امریکا میں مظاہرے

ایڈیٹوریل  جمعـء 8 جنوری 2021
مظاہرین لاٹھی، ڈنڈے اور جھنڈے لیے عمارت میں گھس گئے، توڑ پھوڑ کی، ارکان کانگریس عمارت میں محصور ہوگئے۔ فوٹو: گیٹی

مظاہرین لاٹھی، ڈنڈے اور جھنڈے لیے عمارت میں گھس گئے، توڑ پھوڑ کی، ارکان کانگریس عمارت میں محصور ہوگئے۔ فوٹو: گیٹی

عالمی سپرپاور اورجمہوریت کے علمبردار ملک امریکا میں گزشتہ روزچشم فلک نے عجب نظارہ دیکھا کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اکسانے پرسفیدفام مظاہرین پارلیمنٹ پر چڑھ دوڑے اور انھوں نے پارلیمنٹ کا تقدس بری طرح پامال کیا، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا اور نو منتخب صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں جیت کی توثیق کاعمل جاری تھا۔

مظاہرین لاٹھی، ڈنڈے اور جھنڈے لیے عمارت میں گھس گئے، توڑ پھوڑ کی، ارکان کانگریس عمارت میں محصور ہوگئے،ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی میں خاتون سمیت 4افراد کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی میئر نے شہر میں پبلک ایمرجنسی نافذ کر دی ہے ۔

جدید امریکا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ انتخابی عمل میں ہار کو قبول نہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں دنیا بھر میں امریکا کے جمہوری امیج کو خاصا نقصان پہنچا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کا دفاع کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا کہ ایسے واقعات تب ہوتے ہیں جب عوام کو انتخابات میں ان کی فتح سے دوررکھا جاتا ہے۔

عرصے سے محب وطن امریکیوں کی حق تلفی کی جارہی ہے۔ ٹرمپ کے ان الفاظ کی ادائیگی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سفید فاموں میں نسل پرستی کا عنصر ابھار کر امریکا کو ایک متعصب اور تنگ نظر ریاست میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، امریکا میں نسلی تقسیم کو گہرا کرنا چاہتے ہیں ، یہ رحجان ریاست متحدہ امریکا کی یکجہتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا کمپنیوں نے واشنگٹن میں احتجاج کا دفاع کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں۔ عالمی سطح پر اس بارے میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے وائٹ ہاؤس کے باہر پرتشدد مظاہرے کی مذمت کی ہے جب کہ فرانسیسی وزارت خارجہ امور نے کہا ہے کہ امریکی جمہوریت پر سنگین حملے کی مذمت کرتے ہیں۔سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش نے کیپیٹل ہل پر حملے کو ’’ بنانا ری پبلک‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔ سابق صدر بارک اباما نے بھی ٹرمپ پر تنقید کی ہے۔کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے حدود کے بغیر نہیں ہونی چاہیے۔ یورپی یونین نے کہا کہ امریکی جمہوریت پر حملہ قابل مذمت ہے۔

نیٹو چیف نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں ہلا دینے والے مناظر ہیں۔عالمی سطح پر پایا جانا اضطراب اس بات کا مظہر ہے جو کچھ امریکا میں ہوا ہے ، اس سے جمہوریت اور جمہوری عمل کے لیے نہ صرف خطرات بڑھ گئے ہیں بلکہ امریکا میں مقیم دنیا بھر کی قوموں کے افرا د بھی عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں۔امریکا کو اپنے اوپر لگے اس داغ کو دھونے کے لیے واقعہ کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے گزشتہ چاربرس کے دوران دنیا اور عالمی نظام پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کی وجہ سے امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور اس کا اثر و رسوخ کم ہوگیا ہے جب کہ اس کی سافٹ پاور میں بھی کمی آئی ہے۔ اگلے برس امریکا میں سیاہ فام باشندے جارج فلوئڈ کی پولیس کے مبینہ تشدد کے سبب ہونے والی ہلاکت کے بعد سے وہاں آباد سیاہ فام اور دیگر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور پرتشدد مظاہروں کی شکل میں یہ باشندے سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے۔

اس بارے میں ماہرین اور مبصرین کا کہنا تھا کہ امریکا میں جتنے بڑے پیمانے پر اس وقت مظاہرے ہو رہے تھے، وہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے انتباہ ہیں ،لیکن ٹرمپ نے حسب عادت اس انتباہ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی متعصبانہ پالیسی جاری رکھی ، اب نئی آنے والی حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سیاسی سطح پر اقدامات کرنا ہوں گے وگرنہ تشدد کی آگ کے یہ شعلے بھڑکتے چلے جائیں گے۔ سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

عالمی رہنماؤں نے امریکا میں نسل پرستی و قوم پرستی پر مبنی پالیسیوں کو دنیا کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے دور اقتدار میں اب تک بہت سے اجتماعی معاہدوں سے امریکا کو الگ کرلیا ہے اور ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے بھی غیر قانونی طورپر علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی نظام کثیرالفریقی سیاست پر استوار ہے جو دنیا میں امریکا کی برتری کی ضمانت فراہم نہیںکرتا ہے۔ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم عالمگیریت کے نظریئے کو مسترد کرتے ہیں اور وطن پرستانہ نظریات کے حامی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے عالمی براداری اور امریکا کے درمیان فاصلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی اس پالیسی پر نہ صرف امریکا کے یورپی اتحادی برانگیختہ ہیں بلکہ بہت سے امریکی سیاستدان اور بین الاقوامی ادارے بھی ٹرمپ پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی امریکا کی برتری اور مفادات کے تحفظ پر استوار ہے لیکن واشنگٹن کے اتحادیوں کی جانب سے ساتھ نہ دینے اور مخالفت کی وجہ سے ٹرمپ کی فرسٹ امریکا کی پالیسی نے عالمی سطح پر امریکا کو تنہا کردیا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ کروڑوں امریکی رنگ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر اپنی شناخت کوشدت سے اپنائے ہوئے ہیں اور اسے ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ خاص طور پر سفید فام ہونا ان امریکیوں کے لیے فخر و غرور کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے، جب ڈیموکریٹک صدر، لندن جانسن نے جولائی 1964میں سول رائٹس ایکٹ منظور کیا، تو انھوںنے اس موقع پر اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا ’’ہم ایک نسل کے لیے جنوب کو کھوچکے۔‘‘اسی لیے ماہرین سیاسیات کا کہنا تھا کہ الیکشن جیتنے کی خاطر صدر ٹرمپ کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی۔

زیادہ سے زیادہ امریکیوں میں وہ اس وقت مقبول ہوسکتے تھے جب انھیں یہ دکھانے میں کامیاب رہیں کہ وہ انتہا پسندی کی حد تک متعصب اور شدت پسند لیڈر نہیں،لیکن ایسا ٹرمپ کی فطرت میں شامل نسل پرستی کے فخر نے  نہ ہونے دیا ، اور وہ الیکشن ہار گئے۔ امریکا میں جاری نسل پرستی کے تناظر میں، ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی خدمات، ان کے نظریے اور فکر کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے معاشرے میں ثقافتی سطح پر لچک دار رویہ پیدا کرنے، غلامی، نسل پرستی اور تعصب کے خلاف مزاحمت کی انفرادی سطح پر کوشش کر کے سامراجی عالمی نظام میں اپنی جگہ پیدا کی اور مساوات اور انصاف کے حصول کی جدو جہد کی ایک مثال قائم کی۔ آج کل کے دور میں امریکا کو پھر ایسی تحریک کی ضرورت ہے۔

نوبل انعام یافتہ مارٹن لوتھر کنگ نے امریکا میں نسل پرستی، امتیازی سلوک اور سیاہ فام باشندوں کے ساتھ غلامانہ برتاؤ کے خلاف سول رائٹس موومنٹ 1955سے لے کر 1968 تک یعنی اپنے قتل تک جاری رکھی تھی۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا ’’مجھے اقتدار کی طاقت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، لیکن مجھے ایسی طاقت میں دلچسپی ہے جو اخلاقی، صحیح اور اچھی ہو۔‘‘ جوبائیڈن کی قیادت میں آنے والی نئی امریکی حکومت کو مارٹن لوتھر کے اس فلسفے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔امریکا کو اب ایسی پالیسی بنانا ہوگی جس سے رنگ، نسل اور مذہبی امتیاز کے عفریت پر قابو پایا جاسکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔