وادی سوات میں سیاحوں کی ریکارڈ آمد

یاسین صدیق  اتوار 21 فروری 2021
سیاحوں کی دوبارہ آمد سے مقامی لوگوں کا روزگار چمک اٹھا ہے۔ (تصاویر: بلاگر)

سیاحوں کی دوبارہ آمد سے مقامی لوگوں کا روزگار چمک اٹھا ہے۔ (تصاویر: بلاگر)

سوات والوں نے اس بار سردیوں میں ایسا منظر دیکھا جو ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ اگلے پچھلے سب ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ وہ لوگ جو کورونا کے بعد مایوس ہوگئے تھے، ان کی امیدیں بھی جاگ اٹھیں اور چہروں کی رونق لوٹ آئی۔ مرجھائے ہوئے کاروبار نے بھی کروٹ لی۔ ایسا کیا ہوا کہ سب کچھ اچانک بدل گیا؟

’’موسم گرما میں بہت سے سیاح وادی سوات آتے ہیں مگر کورونا لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد ونٹر ٹورازم کافی حد تک بڑھ گئی۔ اگست 2020 سے اب تک 20 لاکھ سے زائد سیاح یہاں کی سیر کرچکے۔‘‘

یہ کہنا ہے ضلع سوات کے مقامی صحافی ہارون سراج کا۔ ان کے مطابق سیاحتی شعبہ بند ہونے سے سوات کی ہوٹل انڈسٹری کو بہت نقصان پہنچا۔ انڈسٹری سے منسلک 40 ہزار سے زائد ملازمین متاثر ہوئے۔ مگر اب سیاحوں کی دوبارہ آمد سے مقامی لوگوں کا روزگار چمک اٹھا ہے۔

یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا جب ہم 6 دوستوں نے راولپنڈی سے سوات جانے والی گاڑی میں بیٹھ کر قدرتی خوبصورتی سے مالا مال وادی سوات کے سفر کا آغاز کیا۔ راستے میں ریسٹورنٹس اور دکانوں پر لوگوں کی بڑی تعداد دیکھنے کو ملی۔ تقریباً 4 گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم ضلع سوات کے علاقے مینگورہ میں اپنے دوست سلیم کے گھر پہنچے، جس کی رہائش ایئرپورٹ روڈ پر ہے جہاں سیاحوں کےلیے بہت سارے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس بنے ہوئے ہیں۔

یہاں ’’مینگورہ بازار‘‘ بھی ہے، جہاں ہر قسم کی گرم شال، افغانی و چترالی پخول، ثقافتی واس کوٹ، جوتے اور خشک میوہ جات وغیرہ فروخت کیے جاتے ہیں۔ دکانوں پر کئی سیاح خریداری میں مصروف نظر آئے۔ ایک دکاندار کے مطابق ’’سوات کے زیادہ تر رہائشیوں کا روزگار سیاحت سے منسلک ہے۔ لاک ڈاؤن سے لوگوں کا کاروبار بہت متاثر ہوا۔ پچھلے کچھ سال کا موازنہ کیا جائے تو سردی کی شدت زیادہ ہونے کے باوجود اس مرتبہ سیاحوں کی بڑی تعداد امڈ آئی ہے۔‘‘

یہاں جیسے جیسے شام ڈھلتی ہے سردی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ موسم سرد ہونے کے باعث یہاں ہر گھر، ہوٹل اور ریسٹورنٹ میں گیس ہیٹر کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ یہاں گیس کی صورتحال سے مقامی لوگ مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ سوات کی سرد ترین رات میں عشائیہ کرکے فارغ ہوئے تو نیند خاموشی سے غالب آگئی۔ سب مالم جبہ جانے کے ارمان دل میں لیے سوگئے۔
مالم جبہ کا سفر

مالم جبہ سوات کا وہ حسین ترین مقام ہے جو نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کو بھی اپنی جانب کھینچ لاتا ہے۔ مینگورہ سے مالم جبہ کا سفر 3 گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔ سفر مشکل ہے، اس لیے خالی پیٹ سفر کریں۔

مالم جبہ جانے والی سڑک تنگ مگر قدرتی مناظر اور درختوں سے گھری ہوئی ہے۔ راستے میں ہریالی، ٹھنڈی اور تازہ ہوا، سخت سردی کے باعث منہ سے نکلتا سفید دھواں اور نیلا آسمان اپنی جانب متوجہ کرلیتا ہے۔

ان مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مالم جبہ پہنچے۔ آسمان صاف اور سورج بھی سر پر کھڑا تھا لیکن سردی کے باعث دھوپ چبھی نہیں۔ مالم جبہ کی برف پوش پہاڑی اور قدرت کی تخلیق دیکھ کر دل یہی کہتا ہے کہ ’’زندگی یہیں ٹھہر جائے‘‘۔ یہاں کھانے پینے کی ہر چیز مہنگی ہے۔ کوشش کیجئے کہ مینگورہ سے آتے وقت کھانا اپنے ساتھ لائیں۔

یہاں وہ مقامی بچے ابلے ہوئے انڈے فروخت کرتے دکھائی دیے جن کی عمریں پڑھنے لکھنے اور کھیلنے کودنے کی ہیں۔ اظہار اللہ بھی انہی بچوں میں سے ہے، جو کسی مجبوری کے تحت انڈے فروخت کرتا ہے۔

مالم جبہ کی برف پوش پہاڑی پر چیئرلفٹ لطف اندوز ہونے کا وہ واحد ذریعہ ہے جیسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ چیئرلفٹ سے مالم جبہ کی برفیلی پہاڑی کی چوٹی تک پہنچنے کا سفر تقریباً 20 منٹ کے اندر طے کیا جاسکتا ہے۔ جیسے جیسے چیئرلفٹ اونچائی طے کرتی ہے چاروں اطراف سفید دھواں گھیرلیتا ہے۔ سفر تو خوفزدہ کردینے والا ہوتا ہے مگر یہاں کے نظارے سب کچھ بھلا دیتے ہیں۔ چونکہ 4 بجے کے بعد سے اندھیرا چھانے لگتا ہے اس لیے کوشش کیجئے مغرب سے پہلے یہاں کی سیر مکمل کرلیں۔

مالم جبہ سے واپسی پر اکثر سیاح ’’سوات تخت بھائی کباب سینٹر‘‘ پر ٹھہر کر چپلی کباب سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سرد موسم میں گرما گرم چپلی کباب کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ بھوک سے نڈھال سیاحوں کےلیے یہ اچھی جگہ ہے۔
کالام کا سفر

مینگورہ میں ایک اور یخ بستہ رات گزارنے کے بعد اب اگلی منزل کالام تھی۔ کالام کا سفر تھوڑا آسان مگر طویل ہے، اس لیے ناشتہ کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے براستہ بحرین روڈ کالام کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ راستے میں چار باغ، خوازہ خیلہ اور فاتح پور کے بعد مدین اور بحرین کے مقامات آئے۔

اسی روڈ پر ٹراؤٹ فش کا ایک بڑا فارم موجود ہے۔ ٹراؤٹ فش کی افزائش زیادہ تر شمالی علاقہ جات میں ہی ہوتی ہے۔ سوات میں ٹراؤٹ فش کے کئی فارمز اور ہیچریز قائم ہیں۔ یہاں سے پورے پاکستان کو ٹراؤٹ فش مہیا کی جاتی ہے۔ ٹراؤٹ فش ہر کوئی کھانا پسند کرتا ہے۔ نہ صرف مقامی بلکہ دور دراز سے آئے سیاح بھی اسے کھائے بغیر نہیں جانا چاہتے۔ ٹراؤٹ صرف ٹھنڈے اور چلتے ہوئے پانی میں زندہ رہ سکتی ہے۔

وادی کالام کی جانب بڑھتے ہوئے کئی بلند و بالا پہاڑ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کچھ سرسبز اور کچھ برفیلی چادر اوڑھے سیاحوں کے دل موہ لینے میں مصروف ہوتے ہیں۔

کالام میں قدم رکھتے ہی نظریں رہائش گاہ کی متلاشی ہوجاتی ہیں۔ یہاں مناسب قیمت پر اچھی قیام گاہ مل جاتی ہے۔ یہاں گیس نہیں، اس لیے لکڑیاں جلا کر کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ ونٹر سیزن میں تو نلکے میں پانی بھی جم جاتا ہے۔
اوشو جنگل

کالام سے 8 کلومیٹر آگے اوشو جنگل ہے۔ جنگل کی خوبصورتی یہاں لگے بے حساب درخت ہیں، جنہیں دیار کہا جاتا ہے۔ دیار کی لکڑی بہت مہنگی ہے۔ دیار درخت سطح سمندر سے 3600 سے 9000 فٹ کی بلندی پر ٹھنڈی اور مرطوب آب و ہوا میں نشوونما پاتا ہے۔ درخت کی عمر سو سال سے زیادہ ہوتی ہے۔ دیار کی کٹائی پر پابندی ہے۔ اگر اسے کاٹ کاٹ کر ختم کردیا جائے تو جنگل کی خوبصورتی ماند پڑجائے گی۔ لاک ڈاؤن کے بعد سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں کا رخ کررہی ہے لیکن گیس کی عدم دستیابی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ پھر لوگ مجبوراً درخت کٹاتے ہیں۔

ہم نے ان قدرتی نظاروں کو تصاویر اور ویڈیوز میں محفوظ کرلیا اور پھر واپسی کے سفر پر چل پڑے۔ دلکش نظاروں کو الوداعی نظروں سے دیکھتے دیکھتے سفر کٹ رہا تھا۔ دریائے سوات اور ہم ایک ہی سمت میں چل رہے تھے۔ نظاروں کو جتنا دیکھا جاسکتا تھا دیکھا، آخر ان دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جاسکتا تھا؟

سوات پاکستان کا سوئٹزرلینڈ ہے مگر جنگل کاٹ کر پختہ گھروں کی تعمیر سے قدرتی حسن ماند پڑتا جارہا ہے۔ سڑکیں بھی جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ یہاں سائن بورڈز کی کمی ہے۔ کالام میں اگر گیس کی سہولت فراہم کردی جائے تو جنگلات کی کٹائی کی مد میں کروڑوں روپے کے نقصان سے ملک کو بچایا اور وادی کے حسن کو قائم رکھا جاسکتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

یاسین صدیق

یاسین صدیق

بلاگر بین الاقوامی تعلقات کے طالب علم اور شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ان دنوں مقامی روزنامے کی ویب سائٹ پر سب ایڈیٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔