بہترین چیزیں انتہائی مشکل ہوتی ہیں

آفتاب احمد خانزادہ  اتوار 15 اگست 2021
aftabkhanzada2@yahoo.com

[email protected]

زندگی بھر انسانوں اور ان کی قوتوں کے پوشیدہ سر چشموں کا مطالعہ کرنے کے بعد عظیم ماہر نفسیات الفر یڈ ایڈلر نے اعلان کیا کہ’’ انسان میں ایک تعجب خیز خوبی یہ ہے کہ اس کے پاس منفی کو مثبت میں بدل دینے کی قوت ہے۔‘‘

دیوتائوں کے بارہ مخالفین کے مصنف ولیم بولیتھو اسے یوں بیان کرتے ہیں’’ دنیا میں اہم ترین چیز یہ نہیں ہے کہ تم اپنے منافع کو بڑھاتے رہو ،بے وقوف بھی ایسا کرسکتے ہیں در حقیقت اہم ترین چیز یہ ہے کہ تم اپنے خسارے سے منافع حاصل کرو، یہاں ذہانت کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ ہی عقل مند اور بے وقوف کے درمیان حد فاضل قائم کرتی ہے۔ بو لیتھو نے یہ الفاظ اس وقت کہے جب ریل کے ایک حادثے میں اس کی ایک ٹانگ جاتی رہی۔

دنیا کے کامیاب انسانوں کی زندگیوں کا جس قدر زیادہ مطالعہ کیاجائے تو اتنا ہی یقین پختہ ہو تا چلا جائے گا ،ان لوگوں کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے رکاوٹوں اور مشکلوں سے آغاز کیا جنہوں نے ان کی عظیم کامیابیوں اور فتح مندیوں کے لیے مہمیز کاکام دیا ۔ولیمز جیمز کے الفاظ میں ’’ہماری کمزوریاں غیر متوقع طورپر ہماری امداد کرتی ہیں‘‘ یہ بالکل حقیقت ہے ملٹن بہترین شاعری اس لیے لکھ سکا کیونکہ وہ اندھا تھا۔

بیتھوون نے موسیقی کی آفاقی دھنیں ایجاد کیں کیونکہ وہ بہرا تھا، ہیلن کیلر کی درخشاں حیات کے پیچھے اس کی عدم بصارت اور بہرے پن کا ہاتھ ہے اگر چیکو وسکی اپنی المناک شادی سے مایوس ہو کر خود کشی کرنے کے لیے تقریباً آمادہ نہ ہوجاتا اور اگر اس کی اپنی زندگی دردناک نہ ہوتی تو وہ شاید کبھی بھی اپنی غیر فانی رقت انگیز سمفنی ایجاد نہ کرسکتا اگر دوستو فسکی اور ٹالسٹائی کی زندگیاں دکھ بھری اور اذیت ناک ہوتی تو غالباً وہ کبھی بھی اپنے غیر فانی ناول تصنیف نہ کرسکتے ۔ ‘‘

اگر میں اتنا بڑا مریض نہ ہوتا ‘‘ وہ شخص لکھتا ہے جس نے زندگی کا سائنسی نظریہ بدل دیا تھا اگر میں اتنا بڑا مریض نہ ہوتا تو شاید میں اتنا زیادہ کام نہیں کرسکتاجتنا کہ میں نے کیا ہے ‘‘ یہ چارلس ڈارون کا اعتراف تھا کہ اس کی کمزوریوں نے خلاف توقع اس کی مدد کی ۔ جس روز چارلس ڈارون انگلستان میں پیدا ہواتھا اسی دن کنٹیو کے جنگلات میں ایک لکڑی کی جھونپڑی میں ایک اور بچے نے جنم لیا اس کی کمزوریوں نے بھی اس کی مدد کی، اس کا نام ابراہام لنکن تھا اگر اس کی پرورش کسی شاہی خاندان میں ہوتی وہ ہارورڈ یو نیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرتا اور اس کی ازدواجی زندگی خوشگوار ہوتی تو اس کی دل کی گہرائیوں میں یہ الفاظ شاید کبھی نہ ابھرتے جنھیں اس نے گیٹیز برگ کے میدان جنگ میں غیر فانی بنا دیا اور نہ وہ مقدس نظم ہی وجود میں آتی جسے اس نے اپنی صدارت کے دوسرے افتتاحی جلسے میں پڑھا تھا ’’مجھے کسی سے عداوت نہیں میں سب کے ساتھ فیاضی کا برتائو کرتا ہوں ‘‘ کسی بھی حکمران نے شاید ہی ان سے زیادہ حسین اور خوبصورت کلمات کہے ہوں گے ۔ ہیری ایمرسن فوسڈک اپنی کتاب ’’ باطنی قوت ‘‘ میں کہتا ہے کہ ’’ سیکنڈ ے نیو یا کی ایک کہاوت ہے کہ بادشمال نے جہازوں کو جنم دیا۔

اس کہاوت کو ہم سب مشعل راہ بناسکتے ہیں کیا آپ کبھی یہ خیال کرسکتے ہیں کہ پرامن اور خوشگوار زندگی مشکلات کی عدم موجودگی آرام اور سہولت کوئی ایسی چیزیں ہیں جو لوگوں کو نیک یا مسرور بناسکتی ہیں ۔ اس کے بر عکس جولوگ اپنے اوپر ترس کھانے کے عادی ہوچکے ہوں وہ آرام سے پھو لوں کی سیج پر دراز ہونے کے باوجود اپنے اوپر ترس کھاتے رہیں گے لیکن تاریخ یہ بتا تی ہے کہ اعلیٰ کردار اور آفاقی خوشی صرف ان ہی لوگوں کا حصہ رہی ہے جو اپنی ذمے داریوں کو نبھانے کے لیے اچھے بر ے ساز گار اور ناساز گار ہر قسم کے حالات میں سے گذرے۔ اس لیے میں پھر کہتا ہوں کہ باد شمال نے جہازوں کو جنم دیا ہے ‘‘۔

جب مشہور عالم وائلن نواز اول بل پیرس میں اپنے کمالات کا مظاہرہ کررہاتھا تو اچانک اس کے وائلن کا(8)Aتار ٹوٹ گیا لیکن اول بل نے فقط تین تاروں پر اپنا نغمہ پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ ہیری ایمر سن فوسڈک کہتا ہے کہ’’ زندگی اس کا نام ہے کہ Aتارکو توڑ کر تین تاروں پر اپنے نغمے کو انجام تک پہنچا یا جائے یہ صرف زندگی ہی نہیں بلکہ زندگی سے کچھ بڑھ کر ہے، یہ زندگی پر مقصد ہے ۔

نامور ناول نگار مسز تھا مپسن اپنی کہانی سناتی ہوئی کہتی ہیں’’ دوران جنگ میرے شوہر کو نیو میکسیکو میں صحرائے موجیو کے قریب ایک فوجی تربیتی کیمپ میں تعینات کیا گیا میں بھی وہیں چلی گئی تاکہ اس کے پاس رہوں مجھے اس جگہ سے نفرت تھی میں ایک چھوٹی سے جھونپڑی میں رہتی تھی گرمی ناقابل برداشت تھی میکسیکو اور حبشیوں کے سوا وہاں بات چیت کر نے کے لیے کوئی دوسری مخلوق نہیں تھی اور وہ بھی انگیزی سے نابلد اور میں ان کی زبان سے ناآشنا ۔

ہر وقت لو چلتی رہتی تھی میرا کھانا ریت سے بھر جاتا تھا جس فضا میں سانس لیتی تھی وہ ریت سے اٹی ہوئی ہوتی تھی میں اس قدر دکھی تھی کہ مجھے اپنے اوپر ترس آنے لگا اور گھبرا کر اپنے والدین کو خط لکھ دیا کہ میں یہاں کی زندگی ایک منٹ کے لیے بھی برداشت نہیں کرسکتی ،اس سے تو جیل کی چار دیواری ہی اچھی ہے ۔ میرے والدنے اس کے جواب میں صرف دوسطریں لکھیں ان دو سطروں نے میر ی زندگی کی کا یا پلٹ دی انھوں نے لکھا ’’ دو آدمیوں نے جیل کی سلاخوں سے جھانک کر باہر دیکھا ایک نے ستارے دیکھے اور دوسرے کو کیچڑ نظر آئی ۔‘‘

میں نے ان سطروں کو باربار پڑھا مجھے اپنے اوپر شرم آنے لگی اور میں نے تہیہ کر لیا کہ میں ستاروں کو تلاش کرونگی ۔ پھر میں نے وہاں کے باشندوں کے ساتھ دوستی کر لی، تو انھوں نے مجھے اپنی ایسی ایسی شاندار چیزیں بطور تحفہ دیں جنھیں وہ سیاحوں کے پاس بیچنے سے انکار کردیتے تھے صحرا میں آفتاب کے طلوع اور غروب ہونے کے نظاروں کو دیکھتی سمندری سیپوں کی تلاش کرتی جو وہاں لاکھوں سالوں سے پڑی تھیں جب صحرا سمندر ہوا کرتا تھا مجھ میں تعجب خیز تبدیلی پیدا ہوگئی۔

صحرائے موجیو نہیں بدلا تھا حبشی نہیں بدلے تھے لیکن میں ضرور بدل گئی تھی میر اذہنی رویہ بدل گیا تھا میں نے ایک نئی دنیا دریافت کر لی تھی جس نے میرے اندر ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا کردیا تھا اس نے میرے جذبات کو اس قدر ابھار دیا کہ میں نے اس کے متعلق ایک ناول لکھا جو ’’ روشن پشتے ‘‘کے نام سے شائع ہوا۔ میں نے اپنے بنائے ہوئے زندان کی سلاخوں سے باہر جھانکا اور ستاروں کو پالیا ‘‘ مسز تھامپس نے ایک بہت پرانی حقیقت کو دریافت کر لیا تھا جس کا پانچ سو سال قبل از مسیح یونانی پر چار کیا کرتے تھے ۔

’’بہترین چیزیں انتہائی مشکل ہوتی ہیں۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔