’’کراچی ڈویژن‘‘

رضوان طاہر مبین  اتوار 15 اگست 2021
تشدد اور امن وامان کے مسائل بیان کرتی ہوئی اِس ’ویب سیریز‘ کی کہانی بہتر کی جا سکتی تھی ۔  فوٹو : فائل

تشدد اور امن وامان کے مسائل بیان کرتی ہوئی اِس ’ویب سیریز‘ کی کہانی بہتر کی جا سکتی تھی ۔ فوٹو : فائل

جب آپ کسی  تاریخی یا حقائق کے پس منظر میں کوئی افسانہ  یا ناول بُنتے ہیں تو پھر آپ پابند ہوتے ہیں کہ منتخب کیے گئے  پس منظر کے بنیادی حقائق سے تو کم ازکم چھیڑ چھاڑ  بالکل بھی نہ کیجیے۔۔۔ ہاں، آپ اس پس منظر میں اپنی کہانی کے تال میل بنانے میں بالکل آزاد ہیں۔

البتہ اگر آپ کسی تاریخی مماثلت اور سچے واقعے سے ملتی جلتی کوئی تخلیق کرتے ہیں، تو وہاں آپ کو بالکل رخصت دی جا سکتی ہے کہ آپ کہانی اور کردار سے ہی نہیں بلکہ جیسا چاہے پس منظر بھی تخلیق کر ڈالیے۔ ظاہر ہے آپ نے تو حقیقت سے جُڑا ہوا ایک فرضی پس منظر ہی ترتیب دیا ہے، قارئین اور ناظرین اپنے آپ اشارہ سمجھ لیں گے اور ساتھ میں اس میں آپ پر کوئی بنیادی حقائق سے برعکس ہونے کا الزام بھی نہیں لگا سکتا۔ یہ تو ہوگئی ایک اصولی اور اخلاقی بات۔

ہم نے جوں ہی ’’کراچی ڈویژن‘‘ کی اِس ویب سیریز کا تذکرہ سنا تو لفظ ’کراچی‘ نے ہماری ساری توجہ کھینچ لی۔ ’ٹریلر‘ پر لوگوں کی رائے بھی سنی، لیکن ہم نے اسی رات دو ڈھائی گھنٹے لگا کر ’کراچی ڈویژن‘ کے پورے ’درشن‘ کر ہی لیے۔

یوں تو ہمیں بھی اس کا ’ٹریلر‘ دیکھ کر ہی کافی اندازہ ہوگیا تھا کہ دراصل اس ویب سیریز کا ’مرکزی خیال‘ کیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس حوالے سے قلم اٹھانے سے پہلے اس سیریز سے مکمل آگاہی ضروری تھی۔۔۔ اس کے بغیر اس کی کہانی، کردار، مکالمے، عکس بندی، مناظر اور کیمرے کی کارفرمائی پر کوئی رائے کیوں کر دی جا سکتی تھی۔۔۔

بہرحال ہم نے مجموعی طور پر ’کراچی ڈویژن‘ کی کہانی خاصی مایوس کُن اور بے جان پائی، جس میں اکثر گالیوں کا استعمال مکالموں کو خاصا مصنوعی بنا دیتا ہے۔۔۔ کیوں کہ کسی بھی زبان میں گالی اور مغلظات کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ یک سر بے ساختہ ہوتی ہیں، تبھی لوگ اپنے سخت جذبات کا اظہار کرتے کرتے ایک دم چپ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’بس، اب میرے منہ سے کوئی گالی والی نکل جائے گی۔۔۔!‘‘ یہی وجہ ہے کہ ’کراچی ڈویژن‘ میںیہ گالیاں نہ صرف ’مس فٹ‘ معلوم ہوتی ہیں، بلکہ شاید اسی سبب اکثر مقامات پر پورا فقرہ اور مکالمہ ہی بناوٹی اور میکانیکی سا ہو کر رہ جاتا ہے۔ بطور فلم بین بھی یہ چیز خاصی چُبھتی ہے۔۔۔

بہت سی جگہ بوجھل کہانی اور مناظر میں بے ربطی کے سبب نگاہ بے ساختہ گھڑی کی سمت جاتی ہے کہ دیکھیں کہ یہ سیریز اب کتنی باقی رہ گئی ہے۔۔۔ لیکن کُل ملا کر کیمرے اور لینس وغیرہ کا استعمال بلاشبہ بہت اعلیٰ ہے، اس عکاسی پر ٹیکنالوجی اور حقیقت کے رنگوں کی تکمیل بھی ہمیں داد دینے پر مجبور کرتی ہے، لیکن بار بار یہ خیال آتا ہے کہ اگر اس موضوع پر فلم بنانے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا، تو تھوڑی سی محنت سے بہتر اور حقیقت سے قریب تر کہانی بھی تو بنائی جا سکتی تھی۔۔۔

’کراچی ڈویژن‘ نامی ویب سیریز میں حقائق سے متصادم ہونے کی سب سے بڑی غمّازی یہی ہے کہ یہاں جس قوم کے باقاعدہ دو ’گینگ‘ باہم متصادم اور ایک دوسرے کے مخالف بنا کر دنگا فساد کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ اس طرح کے گینگ کراچی کی گذشتہ 70 سالہ تاریخ میں کبھی رہے ہی نہیں۔۔۔! سیاسی مارا ماری اور بہت سی سیاسی جماعتوں کے ’عسکری ونگ‘ کا معاملہ ضرور رہا ہے۔

کراچی میں ’گینگ وار‘ کے مسائل شہر کے کچھ قدیمی علاقوں میں زیادہ پیش آئے، جہاں کی کہانی ’کراچی ڈویژن‘ بالکل بھی نہیں ہے۔ البتہ 1990ء کی پوری دہائی میں شہر کی ایک سیاسی جماعت کی تقسیم نے نہایت بھیانک اور خوں ریز رنگ اختیار کیا۔۔۔! یہ تصادم، مارکٹائی اور قتل وغارت اس طرح پتھر پر لکیر کی طرح ہے کہ کوئی اندھا بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔۔۔ لیکن ’کراچی ڈویژن‘ میں یہ کہانی بھی قطعی طور پر پیش نہیں کی گئی۔ یا اگر فرض کر لیجیے کہ آپ نے دراصل اسی موضوع کو ہی چُنا ہے، تو پھر آپ نے فقط دو متصادم گروہ پیش کیے۔

ان دونوں کے اصل مسائل، وجۂ اختلاف اور باہمی تصادم کی عکاسی کرنے کی ذرا سی بھی کوشش نہیں کی، ورنہ اس تصادم میں ایسی ایسی رقت آمیز کہانیاں موجود ہیں کہ آپ فلم بینوں کی توجہ بہت آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔  اس تصادم کو دکھاتے ہوئے آپ کے لیے لازم ہوتا کہ اس پوری کہانی کے پس منظر اور واضح ترین حقائق کو بھی ناطرین تک پہنچاتے، کہ کس طرح ایک دھڑے کو مسلح کر کے اسے دوسرے سے لڑ جانے کے حالات بنائے گئے تھے۔

کس طرح اپنے حقوق کی جدوجہد کے لیے منظم ہونے والوں میں باہم کشت وخون ہوا اور روزانہ دسیوں لاشیں گریں، باقاعدہ ’نوگو ایریا‘ بنے اور کس طرح اس وقت ان میں سے ایک گروہ کی باقاعدہ سرکاری سرپرستی کی گئی۔۔۔ یہ دکھانا یقیناً آسان امر تو نہ تھا۔۔۔۔ پھر وہ گروہی تصادم ’گینگ وار‘ تو بالکل بھی نہیں تھا، بلکہ سو فی صد سیاسی، نظریاتی اور ’اندھی عقیدت‘ کا ایک جنون سا تھا۔۔۔ جو کہ اس ’ویب سیریز‘ میں ہمیں بالکل بھی نظر نہیں آتا۔

اس ویب سیریز میں دکھائے گئے دو گینگ میں سے پہلا گروہ ’طارق مرزا‘ کا ہے، جو نہ صرف شہر کے حالات خراب کراتا ہے، بلکہ براہ راست خود بھی لوگوں کو قتل کرتا پھرتا ہے، شہر میں بم دھماکے بھی کراتا ہے اور اس بے امنی کے عوض ’را‘ سے روپیا بھی وصول کرتا ہے۔۔۔ اور اس کے مقابل ’سلیم گٹکا‘ نامی گینگ ہے، وہ بھی کراچی میں  اسی طرح کی دہشت گردی اور قتل وغارت میں ملوث ہے۔

ایک منظر میں دکھایا گیا کہ مخالف گینگ کے کہنے پر بھتّا وصولی کرنے والے اپنی ہی تنظیم کے ارکان کو ’طارق مرزا‘ خود گولیاں مار دیتا ہے اور ان کی لاشوں کو بوری میں بند کر کے ’سلیم گٹکا‘ کے گھر کے باہر پھنکوا دیتا ہے۔۔۔!

اس پوری سیریز میں نظر آنے والے ایک ’بہاؤ‘ سے ایک مختلف اور حقیقت سے قریب تر چیز کی عکاسی بھی سامنے آئی۔۔۔ یعنی جعلی پولیس مقابلہ۔۔۔! جب ایک ملزم کو عدالت سے مبینہ طور پر رشوت کے عوض ضمانت مل جانے کی اطلاع ملتی ہے، تو ’ایس ایس پی‘ اسے ایک ویرانے میں ’آزاد‘ کر کے دوڑاتا ہے کہ بھاگ جاؤ اور پھر اسے عقب سے گولیاں مار کر قتل کر دیتا ہے۔

’کراچی ڈویژن‘ میں بول چال کا تذکرہ کیجیے، تو ایک کردار لَلّن کی جانب سے ثقیل ہندی الفاظ کے استعمال سے تصنع بہت زیادہ نمایاں ہو رہا ہے۔۔۔ کراچی کی زبان آپسی تال میل سے ایک مختلف اور منفرد شکل اختیار کر گئی ہے، جس میں دو تین الگ لہجے بھی معروف ہیں، لیکن سوائے ہندوستانی فلموں کی نقل اتارنے کے یہاں کوئی بھی ایسے ’ہندی‘ الفاظ استعمال نہیں کرتا۔۔۔ اسی طرح ایک ملزم کا کراچی کی مشہور دکان ’جاوید نہاری‘ کے پاس اپنی موجودی کا بتانا، ایک مفرور ملزم کے ’جنوبی افریقا‘ سے کراچی آنے کا تذکرہ اور ’’بھائیِ بھائی‘‘ کی تکرار اس ویب سیریز کے اصل ’موضوع‘ سے جوڑنے کے لیے نہایت واضح عوامل ہیں۔

’کراچی ڈویژن‘ کے پہلے سیزن کی چھے اقساط کے عنوانات کچھ یوں ہیں۔ میٹ طارق مرزا، دی فارن اینیمی، دی اسٹرینج کوپ، برن کراچی برن، دی ڈیل اور دی بگ لوس۔ فلم کے لکھاری اور ڈائریکٹر شمعون عباسی نے مرکزی کردار (طارق مرزا) بھی ادا کیا ہے، ان کے مقابل عمران پٹیل (سلیم گٹکا) ہیں، جب کہ دیگر کرداروں میںعزیر عباسی (ذاکر ماموں)، ماہین رضوی (سارہ، صحافی)، حسام خان (بلال قریشی)، رافع خان (ایس ایس پی ممتاز) اور دیگر شامل ہیں۔کراچی جیسے گرما گرم موضوع کو منتخب کرنے والے شمعون عباسی کی اس سیریز کے اگلے سیزن میں دیکھنا ہوگا کہ کہانی کیا رخ اختیار کرتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔