پاکستان پیچھے کیوں؟

علی احمد ڈھلوں  منگل 11 اکتوبر 2022
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

پاکستان کی سیاسی جماعتوں، اُن کے رہنماؤں اور کرتا دھرتاؤں نے اس ملک کو اس قدر زنگ آلود کر دیا ہے کہ یہ ملک ہر وقت اپنے بچاؤ کی ترکیبیں اختیار کرتارہتا ہے۔

اسی اثناء میں یہ ایک تجربہ گاہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، کوئی لانگ ٹرم پالیسی نہیں، کہیں کوئی تھنک ٹینک نہیں اور نہ ہی کہیں دور دورتک ترقی کے کوئی آثار۔ یہاں تو حالات یہ ہیں کہ ’’ ارباب اختیار‘‘ کے سامنے جو کوئی بھی آکر بڑھکیں مارتا، سچی جھوٹی دلیلیں دیتا ، خود کو اچھا اور دوسروں کو غلط ثابت کرتا ہے۔

ارباب اختیار انھیں ’’موقع‘‘ ضرور دے دیتے ہیں۔ اورپھر جب کوئی دوسرا آتا ہے اور پہلے کے بارے میں کہتا ہے کہ ناں! اس نے تو ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے لہٰذا اقتدار مجھے دیجیے۔ بس کچھ دلیلیں وغیرہ سن کر اقتدار اُس دوسرے کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے۔

جب حالات یہ ہوں تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ملک پر حکومتیں کرنے والوں کو اچھی طرح جانچا جاتا ہو گا؟ کبھی کوئی آتا ہے تو وہ ڈالر کو 245روپے ، اور پٹرول کو ڈھائی سو روپے تک لے جاتا ہے۔ اور کبھی کوئی آتا ہے تو کہتا ہے کہ اُسکی پارٹی نے معیشت صحیح نہیں چلائی اور 180والے ڈالر کو نیچے 218پر لا کر کہتا ہے کہ دیکھا یہاں کیا کیا ہوتا رہا ہے۔

پھر ایک سابق وزیر اعظم کو آئین کے جس آرٹیکل کے تحت نااہل قرار دیا گیا‘ آج وہی قانون کالا قانون کہلا رہا ہے۔ مطلب ہمارے معیارات کا لیول چیک کریں کہ ہم جیسا چاہیں، جب چاہیں اپنے آپ کو اور اپنی پراڈکٹ کو بہتر ثابت کرنے والا ’’سرٹیفکیٹ‘‘ حاصل کرلیں!

خیر یہ ہماری پرانی روایات ہیں، اسے بھلا کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ اور انہی’’ معیارات ‘‘ کی وجہ سے ہم آج تک ترقی نہ کر سکے۔ جب کہ اسی دوران دنیا ترقی کے زینے طے کرتی گئی ، ہمارے ہمسایہ ممالک خصوصاً انڈیا بنگلہ دیش نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ڈھال لیا تو وہ بچ گئے۔ اور جن ممالک نے اپنے آپ کو جدید ترقی اور بدلتی دنیا کی جانب نہیں موڑا وہ پیچھے رہ گئے! ان میں سری لنکا اور پاکستان نمایاں ہیں۔

آج بھی ہمیں علم ہے کہ آج چلنے والی صنعتوں میں سے70 سے90 فی صد آنے والے چند سالوں میں بند ہو جائیں گی۔مگر پھر بھی ہم اس کا کوئی سد باب نہیں کرتے۔ آپ دیکھیں صرف ایک سافٹ ویئر کی بنیاد پر ایک کمپنی ہے، اپنی ایک بھی کار نہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسی کمپنی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل کمپنی کے پاس اپنا کوئی ہوٹل نہیں ہے۔اب امریکا میں نوجوان وکلاکے لیے کوئی کام باقی نہیں ہے کیونکہ ایک سافٹ ویئر ایک لمحے میں بہتر قانونی مشورے دے دیتا ہے۔

مطلب خدشہ یہ ہے کہ اگلے10 سال میں90فی صد امریکی وکیل بیروزگار ہو جائیں گے،جو10فی صد بچ جائیں گے وہ سپر ماہر ہوں گے،واٹسن نامی سافٹ ویئر انسانوں کے مقابلے میں کینسر کی تشخیص 4 گنا زیادہ درست طریقے سے انجام دیتا ہے۔ 2030 تک کمپیوٹر انسانوں سے زیادہ ذہین ہوں گے،اگلے 10 سال میں90فی صد کاریں پوری دنیا کی سڑکوں سے غائب ہو جائیں گی۔جو بچ جائیں گی وہ یا تو الیکٹرک کاریں ہوں گی یا ہائبرڈ، اور سڑکیں خالی ہوں گی۔

الغرض دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے،اور ہمارے پاس اس وقت بلکہ ہر سال یہ تین کام کرنے کے ہوتے ہیں۔ پہلا لانگ مارچ کی تیاری، دوسرا نوازشریف یا فلاں سیاستدان کی وطن واپسی اور تیسرا نئے آرمی چیف کی ’’تقرری‘‘۔ جب کہ اقتدار میں موجود پارٹی کے تین کام یہ ہوتے ہیں کہ اپوزیشن کا قلع قمع کیسے کرنا ہے؟ کرپٹ سیاستدانوں کی حفاظت کیسے کرنی ہے؟ اور فیصلہ کرنے والی قوتوں کو کیسے خوش کرنا ہے؟ اور ہم عوام کا تو یہ حال ہے کہ ہم صرف وقت گزاری کے لیے زندگی گزار رہے ہیں۔

بس ہم پاکستانیوں کا حال ایسا ہی ہے۔ یہاں بھی محض وقت گزاری کے لیے ایشوز کو بنایا جاتا ہے، انھیں کھڑا کیا جاتا ہے اور پھر ایشوز خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ جیسے یہاں سب کو پتہ ہے کہ اب بارشیں زیادہ ہوا کریں گی، گلیشئر زیادہ پگھلا کریں گے۔

ہم پھر بھی کچھ نہیں کریں گے اور اگلے سال کے آنے کا انتظار کریں گے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ہم ہر سال اکتوبر نومبر میں لاہور کو دنیا کا آلودہ ترین شہر دیکھتے ہیں جہاںا سموگ ہر سال ڈیرے ڈالتی، شہریوں کو سانس اور آنکھوں کے مرض میں مبتلا کرتی ہے۔ لیکن سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم اس حوالے سے کوئی ایمرجنسی لگا کر اس کا سدباب کریں۔

لہٰذاآنکھیں اور کان کھلے رکھیں ورنہ آپ پیچھے رہ جائیں گے، وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونے کے لیے تیار رہیں۔اور حکومت کو اس حوالے سے جگاتے رہیں، کہ شاید کسی بھی وقت اسے ہوش آجائے اور ہم دنیا کے ساتھ چلنا شروع کردیں!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔