دورۂ آسٹریلیا؛ نوجوان بھارتی ٹیم کا پستی سے بلندی کا سفر

کامران سرور  جمعـء 22 جنوری 2021
بھارتی ٹیم نے 33 سال تک ناقابل شکست رہنے والی آسٹریلوی ٹیم کو شکست سے دوچار کردیا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

بھارتی ٹیم نے 33 سال تک ناقابل شکست رہنے والی آسٹریلوی ٹیم کو شکست سے دوچار کردیا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کرکٹ کا جنون بچپن سے ہی میرے سر پر سوار ہے اور کرکٹ کی وجہ سے جتنی مار میں نے کھائی شاید ہی کسی کے حصے میں آئی ہو۔ مجھے آج بھی یاد ہے اتوار کے دن کرکٹ ٹورنامنٹ کی وجہ سے دیر سے گھر آنے پر میری بھرپور خاطر تواضع کی جاتی تھی۔ اگلے روز یہ سلسلہ اسکول میں بھی دہرایا جاتا اور ہوم ورک نہ کرنے کی وجہ سے باقاعدہ ڈنڈوں سے استقبال کیا جاتا تھا لیکن بقول امی جان ’’بہت ہی کوئی ڈھیٹ چمڑی ہے تیری‘‘۔

بہرحال زندگی کی مصروفیات میں اب کرکٹ کھیلنے کا وقت تو نہیں رہا لیکن دیکھنے کی حد تک یہ جنون اب بھی برقرار ہے۔ آسٹریلیا کی بھارت کے ہاتھوں شکست دیکھ کر بچپن کا واقعہ یاد آگیا۔ جب بھی کسی ٹیم کے خلاف سیریز کے پہلے میچ میں شکست ہوتی تو یہ کہتے ہوئے رونا دھونا شروع کردیتے ’’ ہم دوسرا میچ نہیں کھیل رہے تم بڑے لڑکے لائے ہو‘‘۔

بھارت کے بچوں نے بھی برسبین ٹیسٹ میں 33 سال تک ناقابل شکست رہنے والی ٹیم کا غرور خاک میں ملا کر وہ تاریخ رقم کی جو مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں تاریخی پستی (اپنے کم ترین اسکور 36) پر آؤٹ ہونے اور میچ میں بدترین شکست کے بعد گابا میں چمتکار (33 سالہ ریکارڈ فتح) تک کا سفر کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ تاریخ میں اس سے پہلے کسی بھی ملک کی بی ٹیم نے آسٹریلیا کو گھر میں گھس کو ایسے مات نہیں دی ہوگی۔ یہاں پر ہمیں اجینکا رہانے کی بھی تعریف کرنی ہوگی کہ کیسے انہوں نے بھارت کے اسٹار بلے باز اور کپتان ویرات کوہلی کی غیرموجودگی میں زمین بوس ٹیم کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچادیا۔

درحقیقت یہ صرف ٹیم یا کپتان کی جیت نہیں بلکہ بھارت کے ڈومیسٹک سسٹم کی جیت ہے، جس میں وہ کئی سال سے سرمایہ کاری کررہے تھے اور اب اس کے نتائج آنا شروع ہوئے ہیں۔ یہاں پر روی شاستری اور راہول ڈریوڈ کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی۔ بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ روی شاستری نے ٹیم کے اہم کھلاڑیوں کے اَن فٹ ہونے کے باوجود کس طرح ٹیم کے ڈریسنگ روم کا ماحول بنائے رکھا، وہ قابل ستائش ہے۔

دوسری جانب 1996 سے 2012 تک ملک کی نمائندگی کرنے کے بعد راہول ڈریوڈ نے کوچنگ کے میدان میں قدم رکھا اور 2016 سے 2019 تک انڈر نائنٹین اور اے ٹیم کی کوچنگ کی۔ ان کی کوچنگ کے دوران بھارتی ٹیم 2016 میں فائنل میں پہنچنے میں کامیاب رہی اور 2018 میں ورلڈ چیمپئن بنی۔ جب کہ آج کل ڈریوڈ بھارت کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بطور ڈائریکٹر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ بھارت نے آسٹریلیا میں جو کارنامہ انجام دیا وہ راہول ڈریوڈ کا ہی مرہون منت ہے۔

اب ذرا بات کرلیتے ہیں اچانک بھارتی ٹیم کیسے زیربحث آئی؟ تو اس کےلیے ہمیں تقریباً ایک ماہ پیچھے جانا پڑے گا جب 19 دسمبر کو ایڈیلیڈ میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں بھارت اپنی ٹیسٹ تاریخ کے کم ترین اسکور پر آؤٹ ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہوا۔ لیکن پھر اگلے ہی میچوں میں اس ٹیم کے بچوں نے بے خوفی اور ہمت کی مثال قائم کرتے ہوئے 19 جنوری کو آسٹریلیا میں جو کیا، وہ بھی قابل دید تھا۔

پہلے میچ کی شکست کے بعد وہ موقع بھی آیا جب بھارتی ٹیم کے ڈریسنگ روم کو ایمرجنسی وارڈ سے تشبیہ دی گئی۔ کیوں کہ گابا ٹیسٹ تک پہنچتے پہنچتے آدھی بھارتی ٹیم اَن فٹ ہوچکی تھی، جس کی وجہ سے اس اہم دورے میں ایک دو نہیں بلکہ 5 کھلاڑیوں کا ڈیبیو ہوا۔ شبمن گل، محمد سراج، واشنگٹن سندر، شاردل ٹھاکر، نترجن اور نودیب سینی نے سینئرز کی غیر موجودگی میں موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے تاریخ رقم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ متعدد بار ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے باوجود کبھی مڈل آرڈر تو کبھی لوئر آرڈر نے مزاحمت کی تاریخ رقم کی۔ مزاحمت کی بات کی جائے تو چتیشور پچارا کی صورت میں بھارت کو راہول ڈریوڈ کے بعد ایک اور ’’دیوار‘‘ میسر آچکی ہے، جس نے وکٹ بچانے کی خاطر پیٹ کمنز اور ہیزلووڈ کے باؤنسرز کا اپنے جسم سے دفاع کیا۔

ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 244 رنز بنائے، جس کے جواب میں آسٹریلیا 191 رنز پر آؤٹ ہوگئی اور بھارت کو 53 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔ لیکن دوسری اننگز میں بھارتی بلے باز جوش ہیزلے ووڈ اور پیٹ کمنز کی بولنگ کا سامنا نہ کرسکے اور حیران کن طور پر کوئی ایک کھلاڑی بھی ڈبل فیگر میں داخل نہیں ہوا اور پوری ٹیم اپنی تاریخ کے کم ترین اسکور 36 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد تیسرے ہی روز میچ بھی ہار گئی۔

https://twitter.com/ICC/status/1340205396871548928

ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں شرمناک شکست کے بعد بھارتی ٹیم کی ملکی و بین الاقوامی میڈیا میں خوب چھترول کی گئی اور غیروں سمیت اپنوں نے بھی خوب تنقید کے نشتر برسائے۔ پہلے ٹیسٹ کے بعد بیٹی کی پیدائش کی وجہ سے بھارت واپس جانے والے کپتان ویرات کوہلی زد میں رہے کہ وہ کس طرح اس ٹیم کو آسٹریلین بولرز کے رحم وکرم پر چھوڑ کر جاسکتے ہیں۔

آسٹریلیا کے سابق کپتانوں سمیت بڑے بڑے کھلاڑیوں نے آسٹریلیا کے ہاتھوں بھارت کی ذلت آمیز شکست کی پیشگوئیاں کردیں اور بھارت کے 0-4 سے وائٹ واش کے خواب دیکھنا شروع کردیے تھے، جو تاریخی فتح کے بعد بھارتی کھلاڑی ایشون نے ری ٹوئٹ کیے۔

آسٹریلیا کےلیے دو ورلڈکپ ٹرافیاں اٹھانے والے رکی پونٹنگ نے کہا کہ ویرات کوہلی کی غیرموجودگی میں آسٹریلیا کےلیے اچھا موقع ہے وہ بھارت کو وائٹ واش کردیں۔ ایسی شکست کے بعد اس ٹیم کو کوئی انہیں اٹھا سکتا۔ 2015 ورلڈکپ کے فاتح کپتان مائیکل کلارک نے کہا کہ ویرات کوہلی کے بغیر بھارت کی بیٹنگ لائن اگلے دو ٹیسٹ میچوں میں شدید مشکلات کا شکار رہے گی۔ آسٹریلیا کے سابق کپتان مارک وا نے بھی سیریز میں آسٹریلیا کے 0-4 سے فتح کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ آسٹریلیا کے ہاتھوں تیسرے دن اس شکست کے بعد بھارت واپسی کرسکتا ہے۔ سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے کہا کہ میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا، ٹیسٹ سیریز میں بھارت کو بہت مار پڑنے والی ہے۔ سابق وکٹ کیپر بلے باز بریڈ ہیڈن نے کہا میرا خیال تھا کہ بھارت کے پاس صرف ایڈیلیڈ ٹیسٹ جیتنے کا موقع تھا لیکن اب مجھے نہیں لگتا وہ مزید کچھ کرسکتے ہیں۔

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں بھارت نے آسٹریلیا کو 8 وکٹ سے شکست دے کر یہ ثابت کردیا کہ وہ ویرات کوہلی کے بغیر بھی کھیلنے کے قابل ہے۔ میچ میں ڈیبیو کرنے والے شبمن گل اور محمد سراج نے شاندار کھیل پیش کیا۔ کپتان اجینکا رہانے نے بھی ذمے دارنہ بیٹنگ کی۔ دوسرے ٹیسٹ میں بھارت ویرات کوہلی اور اپنے اسٹرائیک بولر محمد شامی کے بغیر میدان میں اترا۔ روہت شرما اور ایشانت شرما پہلے ہی سے اَن فٹ تھے، ایسے میں ٹیم میں 4 تبدیلیاں کرنی پڑیں۔ شبمن گل اور محمد سراج کو ٹیسٹ کیپ دی گئی، رویندرا جڈیجا اور ریشپ پانٹ کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا۔

دوسری فتح کے بعد بھارت کے حوصلے بلند ہوئے اور تجربہ کار بلے باز روہت شرما کے آنے سے کچھ سکھ کا سانس لیا۔ انہیں آؤٹ آف فارم ماینک اگروال کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔ مین اسٹرائیک بولر اومیش یادو کے اَن فٹ ہونے پر نودیب سینی کو ٹیسٹ کیپ دی گئی۔ آسٹریلیا نے بھارت کو جیت کےلیے 407 رنز کا ہدف دیا، جس کے جواب میں بھارت نے 5 وکٹ پر 334 رنز بنائے۔ روہت شرما، چتشور بچارا نے نصف سنچریاں اسکور کیں اور ریشپ پانٹ نے صرف 118 گیندوں پر 97 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ اگر وہ تھوڑی دیر اور وکٹ پر رک جاتے تو چوتھے میچ کی طرح یہ میچ بھی بھارت کی جھولی میں ڈال جاتے، لیکن وہ بدقسمتی سے آؤٹ ہوگئے۔ تاہم تیسرے میچ کے ہیرو روی چندر ایشون اور ہنوما وہاری ثابت ہوئے۔ جب آسٹریلیا کو جیت کےلیے صرف 5 وکٹیں درکار تھیں، یہ دونوں دیوار کی طرح آسٹریلیا کی بولنگ لائن کے آگے ڈٹ گئے اور بھارت آسٹریلیا کو یقینی شکست سے روکنے میں کامیاب رہا۔

گابا ٹیسٹ سے پہلے بھارتی اور آسٹریلوی بورڈ کے درمیان قرنطینہ کو لے کر کچھ مسائل بھی پیدا ہوئے تھے، جس پر آسٹریلیا نے شور مچانا شروع کردیا تھا کہ بھارتی ٹیم گابا کی باؤنس کے خوف سے بھاگ رہی ہے۔ یہی نہیں تیسرے میچ کے دوران آسٹریلیا کے کپتان ٹم پین نے بھی ایشون پر جملہ کسا ’’کین ناٹ ویٹ ٹو سی یو ایٹ دی گابا‘‘ یعنی گابا میں ملتے ہیں۔ جو بعد میں بہت مشہور ہوا اور ٹم پین کی خوب ٹرولنگ کی گئی۔

سیریز کے آخری اور فیصلہ کن ٹیسٹ کےلیے بھارت کی بدقسمتی رہی کہ تیسرے میچ کے ہیرو روی چندر ایشون اور ہنوما وہاری کے ساتھ ساتھ رویندرا جڈیجا اور آخری مین اسٹرائیک بولر جسپریٹ بمرا بھی اَن فٹ ہوگئے۔ ایسی صورتحال میں بھارت نے گابا کے باؤنسی ٹریک پر مزید دو کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کیپ دے کر بمشکل اپنی ٹیم مکمل کی، لیکن وہ بھی بھارت کی ریگولر ٹیم نہیں تھی اور تقریباً پوری ٹیم ہی نئی تھی۔ تجربہ نہ ہونے کے باوجود نئے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند تھے، جس کی بدولت ڈیبیو کرنے والے واشنگٹن سندر، نترجن اور اپنا دوسرا میچ کھیلنے والے شاردل ٹھاکر نے آسٹریلین بلے بازوں کو خوب پریشان کیا اور بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں 369 رنز بناکر آؤٹ ہوئی۔

پہلی اننگز میں بھارت کے ٹاپ اور مڈل آرڈر کی ناکامی کے باوجود 7 ویں اور 8 ویں نمبر پر بلے بازی کےلیے آنے والے واشنگٹن سندر اور شاردل ٹھاکر نے بیٹنگ میں اپنا جوہر دکھاتے ہوئے نصف سنچریاں اسکور کیں اور بھارت کو فائٹنگ پوزیشن میں لاکھڑا کیا۔ اپنا تیسرا میچ کھیلنے والے محمد سراج نے دوسری اننگز میں اپنی بولنگ کا جادو دکھاتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی اور شاردل ٹھاکر نے یہاں بھی ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں۔ آسٹریلیا نے بھارت کو جیت کےلیے 328 رنز کا انتہائی مشکل ہدف دیا۔

گابا ٹیسٹ کے آخری روز بھارت ڈرا کی نیت سے بھی میدان میں اترسکتا تھا، کیوں کہ آسٹریلیا کی مضبوط ٹیم کے آگے یہاں میچ ڈرا کرنا بھی کسی معجزے سے کم نہ ہوتا۔ لیکن بھارت کے نوجوان کھلاڑیوں کے دل میں تاریخ رقم کرنے کا جنون سوار تھا۔ بھارتی کھلاڑی صرف جیت کی نیت سے میدان میں اترے اور مثبت کرکٹ کھیل کر گابا میں آسٹریلیا کو شکست دے کر نہ صرف 33 سال پرانا ریکارڈ توڑا بلکہ چوتھی اننگز میں 328 رنز کا ہدف حاصل کرکے آسٹریلیا ہی کا 69 سالہ ریکارڈ بھی روند ڈالا۔

کھیل کے چوتھے روز ابتدا میں اپنا تیسرا میچ کھیلنے والے شبمن گل نے تجربہ کار آسٹریلوی بولنگ لائن کی خوب درگت بنائی اور 147 گیندوں پر 91 رنز کی تیز اننگز کھیلی۔ آخری لمحات میں جب میچ انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوچکا تھا، ایسے میں ریشپ پانٹ نے ٹی ٹوئںٹی طرز کی کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ ابھی میچ کے 3 اوورز باقی تھے لیکن ریشپ پانٹ تاریخ کے صفحات میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کروا چکے تھے اور 138 گیندوں پر 89 رنز کی اننگز کھیل کر بھارت کےلیے تاریخ رقم کرچکے تھے۔

آخر میں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ کسی بھی ٹیم میں صرف بڑے نام ہونے سے فرق نہیں پڑتا بلکہ میدان میں اترتے وقت ملک کی خدمت کا جذبہ اور جیت کی لگن ہو تو بچے بھی بڑے بڑوں کو چت کردیتے ہیں۔ آسٹریلیا کے کپتان اور کوچ نے بھی بھارت کے خلاف اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھارت کو بہت ہلکا لے لیا تھا اور یہ غلطی ہم دوبارہ نہیں کریں گے۔ آسٹریلیا کے کوچ جسٹن لینگر کی اس بات پر مجھے پاکستانی ٹیم کے ہیڈکوچ مصباح الحق کا بیان یاد آیا جس میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کا سارا ملبہ غیرتجربہ کار بولرز اور بابراعظم کی غیر موجودگی پر ڈال دیا تھا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کامران سرور

کامران سرور

بلاگر جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ماسٹرز ڈگری کے حامل ہیں اور کرکٹ کے کھیل میں دلچسپی اور معلومات کی وجہ سے اس موضوع پر زیادہ لکھتے ہیں۔ اِس وقت ایکسپریس نیوز میں بطور سینئر سب ایڈیٹر اپنی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔