تحریک آزادی کا ایک الف لیلوی کردار (آخری حصہ)

زاہدہ حنا  اتوار 30 جنوری 2022
zahedahina@gmail.com

[email protected]

انگریز حکومت کی جانب سے شاہنواز خان اور ان کے ساتھیوں کے کورٹ مارشل پر زبردست ردعمل سامنے آیا۔ عوامی دبائو کے باعث ہندوستان کی تمام سیاسی جماعتیں جن میں کانگریس اور مسلم لیگ بھی شامل تھیں، اس مقدمے کے خلاف متحد ہوگئیں۔

جنرل شاہنواز خان کے ساتھ دوسرے دو ساتھیوں جن میں سے ایک سکھ اور دوسرا مسلمان فوجی تھا سزائیں سنادی گئیں لیکن بعد ازاں برطانوی فوج میں شامل ہندوستانی فوجیوں نے 1946میں بغاوت کردی جس نے برطانیہ کے حوصلے پست کر دیے۔ برطانیہ چونکہ ہندوستانی فوجیوں کے ذریعے برصغیر پر قابض تھا، لہٰذا فوج میں بغاوت اور عوام کے شدید احتجاج کے باعث سزائوں پر عملدرآمد نہیںکیا گیا اور اسے ہندوستان سے بھی جلد رخصت ہونا پڑا۔

یہاں یہ دلچسپ امر بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ جنرل شاہ نواز خان تقسیم ہند کے بعد پاکستان نہیں آئے جب کہ ان کا پورا خاندان راولپنڈی میں آباد تھا۔ ان کی کئی اولادوں میں سے ایک لے پالک لڑکی بھی شامل تھی ، جس کا نام لطیف فاطمہ خان تھا۔ انھوں نے اس کی شادی آزاد ہند فوج کے ایک پختون فوجی میر تاج محمد سے کرائی۔ ان دونوں کی اکلوتی اولاد ایک لڑکا تھا جس کی شہرت آج پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور لوگ اسے شاہ رخ خان کے نام سے جانتے ہیں۔

تاریخ بھی ایک افسانوی داستان کی طرح ہوتی ہے۔ شاہ نواز خان کا ایک بیٹا پاکستان کی فوج میں اعلیٰ عہدے تک پہنچا۔ 1965 کی فوج میں وہ پاکستان کی طرف سے لڑرہا تھا جب کہ شاہ نواز خان اس وقت ہندوستان کی شاستری حکومت میں وزیر خوراک تھے۔ انھوں نے 1952 میں پہلی مرتبہ میرٹھ سے الیکشن لڑا تھا اور چار بار اسی حلقے سے کامیاب ہوئے تھے۔ ان کے دور میں اس حساس شہر میں ایک بار بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا تھا۔

سبھاش چندر بوس نے ایک ہزار سے زیادہ ہندوستانی عورتوں کی فوج تیار کی تھی جسے ’’ رانی جھانسی رجمنٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جدید تاریخ میں لڑاکا خواتین کی یہ پہلی باضابطہ رجمنٹ تھی۔ اس کی کمانڈر ڈاکٹر لکشمی سہگل تھیں جن کا تعلق کیرالہ کے ایک گائوں سے تھا اور جو سنگا پور گئی تھیں جہاں ان کی ملاقات سبھاش چندر بوس سے ہوئی تھی۔ وہ ایک تامل تھیں اور ان کے والد وکیل تھے۔ ان کا تعلیمی ریکارڈ بڑا شاندار تھا۔

لکشمی سہگل نے مدراس میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی۔ جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد 1946 کو انھیں گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعد انھوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں شمولیت اختیار کر لی اور سرگرم سیاسی کردار ادا کیا۔ وہ راجیہ سبھا یعنی سینیٹ کی رکن بھی رہیں۔ زندگی کی آخری سانس تک وہ غریب عوام کے لیے طبی اور فلاحی کام کرتی رہیں۔ موت کے بعد ان کی خواہش کے مطابق ان کا جسم ایک میڈیکل کالج کو ریسرچ کے لیے عطیہ کردیا گیا۔

اس موقع پر ایک اور مسلمان کرنل شوکت علی ملک کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی جن کی قیادت میں منی پور کے شہر موئی رانگ کی پہلی براہ راست جنگ میں آزاد ہند فوج کے فوجیوں نے اپریل 1944 میں انگریز افواج کو شکست دے کر بہت بڑے علاقے کو آزاد کرا لیا تھا۔ تاہم ، تین ماہ بعد اس پر انگریزوں کا دو بارہ قبضہ ہوگیا۔ افسوس کا مقام ہے کہ کسی حکومت نے ان کرداروں اور واقعات کو تاریخ اور تعلیمی نصاب کا حصہ نہیں بنایا۔

بوس نے برما کے دارالحکومت رنگون پہنچ کر بہادر شاہ ظفر کے مزار پر حاضری دی اور یہ عہد کیا کہ جب وہ ہندوستان سے انگریزوں کو نکال دیں گے تو اپنے بادشاہ کا جسد خاکی تعظیم و تکریم کے ساتھ دلی لے جائیں گے۔ سبھاش ایک ایسے سچے قوم پرست تھے جن کے لیے اشوک اعظم اور اکبر اعظم میںکوئی فرق نہ تھا۔ شہید ٹیپو سلطان ، آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر، حضرت محل ، جھانسی کی رانی اور راجہ کنور سنگھ ان کے ہیرو تھے۔ ان کی انتہا کو پہنچی ہوئی قوم پرستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1757 میں پلاسی میں شکست کھانے والے نواب سراج الدولہ کو وہ جنگ آزادی کا پہلا شہید کہتے تھے۔

جب جاپان نے ہندوستانی علاقے نکو بار انڈیمان پر قبضہ کرلیا تو بوس نے وہاں کی پہلی آزاد ہند حکومت قائم کرنے کا اعلان کردیا۔ وہ اس حکومت کے وزیر اعظم، وزیر دفاع اور وزیر خارجہ تھے۔ اس کے علاوہ بھی کئی لوگ اس حکومت کے وزیر تھے۔ اس حکومت نے اپنا الگ بینک قائم کیا، کرنسی نوٹ اور ڈاک کا ٹکٹ جاری کیا۔ بوس کو اس قدر عوامی حمایت حاصل کی تھی کہ ان کے بینک میں 40 کلو سونا اور کروڑوں روپے جمع ہوگئے ، جس کا باقاعدہ حساب کتاب رکھا گیا تھا۔

اس بینک کا نام آزاد ہند بینک رکھا گیا تھا جس نے 10 روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے تک کے نوٹ جاری کیے تھے۔ ان کی حکومت کو دنیا کے نو ملکوں نے تسلیم کیا تھا اور کئی ملکوں میں اس کی سفارتخانے بھی قائم کر دیے گئے تھے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ بوس ایک بہت دور تک دیکھنے والے رہنما اور دانشور تھے اور رنگ نسل، ذات پات اور مذہبی تفریق سے بالاتر سوچ رکھتے تھے۔

سبھاش بابو نے ایک بھرپور اور پُر عزم زندگی گزاری۔ ان کا واحد مقصد غلامی سے نجات تھا۔ اس مقصد کے لیے ان کی آزاد ہند فوج نے برما کے محاذ پر برطانوی فوجوں سے زبردست لڑائی لڑی، یہ وہ دن تھے جب ہندوستان میں لوگ سبھاش بابو اور ان کی آزاد ہند فوج کے منتظر تھے کہ اچانک یہ خبر لوگوں پر بجلی بن کر گری کہ وہ 16 اگست 1945 کو تائیوان کے ہوائی اڈے پر ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہوگئے ۔

ریٹائرڈ جسٹس منوج مکھرجی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ تائیوان میں طیارے کے حادثے کی وجہ سے 18 اگست 1945 کو ان کی موت کی اطلاع غلط تھی اور یہ بھی کہ جاپان کے رنکو جی مندر میں رکھی ہوئی ان کی راکھ، ان کی نہیں ہے۔ جسٹس مکھر جی کا کہنا ہے کہ اپنی تحقیقات کے دوران انھوں نے تائیوانی حکومت سے رابطہ کیا تھا اور اس کی وساطت سے تمام پرانے ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ اس ریکارڈ کے مطابق 14 اگست سے 20 ستمبر 1945 تک تائیوان کے تائی ہو کو ایئرپورٹ پر کوئی ہوائی حادثہ نہیں ہوا۔ تاہم ، ہندوستان کی حکومت اس رپورٹ کو مسترد کرچکی ہے۔

سبھاش چندر بوس کسی ہوائی حادثے میں 1945 میں ہلاک ہوئے یا ان کے آخری لمحات بندی خانے میں گزرے، یا وہ روپوشی کے دن گزار کر کسی حادثے کا شکار ہوئے، کوئی نہیں جانتا۔ ان کی زندگی لوگوں کے لیے ایک کھلی کتاب رہی لیکن موت آج تک ایک سربستہ راز ہے۔ انھیں تاریخ میں ہمیشہ ایک الف لیلوی کردار کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

سبھاش چندر بوس کو ہندوستان میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ بجا طور پر حق دار تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ گاندھی جی کی بعض پالیسیوں کے شدید ناقد تھے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کا ساتھ نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی مقامی فوجیوں کو برطانوی سامراج کے مقبوضہ علاقوں کے تحفظ کے لیے قربان کرنا چاہیے۔ برطانیہ کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر فوری اور مکمل آزادی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا جائے۔

پنڈت نہرو ذہنی طو پر ان کے قریب ضرور تھے لیکن ان میں گاندھی جی سے بغاوت کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم بننے کے آرزو مند بھی تھے اور انھیں اندازہ تھا کہ بوس کو زیادہ آگے بڑھنے کا موقع دیا گیا تو شاید یہ منصب انھیں نہ مل سکے۔ نظر یہی آرہا ہے کہ موجودہ صدی میں دنیا کی ان تمام شخصیات اور واقعات کو جائز مقام ضرور ملے گا جنھیں 20 ویں میں نظر انداز کردیا گیا تھا یا جن کی اہمیت کو کم کر کے پیش کیا گیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔