یوکرائن؛ عالمی بحران کا مرکز (آخری حصہ)

زاہدہ حنا  بدھ 23 فروری 2022
zahedahina@gmail.com

[email protected]

یوکرائن کو اچھی طرح علم ہے کہ اس کی سرزمین سے گزرنے والی پائپ لائنوں سے نہ صرف اسے آمدنی ہوتی ہے بلکہ اس حوالے سے وہ روس اور یورپ دونوں کی ضرورت بن چکا ہے۔ یوکرائن اپنی جغرافیائی اور معاشی صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

اس کا مفاد اس میں ہے کہ وہ روس سے خوشگوار تعلقات برقرار رکھے تاکہ پائپ لائنوں کے ذریعے یورپ کو روس کی قدرتی گیس کی فراہمی جاری رہے اور راہ داری کا محصول یوکرائن کوملتا رہے۔ مزید برآں روس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاکر اس سے تجارتی مراعات اور مالی فوائد حاصل کیے جائیں۔

یوکرائن کو اس امر کا بھی ادراک ہے کہ یورپ بالخصوص جرمنی اور دیگر اہم ملکوں کے لیے قدرتی گیس اور غذائی اجناس کی فراہمی کس قدر ضروری ہے۔ لہٰذا اس کی طلب اور ضرورت کا بھی جس قدرفائدہ اٹھایا جا سکتا ہے وہ اٹھایا جائے۔

کچھ ایسی صورت حال یورپ کی بھی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یوکرائن کو روس کے مکمل حلقہ اثر میں جانے سے روکا جائے تاکہ اس کی سلامتی کو براہ راست کوئی خطرہ درپیش نہ ہوسکے۔

اس مقصد کے لیے یورپ، یوکرائن کو اپنے قریب لانے کے لیے شدید بے چین ہے، وہ یوکرائن کو باضابطہ طور پر یورپی یونین میں شامل ہونے کی دعوت دے چکا ہے ۔ ایک مرحلے پر یوکرائن اس کی پیش کش قبول کرنے ہی والا تھا کہ روس کی جانب سے مالی ترغیبات اور دباؤ کے باعث ایسا کرنے سے گریز کیا گیا۔

شطرنج کی اصطلاح میں بات کی جائے تو یہ کہا جائے گا کہ یوکرائن میں بازی زچ ہوگئی ہے۔ کوئی فریق بالخصوص روس فوجی مہم جوئی کرے تو یہ ایک غیر متوقع بات ہوگی۔

روس کو اندازہ ہے کہ اگر کوئی بڑی جنگ ہوتی ہے اور اس میں امریکا اور یورپ براہ راست ملوث ہوجاتے ہیں تو اس کے جو بھاری معاشی نقصانات ہوں گے، کم از کم روس کے لیے ان کوبرداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یوکرائن سے گزرنے والی اس کی گیس پائپ لائنیں تباہ ہوجائیں گی نیز یورپ سے تمام کاروباری سرگرمیاں رک جائیں گی۔ یورپ بھی جنگ نہیں چاہے گا کیونکہ وہاں پہلے ہی کساد بازاری ہے اور کووڈ کی وبا سے معاشی ترقی کا پہیہ رکا ہوا ہے۔

ایسی صورت حال میں یورپ جنگ کی بھاری لاگت برداشت کرنے کا متحمل قطعی نہیں ہوسکتا۔ جنگ یوکرائن کے مفاد میں بھی کسی طرح نہیں ہے۔ 2014 کی جنگ میںاس ملک کے 14 ہزار فوجی ہلاک ہوگئے تھے اور معیشت کو جو نقصان پہنچا تھا اس کی تلافی آج تک ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

یہ سوال تجزیہ نگاروں کے لیے بہت اہم ہے کہ یوکرائن کے مسئلے پر جو فوجی کشیدگی پیدا ہوتی رہتی ہے وہ کب تک جاری رہے گی اور اس کا بالآخر انجام کیا ہوگا۔ اس حوالے سے یہ امر ذہن میں رکھنا ہوگا کہ سوویت یونین اور امریکا دو عظیم طاقتیں تھیں جنھوں نے سرد جنگ کے طویل دور میں دنیا کو اپنے اپنے حلقہ اثر میں بانٹ رکھا تھا۔

سرد جنگ ختم ہوئی لیکن ایسے بہت سے ملک جو اس وقت سوویت یونین اور امریکا کے لیے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کررہے تھے وہاں ان کے حامی مقتدر طبقات، سیاسی جماعتیں اور دانش ور آج بھی نہ صرف موجود ہیں بلکہ اپنا اچھا خاصا اثرو رسوخ بھی رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ سرد جنگ کے زمانے میں دونوں متحارب عظیم طاقتوں نے بہت سے ملکوں کی معیشتوں کو اپنے مفادات کے تابع پروان چڑھایاتھا لہٰذا ان ملکوں میں بہت سی معاشی قوتیںبھی ان کی حامی ہیں۔ اسی طرح تیسری دنیا کے ملکوںمیں سوویت یونین اور امریکا نے مختلف ملکوں پر اپنی حامی فوجی حکومتیں اور شخصی یا یک جماعتی آمریتیں مسلط کررکھی تھیں اس لیے آج بھی اس طرح کے ملکوں کی افواج میں روس یا امریکا کے حامی عناصر پائے جاتے ہیں۔

سوویت یونین نے اپنے زیر اثر ملکوں کو خوب اسلحہ دیا تھا، یہی کام امریکا نے بھی کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دفاعی ضروریات اور اسلحے کے حصول کے لیے ان ملکوں کو اپنے ماضی کی سرپرست دو نوں عظیم طاقتوں میں سے کسی ایک کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا اور روس کی آج بھی یہی کوشش ہے کہ ماضی میں جو ملک اس کے زیر اثر رہ چکے ہیںوہ آج بھی ان کی تابعداری کریں اور عالمی سیاست میںان کی خواہش کے مطابق عمل کریں۔

روس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یوکرائن چونکہ ماضی میں اس کا حصہ رہ چکا ہے اور وہاں روسی بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی آباد ہے لہٰذا اس ملک میں امریکا یا نیٹو کی مداخلت اس کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ روس کو ڈر ہے کہ امریکا اس کا گھیراؤ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس کام کے لیے اس نے یوکرائن میں اپنی حامی حکومت بنائی ہے جو اس کے کہنے پر روسی مفادات کے خلاف کام کرتی ہے۔

سرد جنگ کی نفسیات سے باہر نکلنا روس اور امریکا دونوں کے لیے بہت مشکل ہورہا ہے۔ ان دونوں نے تقریباً 40 سال تک دنیا کو دو حصوں میں بانٹ کر حکمرانی کی تھی اس لیے ایک آزاد دنیا کو قبول کرنا ان کے لیے کافی مشکل ثابت ہورہا ہے۔

امریکا اور روس ماضی کی نفسیات کے زیر اثر رہ کر یوکرائن کے مسئلے پر ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ روس کی فوجیں یوکرائن کی سرحدوں پر موجود ہیں۔ امریکا اور نیٹو افواج بھی اسے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

امریکا اورروس کے درمیان جاری اس تنازعہ پر دنیا کی اہم اقوام ذمے دارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور وہ خود کو کسی فریق کے ساتھ وابستہ کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتیں۔ امریکا اور روس کو ماضی کی نفسیات سے باہر نکلنے میں مشکل کا سامنا ہے لیکن 21 ویں صدی کی ابھرتی ہوئی دیگر معاشی طاقتوں کو اس نوعیت کی صورتحال درپیش نہیں ہے۔

چین، جاپان، ہندوستان، کوریا، جنوبی افریقا، انڈونیشیا، ویت نام جیسے اہم ابھرتے ہوئے ملک غیر جانبدار ہیں اور دونوں فریقین کو تحمل اور برداشت کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یورپی ممالک بھی امریکا کا پرجوش ساتھ دینے پر رضامند نہیں ہیں۔

جرمنی نے یوکرائن کو اسلحہ کے بجائے چند ہزار ہیلمٹ دینے کی پیش کش کی ہے جس کا عالمی سطح پر خوب مذاق اڑایاجارہا ہے۔ یورپی ممالک اپنے بارے میں فیصلے کا اختیار امریکا اور روس کو نہیں دینا چاہتے۔ یورپ نے صدیوں تک بھیانک جنگوں کا عذاب جھیلا ہے، اب وہ کسی نئے مسلح تنازعہ میں خود کو ملوث نہیں کرنا چاہتا۔ چین نے باضابطہ طور پر تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ باہمی مشاورت سے مسائل کا حل تلاش کریں۔

سچ تو یہ ہے کہ صرف برطانیہ مکمل طور پر امریکا کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ وہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نوآبادیاتی طاقت رہ چکا ہے۔ سابق سوویت یونین نے قومی آزادی کی تحریکوں کی بھرپور حمایت کی تھی جس کے نتیجے میں برطانوی استعمار کو اپنی بہت سی نوآبادیوں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ برطانیہ بھی روس کو ماضی کے آئینے میں دیکھتا ہے اور اس کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھتا۔

مذکورہ بالا حقائق اپنی جگہ لیکن اب روس اور امریکا خواہ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں وہ دنیا کو کسی بڑی جنگ کی آگ میں نہیں دھکیل سکتے۔ 21 ویں صدی کی دنیا ماضی سے کافی الگ ہے، جو ملک جنگ کرے گا وہ اس کی قیمت ادا کرے گا اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔

روس اور امریکا جلد یا بدیر ماضی کی مخصوص نفسیاتی کیفیت سے باہر نکل آئیں گے اور خود کو عالمی معیشت اور سیاست کا ایک حصہ بنانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ فوجی بالادستی اور ہتھیاروں کی دوڑ کا زمانہ گزر گیا۔ اب ماضی کی عظیم طاقتوں کو بھی اپنا مزاج، انداز اور رویہ بدلنا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔