قومی ٹیم سیمی فائنل ہار کر بھی دل جیت گئی

کامران سرور  اتوار 14 نومبر 2021
پاکستانی ٹیم نے مشکل حالات میں بہترین کرکٹ کھیل کر سب کی توجہ حاصل کی

پاکستانی ٹیم نے مشکل حالات میں بہترین کرکٹ کھیل کر سب کی توجہ حاصل کی

11 نومبر2021 کا دن بھلانا کسی بھی پاکستانی کےلیے آسان نہ ہوگا کیوں کہ اس دن سے پہلے پوری قوم کو یہ یقین تھا کہ اس بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی ٹرافی پاکستان آرہی ہے اور تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا جب قومی ٹیم کسی بڑے ایونٹ میں ناقابل شکست رہتے ہوئے جیت کے اتنے قریب پہنچ کر لڑکھڑا گئی۔

ویسے پاکستان کی اس شکست پر اپوزیشن بہت خوش ہوگی کیوں کہ ورلڈکپ کے دوران پاکستان کی جیت کی خوشیوں میں تو قوم چینی اور پٹرول کی قیمتوں میں اونچ نیچ بھی بھول گئی تھی جو 150 کے گرد گھوم رہی ہیں اور ڈالر کی تو بات ہی نہ کیجئے، ایسا لگ رہا ہے وہ عنقریب ڈبل سنچری بنا ڈالے گا۔ خیر بہت ہوگئی کرکٹ، اب قوم ہمارے کپتان سے ’’آٹے، چینی‘‘ کا بھاؤ پوچھے گی۔

پچھلے دو ہفتوں تک ملک میں تمام تر پریشانیوں اور مہنگائی کے باوجود قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی نے پوری قوم کو اکھٹے کیے رکھا اور سب نے یہ خواب سجالیے تھے کہ پاکستان 2017 والی تاریخ کو دہرائے گا، جب سرفراز احمد کی قیادت میں قومی ٹیم نے برطانیہ کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ اوول میں سبز ہلالی پرچم بلند کیا۔

متحدہ عرب امارات میں جاری آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی بات کریں تو اب تک ٹاس نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ دیکھا گیا ہے کہ ٹاس جیتنے والی ٹیم 25 فیصد میچ جیت جاتی ہے۔ اگر ہم پچھلے دونوں سیمی فائنلز کی بات کریں تو اس میں بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیا۔

آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ نے جیسے ہی پاکستان کے خلاف میچ کا ٹاس جیتا تو میں نے اپنے قریب بیٹھے دوست سے یہی کہا کہ بھائی میچ تو اپنے ہاتھ سے نکل گیا، جس پر اس نے کہا کہ ٹینشن مت لے، پاکستان یو اے ای میں پچھلے 16 میچ جیت چکی ہے اور یہ ریکارڈ برقرار رہے گا۔ جس پر میں نے جواب دیا کہ بھیا! ریکارڈ تو ہوتے ہی ٹوٹنے کےلیے ہیں، لیکن پاکستان واقعی اس ریکارڈ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے 200 رنز بنانے ہوں گے، ورنہ بہت مشکل ہوجائے گی۔

میں نے 200 رنز کی بات یونہی نہیں کردی تھی بلکہ میں آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن سے اچھی طرح سے واقف تھا۔ اس ٹیم کے اعصاب کتنے مضبوط ہیں یہ ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں اور میتھیو ویڈ نے ایک بار پھر ثابت کردیا اور پھر جس طرح ہماری ٹیم نے انہیں مواقع فراہم کیے اس کے بعد آسٹریلیا کےلیے کچھ بھی ناممکن نہیں تھا۔ میتھو ویڈ نہیں تو مارکس اسٹونس، نہیں تو گلین میکسویل، کسی ایک نے تو یہ کرنا تھا۔

خیر، یہاں قصور میرے اس دوست کا نہیں تھا بلکہ قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی نے ہر پاکستانی کے دل میں یہ امید پیدا کردی تھی کہ بابراعظم کی قیادت میں یہ 11 لڑکے ہر ٹیم کو مات دے سکتے ہیں۔ اور اس میں کچھ غلط بھی نہ تھا۔ کاش! ہم 11 نومبر کو چند بنیادی غلطیاں نہ کرتے تو یہ میچ بھی ہم تقریباً جیت چکے تھے۔ لیکن جیسا ہمارے کپتان بابراعظم نے کہا کہ جب آپ آسٹریلیا جیسی ٹیم کو مواقع دیں گے تو یہی نتائج نکلیں گے۔

بہرحال، پاکستان نے اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بہترین کرکٹ کھیلی۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔ 11 نومبر کا دن پاکستانی ٹیم کا نہیں تھا ورنہ جو کھیل اس ٹیم نے پچھلے 5 میچوں میں پیش کیا، اس کی کسی کو بھی امید نہیں تھی اور ویسے بھی وزیرداخلہ شیخ رشید سمیت پوری قوم کو بھارت سے جیت درکار تھی اور وہی ہمارا فائنل تھا جس میں قومی ٹیم نے تاریخ رقم کردی تو پھر کیسا پچھتاوا۔

البتہ شاہینوں نے اس فتح پر اکتفا نہیں کیا اور وہاں سے ایسی اڑان بھری کہ قوم کے دل جیتتی چلی گئی۔ بھارت کے بعد قوم چاہتی تھی کہ نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی مسائل حل کیے جائیں تاکہ آئندہ کوئی ٹیم ایسی جرأت کا مظاہرہ نہ کرے تو قومی ٹیم نے ایونٹ کا فائنل کھیلنے والی نیوزی لینڈ کو بھی شکست سے دوچار کیا جس نے انگلینڈ سمیت کسی ٹیم کو نہ بخشا۔

آسٹریلیا بھی اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار تھا، تاہم کیویز کی شکست کے بعد کینگروز نے سوچا کہ یار! یہ پاکستانی تو اس بار میچ کھیلنے نہیں بلکہ بدلے لینے آئے ہیں تو ایسا نہ ہوکہ بدلے کی آڑ میں ہمیں سبق سکھادیں۔ لہٰذا خوف کے مارے آسٹریلیا نے سیمی فائنل سے دو دن پہلے ہی (24 سال بعد) اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کردیا، جس پر قوم نے اپنی ٹیم سے سعید اجمل کا بدلہ لینے کی اپیل کردی۔ لیکن یہاں تو ٹیم نے بیچارے سعید اجمل کی پرانی یادیں ہی تازہ کردیں۔ پچھلی بار مائیکل ہسی تو اس بار میتھیو ویڈ، ہسی بن کر آفریدی پر ٹوٹ پڑے اور ناک آؤٹ مرحلے میں آسٹریلیا کو شکست دینے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔

شاہین آفریدی سے یاد آیا کہ کاش حسن علی وہ کیچ پکڑ لیتا تو شاید میچ کا نتیجہ کچھ اور ہوسکتا تھا لیکن پھر بھی مارکس اسٹونس وکٹ پر موجود تھے اور سب نے دیکھ لیا یہ آسٹریلیا والے انسان تو ہیں نہیں، روبوٹ ہیں جو کسی بھی لمحے کچھ بھی کرجائیں۔ اس ایونٹ سے پہلے یہی ٹیم سب سے کمزور دکھائی دے رہی تھی جو پہلے ویسٹ انڈیز سے 1-4 اور پھر بنگلادیش سے 1-4 سے ٹی ٹوئںٹی سیریز ہار چکی تھی لیکن آئی سی سی ایونٹ میں پتہ نہیں ان روبوٹ کے بچوں کو کیا ہوجاتا ہے۔

پوری قوم حسن علی پر بلاوجہ راشن پانی لے کر چڑھ گئی، ذرا اپنی ٹیم کی فیلڈنگ کا تذکرہ بھی تو کیجئے اور وہ 3 رن آؤٹ جو مِس ہوئے؟ میں تو کہتا ہوں پہلے اس ٹیم کو نشانے لگانا سکھاؤ کوئی یار۔ چلیے مان لیا کہ حسن علی نے ویڈ کا کیچ چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شاہین آفریدی لگاتار 3 چھکے کھالے۔ اس وقت وہ جوش کے بجائے ہوش سے بولنگ کرتا تو شاید نتیجہ یہ نہ ہوتا یا پھر میچ آخری اوور تک تو لازمی جاتا۔

ویسے یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب ہم نے انتہائی اہم موقع پر کیچ چھوڑا، جو تقریباً شکست کی وجہ بنا۔ 2015 کے ورلڈکپ میں آسٹریلیا کے خلاف میچ کے دوران وہاب ریاض کا بولنگ اسپیل آج تک دنیا کو یاد ہے کہ کس طرح انہوں نے شین واٹسن جیسے بلے باز کو پریشان کیے رکھا اور انہیں غلط شارٹ مارنے پر مجبور کیا تاہم راحت علی نے کیچ چھوڑ کر وہاب ریاض کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔ 2019 میں بھی ورلڈکپ کے دوران آسٹریلیا کے ہی خلاف آصف علی نے ڈیوڈ وارنر کا کیچ چھوڑا جس پر گراؤڈ میں موجود تماشائی کے ردعمل پر میم بھی خوب وائرل ہوئی۔

اور محمد رضوان کی تو کیا ہی بات کریں، پڑوسی ممالک کے کھلاڑی بھی رضوان کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔ مطلب دو دن آئی سی یو میں گزارنے کے بعد میدان میں اتر کر ایسی کارکردگی دکھائی جو فٹ کھلاڑی بھی نہیں دکھا سکے اور بیٹنگ کے دوران منہ پر گیند لگنے کے باعث پورا منہ سوج گیا لیکن پھر بھی ہمت نہیں ہاری اور فیلڈنگ میں بھی جان مار دی۔ ایسے ہی تو سپرمین کا لقب نہیں ملا اپنے رضی بوائے کو۔

رضوان ہی کی طرح مجھے حسن علی اور فخر زمان سے بھی بہت امیدیں تھیں کہ ابتدائی 5 میچز میں ناکام رہنے کے باوجود وہ سیمی فائنل میں کچھ بڑا کریں گے۔ فخرزمان نے تو حق ادا کردیا اور شاداب خان نے بھی سیمی فائنل میں جو جادوئی بولنگ کی، اس سے بھی تمام شکوے دور ہوگئے، تاہم حسن علی پر قوم کا قرض باقی رہ گیا جو اس ایونٹ میں چیمپئنز ٹرافی جیسی کارکردگی نہ دہرا سکا۔ مجھے امید ہے وہ دوبارہ قوم کا ہیرو بن کر دکھائے گا۔ خیر ہیرو تو وہ اب بھی ہے ایک میچ یا ٹورنامنٹ میں بری کارکردگی سے کوئی برا نہیں ہو جاتا۔ یہ سب ہمارے کھلاڑی ہیں، یہ آپ کے کھلاڑی ہیں، ان کی عزت کیجئے، ان سے پیار کیجئے۔ ان ہی کھلاڑیوں نے پچھلے دو ہفتے ہمیں جو خوشیاں دیں وہ ناقابل بیان ہیں۔

اور یہ نہ بھولیے کہ دنیا کے نظر انداز کرنے کے باوجود پاکستانی ٹیم نے جس مشکل حالات میں بہترین کرکٹ کھیل کر سب کی توجہ حاصل کی، بس یہی ایک چیز پاکستانی ٹیم میں پچھلے کئی سال سے دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ جس طرح قومی ٹیم اس ایونٹ میں متحد ہوکر کھیلی اور اگر ہم ان 6 میچوں کی بات کریں تو شاہین آفریدی، حارث رؤف، آصف علی، محمد رضوان، فخرزمان اور شاداب خان، ہر میچ میں الگ پرفارمر ہی دکھائی دیا اور گزشتہ کئی سیریز کی طرح بیٹنگ کا بوجھ بھی صرف بابراعظم کے کندھوں پر نہیں رہا، رضوان نے بھی بھرپور ساتھ دیا جب کہ آصف علی کے وہ 4 چھکے اور شعیب ملک کی تیز ترین نصف سنچری کے بعد فخرزمان کی سیمی فائنل میں اننگز، سب کچھ ہی تو کمال تھا۔ بس سیمی فائنل میں اعصاب پر قابو پالیتے تو شاید نتیجہ کچھ اور ہوتا۔

آخر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ جب بھی قومی ٹیم وطن واپس آئے، ان کا بھرپور استقبال کیا جائے، کیوں کہ سیمی فائنل کی شکست کے باوجود کئی دہائیوں بعد قومی ٹیم میں بہت سے مثبت پہلو دکھائی دیے ہیں اور اگر ان لڑکوں نے اس مومنٹم کو برقرار رکھا اور اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرکے سیکھنے کی کوشش کی تو اگلے سال آسٹریلیا میں ہونے والا ورلڈکپ پاکستان اپنے نام کرسکتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کامران سرور

کامران سرور

بلاگر جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ماسٹرز ڈگری کے حامل ہیں اور ایکسپریس نیوز سمیت مختلف ٹی وی چینلز اور ویب سائٹ سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ آج کل نجی ٹی وی چینل کی ویب سائٹ پر بطور سینئر سب ایڈیٹر ذمے داریاں نبھارہے ہیں ۔ بلاگر کو ٹوئٹر ہینڈل @KamranSarwar98 پر فالوو کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔