کراچی میں مبینہ طور پر غلط انجکشن سے نومولود بچی جاں بحق

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 13 فروری 2021
جاں بحق ہونے والی بچی کے اہلخانہ کی جانب سے اسپتال کے باہر شدید احتجاج

جاں بحق ہونے والی بچی کے اہلخانہ کی جانب سے اسپتال کے باہر شدید احتجاج

 کراچی: شہرقائد میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا اور نارتھ ناظم آباد کے شبیر اسپتال میں غلط انجکشن لگانے سے نومولود بچی جاں بحق ہوگئی۔

شاہراہ نور جہاں تھانے کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں واقع اسپتال میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کے باعث غلط انجکشن لگنے سے نومولود بچی جاں بحق ہو گئے ۔ بچی کے اہلخانہ کی جانب سے اسپتال کے باہر شدید احتجاج کیا گیا جس کے باعث اسپتال انتظامیہ اورڈاکٹرز اسپتال چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

جاں بحق ہونے والی نومولود بچی کے والد نوید ولد افسرخان نے بتایا کہ 8 فروری کی رات دو بجے اسی اسپتال میں اس کی بیٹی پیدا ہوئی تھی اوربچی بالکل صحت مند تھی اور اسپتال انتظامیہ کی جانب سے 11 فروری کو ڈسچارج کرنے کا کہا تھا ،11 فروری کو اچانک بچی کووالدین کی اجازت کے بغیر وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا اور دو گھنٹے بعد میری بیٹی کی موت کی خبر سنائی گئی۔

بچی کے والد کا کہنا تھا کہ بچی کی تدفین کے بعد جب وہ جمعے کو اسپتال پہنچے اور انھوں نے اسپتال انتظامیہ سے سمری طلب کی تو انہیں دھمکیاں دی گئیں اور سمری نہیں دی گئی جس کے بعد انھوں نے خود کوششیں کرکے سمری حاصل کی تو انتقال سے 12 گھنٹے پہلے تک کی ہسٹری موجود ہی نہیں تھی کہ ان 12 گھنٹوں میں کیا کچھ ہوا اور کیا ٹریمنٹ دی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ انہیں اسپتال کے مالک کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں اورخاموش رہنے پرزور دیا گیا، بچی کے اہلخانہ کی جانب سے انصاف کے حصول کے لیے شاہراہ نور جہاں تھانے کے باہر احتجاج کیا گیا اور بچی کے والد کی جانب سے تھانے میں درخواست بھی جمع کرائی گئی جس میں اسپتال کے مالک ، ڈاکٹرز اور انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس پر ایس ایچ او شاہراہ نورجہاں نے بچی کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ہفتے کو دوبارہ تھانے طلب کر لیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔