پنجاب میں آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے سے متعلق پالیسی منظور

آصف محمود  منگل 17 اگست 2021
 کتوں کے کاٹنے سے تمام متاثرہ افراد میں زخم کے نشانات انتہائی گہرے ہیں، ڈاکٹرز ۔ فوٹو:فائل

کتوں کے کاٹنے سے تمام متاثرہ افراد میں زخم کے نشانات انتہائی گہرے ہیں، ڈاکٹرز ۔ فوٹو:فائل

 لاہور: پنجاب کابینہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے سے متعلق پالیسی منظور کرلی ہے، اس بل کو اب پنجاب کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، دوسری طرف آوارہ کتوں کی نسل بندی کے لئے میڈیکل آلات اورویکسی نیشن پنجاب کے مختلف اضلاع میں بنائے گئے ویٹرنری سنٹرزپرمہیاکردیئے گئے ہیں۔

حکمران جماعت تحریک انصاف کی پنجاب اسمبلی کی رکن اورجانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنیوالی عائشہ اقبال نے بتایا کہ یہ ان کے لئے بڑی خوشی کی بات ہے کہ پاکستان میں پہلی بار پنجاب نے یہ انتہائی اہم قدم اٹھایا ہے اورہم جانوروں خاص طورپرکتوں کے ساتھ کئے جانیوالے ظالمانہ سلوک کوروکنے کے لئے قانون سازی کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی ڈاگ برتھ کنٹرول پالیسی 2021 کے مسودے کی منطوری دے دی ہے، اب حتمی منظوری کے لئے یہ مسودہ پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ہم ایسا پاکستان بناناچاہتے ہیں جہاں انسان توکیاکسی جانوراورپرندے کے ساتھ بھی ظلم نہ ہو، یہ قانون سازی اس کی طرف ایک قدم ہے۔

پنجاب حکومت نے رواں سال مئی میں آوارہ کتوں کو مارنے کی بجائے ان کی تولیدی صلاحیت ختم کرنے اور انہیں باؤلے پن سے بچانے کے لئے ورکنگ پلان پرعمل درآمد شروع کیاتھا۔اس حوالے سے پنجاب کے تمام اضلاع میں میٹروپولیٹن کارپوریشن، لائیو اسٹاک اور جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی این جی اوز نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ این جی اوز ہرضلع میں ایک ہزار نراورمادہ کتوں کو تولیدی صلاحیت سے محروم کرنے میں اپنا کردار اداکریں گی۔

انیمل رائٹس ایڈوکیسی گروپ (اے آراے جی ) کی ممبرعنیزہ خان نے سمن آباد میں واقع اپنے گھر کو ہی آوارہ کتوں اور بلیوں کے شیلٹرہوم میں تبدیل کررکھا ہے ۔ ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے عنیزہ خان نے بتایا کہ پنجاب میں آوارہ کتوں کی درست تعداد سے متعلق کوئی اعداد و شمار میسر نہیں ہیں تاہم پنجاب لائیو اسٹاک کی طرف سے فراہم کئے گئے غیرمستند اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے 4 لاکھ کتوں کو تولیدی صلاحیت سے محروم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے پنجاب حکومت کی طرف سے متعلقہ اداروں کو 18 لاکھ روپے فنڈز دیئے جائیں گے۔ پنجاب کے ہر ضلع میں ایک ہزار نر اور مادہ کتوں کی ویکسی نیشن اور تولیدی صلاحیت سے محروم کرنے کا کام کریں گے۔

عنیزہ خان کہتی ہیں کتوں کو غیرطبعی موت مارنے یعنی انہیں زہر دینے کا طریقہ عالمی ادارہ صحت سے منظورشدہ نہیں ہے۔ امریکا اوریورپ حتی کہ ہمسایہ ملک بھارت میں بھی کتوں کی کلنگ پرپابندی عائد ہے۔ کتوں کو زہر دے کر مارنے کے بہت سے نقصانات ہیں، یہ ہمارے ایکو سسٹم کے لئے نقصان دہ ہے۔ کتوں کی لاشیں کئی کئی روز تک زمین پر پڑی رہتی ہیں جس سے فضا اور مٹی دونوں آلودہ ہوتے ہیں، اسی طرح ایسے جانور اور کیڑے مکوڑے جو کتوں کی خوراک بنتے ہیں ان کی تعداد بڑھنا شروع ہوجائے گی، سب سے بڑھ کر یہ کہ کتے گندگی صاف کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس فیصلے کے بڑی سوسائٹیوں میں ازخود کتامارمہم شروع نہیں کی جاسکے گی اورایسا کرنا قانوناً جرم ہوگا۔

سوسائٹی برائے انسداد بے رحمی حیوانات کے اعزازی سیکرٹری اور یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینمل سائنسز کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایا قانون میں کتوں کو زہر دینے یا گولی مارنے کی کوئی اجازت نہیں دی گئی ہے، اسی وجہ سے اب ہم نے کتوں کو غیرطبعی موت دینے کی بجائے ان کی تولیدی صلاحیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کے تمام اضلاع میں فوکل پرسن مقررکردیئے گئے ہیں ، میٹرو پولیٹین کارپوریشن کاعملہ اپنے ضلع سے کتوں کوریسکیو کرکے ان کا اندراج کرے گا اس کے بعد اسے لائیو اسٹاک ویٹرنری سینٹر کے حوالے کردیا جائے گا، جہاں نر کتوں کی نس بندی کی جائے گی جب کہ مادہ کتوں کا آپریشن کرکے انہیں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کیا جائے گا۔ اس سے قبل انہیں ربیز یعنی باؤلے پن کے خاتمے کی ویکسین لگائی جائے گی۔ آپریشن کے بعد ان نر اور مادہ کتوں کو ان کے قدرتی ماحول میں چھوڑ دیاجائے گا کیونکہ اب ان کے کاٹنے سے ربیز کا خطرہ نہیں ہوگا اور ان کی آبادی بھی کنٹرول کی جاسکے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔