے تو لوگ ’’خودپرستی‘‘ کے عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کی نظر میں ’’خود‘‘ کی اہمیت ہر چیز، ہر رشتے اور ہر جذبے سے بالاتر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات یہ لوگ اپنے قریبی ساتھیوں کے جذبات کی بھی پرواہ تک نہیں کرتے۔ بلاوجہ اختلاف برتتے ہیں۔ نتیجتاً ان انا کے اسیروں کے اہانت آمیز رویے کے باعث تمام مخلص لوگ ان کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

انسانی نفسیات کی بنیاد بچپن ہی سے پڑتی ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ یہ نفسیات پختہ ہوتی جاتی ہے۔ انسانی سوچ کا دھارا اسی نفسیات کا آئینہ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہر نفسیات بچوں کی تربیت میں نفسیاتی اصولوں کو مدنظر رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ جنھیں بچپن میں حد سے زیادہ پیار، توجہ اور اہمیت ملے، وہ اکثر اس ’’مرض‘‘ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے بچوں میں ایک خاص قسم کا احساس برتری پیدا ہوجاتا ہے۔ انھیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ سب سے الگ اور خاص ہیں، اسی وجہ سے انھیں اس قدر توجہ اور پیار ملتا ہے۔ اسی سوچ کی وجہ سے بڑے ہوکر ان میں غرور پیدا ہوجاتا ہے اور ایسے لوگ دوسروں کو خاطر میں نہیں لاتے۔

بعض اوقات اس طرح کے کیسز میں جب بڑے ہونے کے بعد انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھیں وہ توجہ نہیں مل رہی جو پہلے ملتی تھی، تو وہ اپنے آپ کو نمایاں اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے عجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں جو انھیں دوسروں سے الگ اور منفرد بنائیں۔ ایسا کرنے کے لیے کوئی مخصوص طرز عمل نہیں، ہر شخص اپنی نفسیات اور سمجھ کے مطابق ایسی عادتیں اپناتا ہے۔ کچھ تیز اور اونچا بولنا شروع کردیتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ پوری شدت کے ساتھ مقابل پر حاوی ہورہے ہیں اور ایسا کرنے سے سامنے والا ان کی بات ضرور مانے گا۔ کچھ لوگ ایسا رکھ رکھاؤ اور انداز اپناتے ہیں جیسے ان کی حد سے زیادہ اہمیت ہے۔ وہ بلاوجہ گردن اکڑائے پھرتے ہیں اور لوگوں کی بات کا جواب ہمیشہ شاہانہ انداز سے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ اگر وہ دوسروں کو تھوڑی سی بھی توجہ دیں گے تو دوسروں کی نظر میں ان کی اہمیت کم ہوجائے گی۔ دوسرے وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں سے الگ تھلگ رہیں گے تو لوگ ان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ان کے پیچھے دوڑیں گے۔

کچھ افراد نمایاں ہونے کےلیے اس قسم کی ڈریسنگ اور گیٹ اپ اپناتے ہیں جو ماحول اور موسم سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ جیسا کہ سخت سردی میں باریک جالی کے کپڑے پہننا یا پھر گرمی کے موسم میں جیکٹ اور فر کا استعمال۔ ایسا کرکے انھیں لوگوں کی توجہ تو مل جاتی ہے لیکن وہ اس بات سے لاعلم رہتے ہیں کہ لوگ دراصل دل میں ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

انفرادیت پسندی کوئی برا جذبہ نہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی سوچ کو صحیح روپ اور درست سمت دی جائے۔ ہر چیز میں توازن رکھا جائے۔ ہر شخص اپنی الگ پہچان اور الگ خصوصیات کی وجہ سے ہی توجہ حاصل کرپاتا ہے ورنہ دنیا کے ہجوم میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو بغیر کسی پہچان کے، بغیر کسی کی نظر میں آئے زندگی گزار دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی ایک الگ پہچان بنائی جائے اور اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے اچھے اطوار اپنائے جائیں۔ ایسا طرزِ سخن اپنایا جائے جو دوسروں کو متوجہ کرے اور لوگ اس کا جواب ستائش اور تعریفی کلمات سے دیں، نہ کہ ایسا کہ لوگ ہمارے طرز عمل کا مذاق اڑائیں۔ اور بالآخر وہ وقت بھی آجائے جب سب رشتے ہمیں ’’خود پرستی‘‘ کے آزار میں تنہا خود احتسابی کےلیے چھوڑ جائیں۔

تجھ کو تنہا کرگیا پھر منفرد رہنے کا شوق
اب اکیلے بیٹھ کر یادوں کے منظر دیکھنا

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

Shayan Tamseel

شایان تمثیل

بلاگر کوچہ صحافت کے پرانے مکین ہیں اور اپنے قلمی نام سے نفسیات وما بعد النفسیات کے موضوعات پر ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ معاشرت، انسانی رویوں اور نفسانی الجھنوں جیسے پیچیدہ موضوعات پر زیادہ خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ صحافت اور ٹیچنگ کے علاوہ سوشل ورک میں بھی مصروف رہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔