مختصر بیان

حمید احمد سیٹھی  اتوار 15 اگست 2021
h.sethi@hotmail.com

[email protected]

ہم پانچ دوستوں کا معمول تھا کہ شام سات بجے شہر کے بڑے پارک میں اکٹھے ہو جاتے اور ایک گھنٹہ گپیں لگاتے ہوئے واک کرتے، اتوار کے دن چھٹی کرتے۔ ایک دن بروز ہفتہ اتوار سے ایک دن پہلے ہم نے طے کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا، Covid نامی وبا نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ہم مل کر سوچیں کہ اس وبا کو ہم نے کیسا محسوس کیا اور اس نے ہمارے معمول کے شب و روزمیں کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔ جب پانچ دوستوں میں سے ڈاکٹر نے اس وباء کا مفصل ذکر کر دیا تو دوسروں نے اپنے اپنے روز و شب کا حساب دینا شروع کر دیا۔ دوسرے دوست نے بتایا کہ کورونا سے چین کے پڑوسی ممالک بڑی تیزی سے متاثر ہوئے لیکن انھوں نے اس کو سنجیدگی سے نہ لیا لیکن جب ایران کے راستے پاکستان واپس آنے والے زائرین اس وباء سے متاثر ہو کر ملک کے اطراف اپنے گھروں کو لوٹے تو حکومت بھی حقیقت سے لا علم رہی۔

اس طرح پاکستان واپس آنے والوں کی وجہ سے ملک کے بہت حصوں میں اس وباء کی پہلی کھیپ پھیل گئی لیکن جب ہلاکتیںزیادہ ہو گئیںتب حکومت نے ایران کے ساتھ رستوں کو کنٹرول کیا۔ اس دوست کا کہنا تھا حکومت کی وارننگ کے باوجودCovid  کی آمد کی رفتار قابو میں نہ آ سکی۔ متاثرین اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کی بڑی وجہ وبا کی تیزی اور لوگوں کی غیر سنجیدگی بڑی وجوہات ایک طرف اورعذاب الٰہی دوسری وجہ کہی جا سکتی ہے۔

تیسرے دوست نے اپنی رائے دی کہ وہ دیندار ہے اس لیے جب بہت سے بزرگوں نے کورونا کے بارے میں کہا کہ اس سے صرف گنہگار متاثر ہونگے، سچے ، ایمان والوں کو کسی احتیاط کی ضرورت ہے نہ اس سے ڈرنے کی جس پر بہت سے لوگوں نے اس دعوے پر عمل کیالیکن سائنس تو ایک خدائی حقیقت ہے لہٰذا بیشمار لوگ بے احتیاطی کر کے کورونا کا شکار ہوئے ۔

چوتھے دوست فکر مند تھا کہ دیہاڑی دار طبقہ کورونا کی وجہ سے انتہائی برے حالات سے گزر رہا ہے۔ جس شخص نے دن میں مزدوری کر کے بیوی بچوں کورات روٹی کھلانی ہواُس کو تو فاقے آئینگے۔ وہ یا تو چوری کریگا یا بھکاری بن کر گزارہ کریگا۔ دوسری طرف گرانی نے حالات خراب کر دیے ہیں۔ حکومت کوشش کے باوجود لاک ڈائون اور کام کے اوقات کم کرنے پر مجبورہے۔ لوگ زیادہ دیر گھروں سے باہر نہیں رہ سکتے۔ بچے اسکول نہیں جا سکتے۔ جن لوگوں نے مجبوراً بازار جانا ہے وہ حفاظتی ماسک نہیں لگاتے اور اسپتال ادویات سے محروم ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں امریکا کے متاثرین کی تعداد لاکھوں سے آگے نکل گئی ہے جب کہ انڈیا کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ دنیا کے کورونا متاثرین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ مریضوں کی تعداد کا گراف اوپر نیچے آتا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی علاج پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کوشش میں بھی چین کسی سے پیچھے نہیں۔ چین کے شہر Wuhan میں پاکستان کے طالبعلموںکا بھی چین کی حکومت نے خوب خیال رکھا اور وہ سب بخیرت گھروں کو لوٹے۔ اس سے پہلے بھی دنیا میں مختلف آفات آتی رہی ہیں لیکن یہ عالمگیر آفت تھی۔

ان میں سے پانچویں دوست نے اپنی ریش مبارک پر ہاتھ پھیر کر آسمان کی طرف دیکھا اور پھر استغفار پڑھ کر کہا، میں منہ پر سے ماسک ہٹائے بغیر بات کروں گا کیونکہ احتیاط ضروری ہے۔ یہ کورونا نام کی بلا جس تیزی سے تمام دنیا ، رنگ ونسل، مذہب، عمر، شکل، علم، عقل کو پس ِ پشت رکھ کر ہر انسان پر بجلی کی طرح گری ہے ۔

میں جو اپنے دین کا ادنیٰ غلام ہوں اس لیے محتاط ہوں کہ خالق ِ کُل آج کل ہر انسان سے اس کی غیر انسانی عادات ، سوچ، عمل اور فکر کو اچھے انسان والی خدا کی عطا کردہ خوبیوں سے متصادم پا ناراض ہے۔ اس کے چار دوستوں نے یک زبان ہو کر کہا ’’ سیدھی اور مختصر بات کرو‘‘۔ اس کا مختصر جواب تھا کہ خدا ہر نسل ، مذہب، رنگ اور قوم سے انسانیت کا طالب ہے اور اس نے اپنی کتاب ِ مقدس میں سب کچھ لکھ دیا ہے۔ بس یہ شعر میرامختصر بیان ہے:

آنکھوں میں لگا لو ں میں اسے سُرمہ سمجھ کر

مل جائے اگر خاکِ کف پائے محمدؐ

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔