کشمیری قیادت کی نظر بندی اور بھارتی مظالم

ایڈیٹوریل  پير 15 فروری 2021
کشمیریوں پربڑھتے بھارتی مظالم اور عالمی برادری کی خاموشی انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے منہ پرطمانچہ ہے۔ فوٹو : فائل

کشمیریوں پربڑھتے بھارتی مظالم اور عالمی برادری کی خاموشی انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے منہ پرطمانچہ ہے۔ فوٹو : فائل

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی جیلوں میں غیرقانونی طور پر نظربند قیادت اور عام کشمیریوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نظربندوں کو حق پر مبنی سیاسی نظریات کی پاداش میں انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اس بیان کی سچائی کودنیا جانتی اور مانتی ہے ،کیونکہ کشمیری قیادت پانچ اگست دوہزار انیس سے نظربند ہے اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہی ہے ، یہ وہ دن تھا، جب آرٹیکل370 کو منسوخ کرکے مودی سرکار نے کشمیریوں سے ان کی خصوصی حیثیت چھین لی تھی۔ اس دن کے بعد سے مقبوضہ وادی کے مسلمان دنیا کے طویل ترین محاصرے میں ہیں،وادی کا رابطہ پوری دنیا سے منقطع ہے۔

دوسری جانب کشمیرمیڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں قتل عام ، گرفتاریاں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں ، طاقت کا وحشیانہ استعمال ، گھروں اور دیگر املاک کی تباہی معمول بن چکا ہے۔یہ تجزیاتی رپورٹ بھی حقائق پر مبنی ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں ہرگزرتے دن کے ساتھ بھارتی ظلم اور جارحیت میں اضافہ ہو رہا ہے، قابض فوج کی جانب سے بے گناہ کشمیری نوجوانوں پر تشدد اور قتل عام بھی جاری ہے۔ سیکڑوں گھر تباہ ہوئے، کتنی ماؤں کی گود اجڑ گئی، کتنے ہی بچے یتیم ہوگئے، خواتین کے سائبان چھن گئے۔ آنسو گیس کی شیلنگ، بے گناہوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی نہ تھم سکا۔ کشمیری قیادت بھارتی جیلوں میں ہے یا نظر بند ہے، خواتین کی عصمت دری بھی دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں۔

مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ میں سالوں سے توجہ طلب ہے، کشمیریوں پربڑھتے بھارتی مظالم اور عالمی برادری کی خاموشی انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے منہ پرطمانچہ ہے۔یہ بات ہے 1990 کی جب ہند سرکار نے سیکیورٹی فورسز کو مقبوضہ کشمیر کے لیے خصوصی اختیارات دیے۔ ان اختیارات کے مطابق وہ دہشت گردی کے شک میں کسی کو بھی گولی مارسکتے ہیں اور اگر یہ گولی فوج کی طرف سے چلائی گئی ہو تو ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی بھی نہیں ہو سکتی۔

بھارتی فوج کے ساتھ سینٹرل ریزرو پولیس فورس، بارڈر سیکیورٹی فورس اور مختلف نیم فوجی تنظیمیں کشمیریوں کا جذبہ آزادی کچلنے کے لیے شامل ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو جہنم بنا دیا ہے۔ اٹلی کے مشہور ڈکٹیٹر مسولینی کی کارروائیوں پر عمل کیا جا رہاہے اور سیکیورٹی فورسز کی ان بہیمانہ کارروائیوں نے مسولینی کے پسندیدہ عمل ”STATISM” میں تبدیل کردیا ہے یعنی باالفاظ دیگر حکومت کے خلاف اور حکومتی قوانین سے بڑھ کر کوئی کارروائی نہیں ہو گی،جو کچھ بھی حکومت کرے وہی درست ہے۔

اسٹیٹ فورسز کے ظلم و ستم،ٹارچر، بغیر قانون گرفتاریاں، ہر وقت اور ہر جگہ سرچ آپریشن، ظالمانہ کارروائیاں، کریک ڈاؤن، ٹارگٹڈ قتل، بے جا محاصرے،غیر قانونی حراستیں،گھروں کو جلا دینا، بے گناہ لوگوں کو پکڑ کر شدید تشدد سے ان کی ہڈیاں توڑ دینا، لوگوں کو حراست میں لے کے غائب کردینا، ریپ، مسلمان خواتین پر دست درازی، عصمت دری اور جعلی مقابلوں میں لوگوں کو مار دینا وغیرہ وہ کارروائیاں ہیں جن کے خلاف کشمیریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

بھارتی فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی ان غیرانسانی کارروائیوں نے وادی کے مسلمانوں میں بھارت اور بھارتی فوج کے خلاف شدید نفرت کی ایک دیوار کھڑی کر دی ہے۔ تمام تر بھارتی کوششوں کے باوجود نفرت بڑھ رہی ہے۔کوئی ہفتہ نہیں گزرتا کہ کشمیری بھارت کے خلاف کسی نہ کسی صورت نفرت کا اظہار نہ کریں لہٰذا مظاہرے، احتجاج،فورسز پر حملے روزمرہ کا معمول بن گئے ہیں۔ اب تو سکھ بھی ان مظاہروں میں شامل ہو گئے ہیں اور پاکستان کے جھنڈے کھلے عام لہرائے جاتے ہیں ۔

مقبوضہ جموں کشمیر میں پانچ اگست دوہزار انیس سے کرفیو کا نفاذ ہے، مریضوں کو ادویات تک میسر نہیں آرہی ہیں جب کہ بچے دودھ کے لیے بلک رہے ہیں، ہندوستان کی جابر افواج بے گناہ کشمیری عوام کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے، بھارت سے آزادی لینے کے لیے سرگرم کشمیری رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ مزید کشمیری نوجوانوں کی گرفتاریاں جاری ہیں، ہندوستان کے جابرانہ تسلط کے باعث مقبوضہ جموں کشمیر میں عوام جیل میں بند ہو کر رہ گئے ہیں، محصور کشمیری عوام کی خیرات مانگنے والی خبریں نہیں آرہی ہیں۔ کیا ان حالات میں لوگ بھارت سے محبت کرینگے یا نفرت؟

یاد رہے کہ ظلم و ستم کی یہ کارروائیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں اور اب تو کچھ مخلص قسم کے بھارتیوں نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ اگر غیر انسانی سلوک اور وحشیانہ کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں تو بھارت کے خلاف نفرت مزید بڑھے گی اور کشمیر کو طاقت سے بھارت کے ساتھ رکھنا ممکن نہ ہوگا۔ انسانی حقوق کے دعویداروں کو عالمی سطح پر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیرکے حل سے مشروط ہے، عالمی برادری کو اس سلسلہ میں عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔