ٹائی ٹینک کے 12مسافر جو زندہ بچ گئے

ڈاکٹر شائستہ جبیں  ہفتہ 7 اگست 2021
اندھیری رات جس نے درجن بھر افراد کی زندگی کو ایک نیا رنگ و روپ دیا ۔  فوٹو : فائل

اندھیری رات جس نے درجن بھر افراد کی زندگی کو ایک نیا رنگ و روپ دیا ۔ فوٹو : فائل

ٹائی ٹینک نامی بحری جہاز انیس اپریل 1912 کی رات 11:40 منٹ پر برفانی تودے سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔

اس تباہ کن رات اور خوفناک حادثے کی یادیں ایک صدی سے بھی زائد وقت گزرنے پر تروتازہ ہیں ، کیونکہ اس تاریک رات نے1500 سے زائد افراد کو ، جن میں بہت سی اپنے اپنے شعبہ جات کے نامور لوگ بھی شامل تھے، موت کی وادی میں دھکیل دیا ۔ اس بدقسمت جہاز میں سوار706 لوگ وہ خوش نصیب تھے، جنہیں جان بچانے والی کشتیوں کے ذریعے بچا لیا گیا۔

بچ جانے والوں میں اکثر پر اس سانحے کے مہیب اثرات تمام عمر رہے، تاہم بعض افراد نے اپنی اس خصوصی حیثیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ہیرو بن گئے ۔ آج ان بچ جانے والوں میں سے بھی کوئی ایک شخص اس دنیا میں موجود نہیں ہے ۔ ملوینا ڈین نامی بچی، جو دو ماہ کی عمر میں اس حادثے سے محفوظ رہی، وہ اس سانحہ سے متاثرہ افراد میں سے آخری تھی جو 2009 ء میں 98 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئی۔

اس سانحے میں بچ جانے والے افراد جو کسی نہ کسی صورت میں مشہور ہوئے، وہ یہ ہیں :

1۔ مولی براؤن

ٹائی ٹینک کے حادثے میں بچ جانے والوں میں سماجی کارکن اور فیاض خاتون مارگریٹ براؤن بھی تھیں، جو ’’ نہ ڈوبنے والی مولی براؤن‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ امریکا کے ایک نامور تھیٹر نے اس پر ڈرامہ کیا اور بعد میں اس کی کہانی پر فلم بھی بنائی گئی۔ حادثے کی رات، جہاز سے مسافروں کی انخلاء  کی کوششوں کے دوران میں اسے بھی جان بچانے والی کشتی کے ذریعے بچا لیا گیا۔

اس نے جان بچانے والی کشتی کے عملے سے واپس جا کر مزید لوگوں کی جان بچانے کی درخواست کی، جو کہ نہیں مانی گئی۔ کارپیتھیا نامی جہاز، جس نے اس حادثے میں بچ جانے والے مسافروں کی مدد کی، اس جہاز پر مولی براؤن نے بچ جانے والوں کے لئے خوراک اور کمبل جمع کیے اور ایک کمیٹی تشکیل دی، جس کا مقصد اس حادثے میں سب کچھ کھو بیٹھنے والوں کی مدد کرنا تھا۔

جب جہاز نیویارک پہنچا تو مسز براؤن کے دورانِ سفر ان بے غرض کاموں نے اسے مشہور کر دیا۔’’ کھارے اور نمکین پانیوں والے سمندر میں پھنسے رہنے کے بعد اب میں خود کو محفوظ سمجھ رہی ہوں۔‘‘  یہ بات بہت بعد میں اس نے اپنی بیٹی کو لکھے گئے ایک خط میں تحریر کی۔

اس نے لکھا کہ اب میرے پاس روزانہ پھول آتے ہیں، لوگوں کے خطوط اور ٹیلی گرام پیغامات کا اتنا ڈھیر جمع ہوتا ہے کہ میں متذبذب ہو جاتی ہوں۔ کانگریس میں مجھے میڈل دینے کی قرارداد جمع کرائی جا رہی ہے، میں جانتی ہوں کہ یہ سب اس حادثے کی بدولت ہے۔ اتنی شہرت اور ہر دلعزیزی کے باوجود مسز براؤن نے شہرت کو اپنے دماغ تک نہیں پہنچنے دیا۔ اس نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کیا اور کانگریس کے ہمراہ جنگ عظیم اول میں فرانس میں امدادی کاموں میں حصہ لیا، جس پر اسے حکومت فرانس کی جانب سے سرکاری اعزاز سے نوازا گیا۔ 1932ء میں اپنی وفات سے قبل اس نے اداکاری کی دنیا میں بھی قدم رکھا۔

2۔ میڈیسن ایسٹر

ٹائی ٹینک میں سوار میڈیسن ایسٹر نے محض اٹھارہ سال کی عمر میں 47 سالہ، پہلے سے شادی شدہ کرنل جان جیکب ایسٹر سے شادی کی تھی۔ وہ شادی کے بعد بیرون ملک طویل چھٹیوں پر تھے اور میڈیسن کی امید سے ہونے کی خبر پر اس جہاز کے ذریعے گھر واپس روانہ ہوئے تھے۔ بدقسمتی سے جان جیکب کو نہ بچایا جا سکا۔ میڈیسن کو بس یہی یاد تھا کہ اس رات جب اسے جان بچانے والی کشتی پر سوار کرایا جا رہا تھا تو کرنل ایسٹر اس کے ساتھ تھا۔ اس کے بعد اس وقت تک اس کے بارے میں معلوم نہ ہو سکا، جب تک انتظامیہ نے ڈوب جانے والے مسافروں کے نام نہ جاری کر دئیے۔

میڈیسن نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا لیکن اس حادثے کے نتیجے میں لوگوں کی اس کی زندگی میں دلچسپی نے اسے مشکلات سے دوچار کیا۔ وہ اس حادثے کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی، کیوں کہ اسے لگتا تھا کہ اس حادثے نے ایک سیاہ بادل کی مانند اس کی ساری زندگی کو تاریکی اور ناامیدی کی طرف دھکیل دیا تھا۔ اس نے دو شادیاں کیں اور صرف 46 سال کی عمر میں 1940 میں فوت ہو گئی۔

3۔ ایوا ہارٹ

سات سالہ بچی اپنے والدین کے ساتھ اس جہاز کی مسافر تھی۔ اس بدقسمت جہاز کی یادداشتیں بیان کرنے والی آخری ہستی ایوا ہارٹ تھی، جو 1991 میں اکیانوے سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئی۔ مس ہارٹ جو کہ مجسٹریٹ بنی اور قانون کے شعبے میں حکومت برطانیہ کا اعلیٰ ترین اعزاز حاصل کیا، نے مقامی ٹیلی ویژن کو ایک سیریز کی صورت میں اپنی یادداشتوں پر مبنی انٹرویو ریکارڈ کرایا۔ اسے یاد تھا کہ کیسے جہاز میں شور ہونے پر اس کی ماں نے بستر میں سوئے ہوئے اس کے باپ کو بستر سے کھینچ کر نکالتے ہوئے اوپر عرشے پر جا کر صورتحال معلوم کرنے کو کہا تھا۔

جب یہ طے ہوا کہ محدود تعداد میں دستیاب جان بچانے والی کشتیوں میں خواتین اور بچوں کو پہلے سوار کرایا جائے، تو اس کے باپ نے اسے کشتی میں سوار کراتے ہوئے مضبوطی سے ماں کا ہاتھ پکڑے رہنے کی تاکید کی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب سات سالہ بچی کو احساس ہوا کہ اس کا باپ ساتھ نہیں آ رہا اور یہ کہ وہ دوبارہ نہیں دیکھ سکے گی۔ وہ کہتی تھی کہ اگر چند اور اضافی کشتیاں ہوتیں تو اس رات کوئی بھی نہ ڈوبتا۔ ہارٹ کے باپ نے اس کی ماں کو کشتی میں بٹھاتے ہوئے اپنا کوٹ دیا، جس میں ٹائی ٹینک کی سٹیشنری پر لکھا ہوا ایک خط تھا، جو اس نے اپنی ماں کو بھیجنے کے ارادے سے لکھا تھا اور اس کے آخر پر ایوا ہارٹ نے لکیریں کھینچی ہوئی تھیں۔ یہ خط 2014 میں نیلام ہوا۔

4۔ مچل اور ایڈمنڈ

چار سالہ مچل اور دو سالہ ایڈمنڈ ٹائی ٹینک کے یتیم بچوں کے نام سے مشہور ہوئے، کیونکہ انہیں بغیر والدین یا سرپرست کے بچایا گیا۔ ان کا باپ ، جس کی فرانسیسی بیوی سے علیحدگی ہوئی تھی، ایک فرضی نام سے کاغذات بنوا کر ، بچوں کو بیوی سے چھین کر اس جہاز میں سوار ہو کر امریکا جا رہا تھا۔

اس نے آخری کشتی میں بچوں کو سوار کرایا اور خود کو جہاز میں ہی رہنے دیا۔ جب ان بچوں کی تصاویر اور شناخت کے اعلان اخبارات میں شائع ہوئے، تو ان کی ماں انہیں لینے امریکا پہنچی۔ ایڈمنڈ 1953 میں وفات پا گیا جبکہ مچل ٹائی ٹینک کا آخری آدمی تھا جو 92 سال کی عمر میں2001 ء میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔ وہ اپنے وطن فرانس میں فلسفے کا پروفیسر بنا اور اپنے مضمون کے ساتھ ساتھ وہ اس حادثے کی بھی بات کیا کرتا تھا جو اس کے باپ کی جان لے گیا۔

’’انہوں نے مجھے اچھی طرح گرم کپڑوں میں لپیٹا اور مجھے اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ ایک اجنبی نے بالکل ایسے ہی میرے بھائی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ اب جب میں اس بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ مرنے والے ہیں۔ ایک برطانوی خبر رساں ادارے  سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا :’’ موت اور اس کے احساس کو اتنے قریب سے دیکھنے کے بعد میں چار سال کی عمر میں ہی مر گیا تھا، اس کے بعد سے میں مصنوعی اور خود کو جھانسہ دینے کیلیے محض زندگی گزار رہا ہوں۔‘‘

5۔ جے. بروس اسمی

جے. بروس جسے اخبارات میں بزدل اور فلموں میں ولن کے نام سے منسوب کیا گیا اور اسے برے الفاظ میں شہرت ملی۔ امریکی اخبارات میں اس کے پہلی کشتی میں زنانہ لباس پہن کر فرار ہونے کی کئی جھوٹی سچی خبریں لگائی گئیں، جنہوں نے اسے بہت مایوس کیا۔ بعد میں اس کے پوتے میلکم چیپ نے ایک برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ

’’ اس کے دادا ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ ’ وہ اس بات کا یقین کر لینے کے بعد کہ جہاز میں کوئی عورت یا بچہ موجود نہیں ہے، کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ وہ کسی بھی ایسے غلط کام میں ملوث نہیں تھے کہ جس کی بازگشت ان کی پوری زندگی پر حاوی رہتی۔ میلکم نے انکشاف کیا کہ وہ تمام عمر تکلیف دہ صدماتی دباؤ کا شکار رہے، اکثر ماضی کو یاد کرتے اور خواہش کرتے کہ کاش !  وہ اس جہاز کا حصہ نہ ہوتے!!‘

میلکم کے باپ مسٹر جان چیپ نے بتایا کہ ان کی ماں اور دادی نے کبھی ٹائی ٹینک کے بارے میں بات نہیں کی، وہ صرف یہی کہتی تھیں کہ اس واقعے نے ان کی زندگیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ جے بروس کے بیٹے کے مطابق اس سانحے سے ان کے تمام اہلِ خانہ نے تکلیف اٹھائی۔ جے  بروس 74 سال کی عمر میں 1937ء میں دنیا سے رخصت ہوا۔ ٹائی ٹینک کی کہانی میں اس کا کردار ایک اسرار کی حیثیت رکھتا ہے، جو کبھی حل نہیں ہوا۔

6۔ لوسی ڈوف گورڈن

اس حادثے میں بچ جانے والی ایک اور متنازعہ شخصیت ’ لیڈی لوسی ڈوف گورڈن ‘ ہے جو مختلف رسمی تقریبات اور فلموں کے لیے ملبوسات تیار کرنے والی ایک فیشن ڈیزائنر تھی۔ کہا جاتا ہے کہ لیڈی لوسی ڈوف نے اپنے شوہر کے ہمراہ 40 افراد کی گنجائش والی کشتی میں صرف 12 لوگوں کو سوار کر کے اپنی اور اپنے شوہر کی جان بچائی۔ اس کے شوہر کا بیان تھا کہ جب وہ کشتی پر سوار ہوئے تو جہاز میں مزید عورتیں یا بچے نہیں تھے، جب کہ افواہیں یہ تھیں کہ جوڑے نے کشتی کے عملے کو رشوت کی پیشکش کی کہ وہ مزید لوگوں کو بچانے کی بجائے انہی 12 لوگوں کو لے کر چل دیں۔ جب ان پر اخبارات نے تنقید کی تو لیڈی لوسی نے اپنی ایک دوست کو خط لکھا ( جو 2015 میں نیلام ہوا) جس میں اس نے لکھا:’’ ہماری واپسی پر انگلستان میں ہمارے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، اس سے تو لگتا ہے کہ ہم نے اپنی زندگیاں بچا کر کوئی جرم کیا ہے۔‘‘

لیڈی لوسی ایک بار پھر سمندر برد ہونے سے محفوظ رہی، جب وہ بیماری کے سبب اس بحری جہاز میں سوار نہ ہو سکی، جسے جنگ عظیم اول کے دوران جرمنی کی آبدوزوں نے آبی بم مار کر تباہ کر دیا تھا۔ اس نے 1935 میں 71سال کی عمر میں انتقال کیا۔

7۔ وائلٹ جوزف

’’ نہ ڈوبنے والی خاتون‘‘ کے نام سے مشہور تو مولی براؤن ہوئی، لیکن اس نام کی اصل حق دار ٹائی ٹینک کی خاتون منتظم ’ وائلٹ جوزف ہے، جو تین بار سمندری تباہیوں میں محفوظ رہی۔ وائلٹ 1911 میں اولمپک نامی بحری جہاز پر خدمات سر انجام دے رہی تھی جو دوسرے جہاز سے ٹکرا گیا، لیکن بحفاظت ساحل تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ اسی طرح وہ ٹائی ٹینک پر بھی بچا لی گئی۔

اس نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ میں جہاز کے عرشے پر عملے کے دیگر افراد کے ہمراہ پرسکون کھڑی خواتین کو بچوں کے ساتھ، اپنے شوہروں کو چھوڑ کر چیخ چیخ کر کشتیوں میں سوار ہوتے دیکھ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد جہاز کے ایک افسر نے ہمیں ایک کشتی میں سوار ہونے کا حکم دیا، تا کہ مسافر خواتین کو یقین ہو جائے کہ کشتیاں محفوظ ہیں۔ بعد میں اس نے ٹائی ٹینک جیسے جہاز ’ بریٹینیک ‘ پر نرس کے طور پر کام کیا، جو کہ 1916 ء میں جرمن کان میں جا لگا اور ڈوب گیا۔ اس حادثے میں  30افراد جان سے گئے، لیکن ہزار سے زائد لوگ بچا لیے گئے، جن میں مس جوزف بھی شامل تھی.

وہ بتاتی تھی کہ اس نے پانی میں چھلانگ لگائی، لیکن وہ جہاز کے پیندے کے ساتھ جا لگی، جس سے اس کے سر میں چوٹ آئی۔ اس وقت تو وہ بچ گئی لیکن بعد میں مستقل سر درد رہنے کی وجہ سے وہ ڈاکٹر کے پاس گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی کھوپڑی کی ہڈی میں دراڑ پڑ گئی ہے۔ اس نے ریٹائرمنٹ تک مختلف بحری جہازوں پر خدمات سر انجام دیں اور 1971 میں 84 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئی۔

8۔ کارل بہیر

ٹینس کے ماہرکھلاڑی اورمستقبل میںہال آف فیم (Hall of Fame) میںجگہ پانے والے کارل بہیراپنی ہونے والی بیوی ہیلن کے تعاقب میں جہازپرسوار ہوئے، جو اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ چھٹیاںمنانے جا رہی تھی۔ سمندری تودے سے جہاز کے ٹکرانے کے بعد کارل نے ہیلن کے خاندان کو جگایا اور وہ سب کشتی میں سوار ہونے میں کامیاب رہے۔ کارل کے مطابق اگرچہ ٹائی ٹینک کا ڈوبنا بھی بہت دردناک تھا، لیکن جو چار دن انہوں نے کارپیتھیا نامی جہاز پر دورانِ سفر گزارے، وہ بہت زیادہ مشکل اور بدترین تھے، کیونکہ تمام بچ جانے والے شدید صدمے اور غم کا شکار تھے۔

کارل ٹینس اور بنکاری دونوں میں بہت کامیاب رہا ۔ ہیلن اور اس کی شادی بھی ہو گئی اور انہوں نے چار بچوں کے ساتھ کامیاب زندگی گزاری لیکن اس کی پوتی ہیلین سین فورڈ کے مطابق جہاز ڈوبنے کی یادیں ہمیشہ اس کے دادا کے تعاقب میں رہیں، وہ خواہش کرتا تھا کہ کاش! اس نے کسی کو ڈوبنے سے بچایا ہوتا تاکہ اس کے بچاؤ میں بھی کوئی کارنامہ لکھا جاتا۔ وہ ایک نہ سمجھ آنے والی اداسی اور بے ربط پچھتاوے کا شکار رہا اور 1949 میں 64 سال کی عمر  میں گزر گیا ۔

9۔ لوسینائیل

روتھسکینوابزادی لوسی نائیل کو اس تباہی کے ہیروز میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، اس نے جان بچانے والی کشتی کو چلانے اور سٹیرنگ قابو رکھنے کے لیے اپنی خدمات مہیا کیں ۔ کشتی کے عملے کے انچارج نے جو ایک ماہر تیراک تھامس جونز تھا ،  بتایا کہ وہ بھی ہماری مدد کرنا چاہتی تھی، اس لیے میں نے اسے کشتی کا اسٹیرنگ وہیل تھما دیا۔ نوابزادی نے نہ صرف جان بچانے والی کشتی میں سوار مسافروں کی ہمت بندھائی بلکہ کارپیتھیا نامی جہاز کے ذریعے بچاؤ کے بعد بھی ان کی دیکھ بھال کرتی رہی۔

تھامس جونز، نوابزادی اور ایک اور بچ جانے والا شخص، جس کی نوابزادی نے مدد کی تھی، خط و کتابت کے ذریعے 1956 ء میں نوابزادی کی موت تک باہم رابطے میں رہے۔ اس کی موت کے بعد خاندان کو وہ تمام خطوط ملے۔

اس کی پڑپوتی اینجلا کے مطابق اب یہ یقین کرنا مشکل ہے، کیونکہ اس کی پڑدادی نے گھر واپسی کے بعد سے موت تک کبھی ٹائی ٹینک کی تباہی کے حوالے سے بات تک نہ کی تھی۔ اس کی موت کے بعد گھر والوں کو وہ خطوط ملے، جن سے اس خوفناک رات میں اس کی بہادری اور بے غرضی کے بارے میں آگاہی ہوئی ۔ ٹائی ٹینک کے سانحے کے بعد بھی انہوں نے فلاح عامہ کے کاموں میں حصہ لینے کے مقدس کام کو جاری رکھا اور جنگ عظیم اول کے دوران رضاکارانہ طور پر نرسنگ کی خدمات سر انجام دیں ۔

10۔ چارلس لٹولر

ایک اور ہیرو جہاز کے عملے کا ایک تجربہ کار رکن چارلس لٹولر تھا۔ چارلس، جہاز کا سیکنڈ انچارج افسر تھا، اسے دوران حادثہ جان بچانے والی کشتیاں بندرگاہ کی جانب اتارنے کی ذمہ داری دی گئی، وہ آخر تک جہاز کے عرشے پر ٹھہرا رہا، یہاں تک کہ وہ جہاز کے ساتھ نیچے کی طرف جانے لگا۔ اس نے بعد میں اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’’ ٹائی ٹینک اور دوسرے جہاز‘‘ میں لکھا کہ میں بس ایک دو منٹ میں ڈوبنے والاتھا، جب اچانک جہاز کا بوائلر پھٹنے سے ایک زوردار دھماکہ ہوا اور گرم ہوا کا ایک زوردار دباؤ شافٹ کی جانب سے آیا اور مجھے اوپری سطح پر لا پھینکا۔ اس طرح وہ ایک کشتی میں سوار ہونے میں کامیاب ہوا۔

جنگ عظیم اول میں امتیازی کارنامے سر انجام دینے کے بعد اس نے اپنی بیوی کے ہمراہ انگلستان میں ایک مہمان خانہ قائم کیا اور ایک بادبانی کشتی خریدی، جس کی مدد سے وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران پھنسے ہوئے انگریز فوجیوں کی مدد کرتا رہا ۔ اس  نے 1952 میں  78 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔

11۔ ایلس بورمان

جان بچانے والی کشتی نمبر چھ میں صرف مولی براؤن ہی واحد مسحور کن اور متاثر کن خاتون نہیں تھی، وہاں ایلس بھی تھی جو کہ اس حادثے سے قبل اور بعد میں بھی عورتوں کے حقوق کی وکیل رہی ۔ اس نے اپنی سوانح عمری میں اس رات کے بارے میں لکھا: ’’ جیسے ہی جہاز کے انجن بند ہونے سے خاموشی ہوئی، جہاز کے منتظم عملے نے ہمارے دروازے بجا کر عرشے کو آنے کا کہا ۔ عرشے سے ہمیں حفاظتی کشتیوں میں سوار کرایا گیا اور ہمیں جلد از جلد جہاز سے دور ہونے کو کہا گیا ۔ اس سیاہ رات میں بحراوقیانوس میں تیرتے برفانی تودے اور سمندر کے وسط میں چپو چلا  کر جہاز سے دور جانا ایک عجیب و غریب ہولناک تجربہ تھا‘‘۔

ایلس نے جنگ عظیم اول میں نرس کے طور پر رضاکارانہ طور پر خدمات سر انجام دیں اور 1917ء میں اپنے قیام روس کے دوران انقلاب روس کا بھی مشاہدہ کیا ۔ جب 1918 ء میں انگلستان میں عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق ملا تو اسے بھی قانون کی تعلیم کی اجازت مل گئی اور یوں وہ لندن کی عدالت میں بطور بیرسٹر پریکٹس کرنے والی پہلی خاتون ٹھہری ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس نے عورتوں کی شاہی رضاکارانہ تنظیم کے لیے خدمات سرانجام دیں اور پھر اقوام متحدہ کے تحت خواتین کے حقوق کے لئے کمیشن کے قیام میں تعاون کیا ۔ اس نے 1973 میں تراسی سال کی عمر میں انتقال کیا ۔

12۔ ڈورتھی گبسن

خاموش فلموں کی اداکارہ ڈورتھی گبسن اپنی والدہ کے ہمراہ چھٹیاں منانے کے لیے اس جہاز  میں سوار تھی ،  جسے جان بچانے والی کشتی نمبر سات کے ذریعے بچا لیا گیا ۔ بعد میں ایک جریدے کو اس حادثے کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے اس نے بتایا:’’ اچانک وحشیانہ آوازیں جہاز کے ہر طرف گونجنے لگیں اور لوگ ایک غیر معمولی ہنگامہ کرتے ہوئے جہاز کی ریلنگ کی طرف بھاگے۔  تب مجھے اس سانحے کے بارے میں معلوم ہوا جو موت تک میری یادداشت کا انمٹ حصہ رہے گا ۔

کوئی بھی ان دہلا دینے والی آوازوں کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ گبسن نے اس حادثے کے حوالے سے بنائی گئی پہلی فلم میں کام کیا ، جو اس واقعہ کے صرف ایک ماہ بعد ہی نمائش کے لیے پیش کی گئی لیکن وہ اس سانحے کے اثرات سے نکلنے میں کامیاب نہ ہوئی اور جلد ہی فلم انڈسٹری چھوڑ کر یورپ منتقل ہو گئی ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران بدقسمتی سے وہ ایک اجتماعی کیمپ میں قید رہی اور 1946 میں چھپن سال کی عمر میں دل کے دورے سے انتقال کر گئی ۔

کبھی نہ ڈوب سکنے کے دعوے کے ساتھ بنائے گئے اور فخریہ سمندر میں اتارے گئے جہاز ٹائی ٹینک کی کہانی قیامت تک لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت کا سامان ہے ۔ انسانی تخلیق، خواہ وہ کتنی ہی مکمل اور بہترین کیوں نہ ہو، قدرت خداوندی کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ مالک کائنات چاہے تو ناقابل تسخیر ٹائی ٹینک کو ڈبو دے اور معمولی جان بچانے والی کشتیوں کے ذریعے سینکڑوں لوگوں کو بچا لے ۔ زندگی، موت، کامیابی، ناکامی سب اسی کے ہاتھ میں ہے، انسان جب خود کو تقدیر کا مالک سمجھ بیٹھتا ہے تو پھر ایسے حادثات کے ذریعے اسے اس کی حقیقت سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔