ہم ترقی یافتہ قوم کب بنیں گے؟

جاوید نذیر  پير 13 مئ 2024
ترقی یافتہ قوموں اور ہمارے درمیان قول اور عمل کے تضاد کی خلیج حائل ہے۔ (فوٹو: فائل)

ترقی یافتہ قوموں اور ہمارے درمیان قول اور عمل کے تضاد کی خلیج حائل ہے۔ (فوٹو: فائل)

اکیسویں صدی گزرنے اور ہمارے ملک کے قیام کو 75 سال مکمل ہونے کے باوجود ہم ابھی تک ترقی یافتہ قوم نہیں بن سکے۔ ہم نے مادی ترقی کرلی، ایٹم بم بھی بنالیا، بہترین عسکری قوت حاصل کرلی، ڈاکٹرز پیدا کرلیے، انجینئر بنا لیے، ادارے بنا لیے، دوسرے ملکوں کو جوڑنے والی شاہراہیں اور پل بنا لیے لیکن ان تمام ترقیاتی کاموں کے باوجود ہم آج تک ترقی یافتہ قوم کیوں نہیں بن سکے؟

میں یہاں یہ عرض کرنا نہیں چاہ رہا کہ کیوں ہم اعلیٰ تعلیم کےلیے دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں؟ کیونکر ہماری اشرافیہ کا علاج دوسرے ملکوں سے ہی ممکن ہوتا ہے؟ کیوں ملک کے امرا عدم تحفظ کی وجہ سے مغربی ممالک میں رہنا پسند کرتے ہیں؟ بلکہ آج میں اُن چھوٹے چھوٹے اقدامات کا ذکر کروں گا جو ہم اپنی ذات سے شروع کرکے بحیثیت قوم ترقی کرسکتے ہیں اور اپنے آپ کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کرسکتے ہیں۔

ترقی یافتہ قوموں اور ہمارے درمیان جو خلیج ہے، اُس کو ہم درج ذیل اقدامات کے ذریعے پاٹ سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کھانے پینے کی بنیادی چیزیں خالص ملنا ایک ناممکن امر ہے۔ دودھ، دہی، سبزیاں، دالیں، گوشت ہر مارکیٹ اور ہر دکان پر دکاندار اپنے اپنے نرخوں پر بیچ رہے ہیں۔ سب کو ادراک ہے کہ ان چیزوں میں سے کوئی بھی خالص نہیں اور تقریباً ہر شے میں ملاوٹ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کو دیکھنے کےلیے صوبائی سطح پر ادارے موجود ہیں لیکن اس کے باوجود یہ تمام کاروبار ان اداروں کی ناک کے نیچے ہورہا ہے۔ مہنگائی کے ستائے عوام اب احتجاج بھی نہیں کرتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ معمولی جرمانہ ادا کرکے یہ کاروبار اسی طرح چلتے رہیں گے۔

آپ پورا ملک گھوم لیجیے، بشمول دارالحکومت آپ کو کچرے کے ڈھیر اور صفائی کے ناقص انتظامات نظر آئیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کو ٹھیک کرنے کےلیے بھی ادارے موجود ہیں لیکن ان 75 برسوں میں ہم اپنے ملک کو صاف نہیں کرسکے۔ اس کی سب سے بڑی مثال کراچی کی دی جاسکتی ہے جہاں تقریباً ہر مقامی حکومت نے ہاتھ اٹھا لیے ہیں کہ وہ شہر سے کچرے کے ڈھیروں کو ختم نہیں کرسکتے اور نہ ہی اُن نالوں کو صاف کرسکتے ہیں جن کی وجہ سے بیماریوں کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس ضمن میں میرا موقف ہے کہ جو نظام ملک کے کینٹ ایریاز میں اپنایا گیا ہے یا نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں اپنایا گیا ہے اُس کو ملک بھر میں رائج کرنے کےلیے اقدامات کیے جائیں۔ اس کےلیے ملک میں بلدیاتی نظام کو موثر بنانے کی ضرورت ہے اور ترجیحی بنیادوں پر اپنے علاقوں کو صاف ستھرا بنانے کےلیے عملی طور پر سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جائے اور سفارشی اور کام چور عملے سے جان چھڑائی جائے۔ ایم پی ایز اور ایم این ایز کو اسمبلیوں میں کام کرنے دیں اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے اپنے ملک کے اس دیرینہ مسئلے پر قابو پانے کےلیے خاطر خواہ اقدامات کریں۔

ملک میں یکساں تعلیمی نظام کو نافذ کرنا چاہیے۔ حیرت ہے کہ 75 سال گزر جانے کے بعد بھی ہم فیصلہ نہیں کرپائے کہ ہم کون سا تعلیمی نظام ملک میں نافذ کریں۔ ہم نے انگلش میڈیم تعلیم کا نعرہ تو ضرور لگایا لیکن عملی طور پر ہم تاحال اپنے سرکاری اسکولوں میں انگلش میڈیم تعلیم شروع نہیں کرسکے۔ جو بڑے اسکول ہیں، جہاں پر صحیح معنوں میں انگریزی تعلیم دی جاتی ہے وہاں متوسط اور غریب طبقے کےلیے اپنے بچے پڑھانا ایک خواب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں پرائیویٹ اسکولوں کے قیام کا جو سلسلہ شروع ہوا، اُس نے تعلیم کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ کہنے کو تو یہ اسکول انگلش میڈیم ہیں لیکن بیشتر بچے تعلیمی میدان میں بڑے اسکولوں کے بچوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ سرکاری اسکولوں کی حالت تو اور بھی پتلی ہے۔ دیہات کے بچوں کو تو انگریزی پڑھنا کسی عذاب سے کم نہیں لگتا۔

ملک کو ترقی یافتہ بنانے کےلیے یہ کچھ ایسے اقدامات ہیں جن کو کرنا حکومتوں کا کام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کو ترقی یافتہ بنانے میں عوام اپنا کردار کس طرح ادا کرسکتے ہیں اس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیا اپنے گلی اور محلوں کو صاف ستھرا رکھنا عوام کی ذمے داری نہیں ہے؟ کیا آپ یہ ذمے داری پوری کررہے ہیں؟ کیا آپ کوڑا کرکٹ اور کچرا پھیلانے کے ذمے داری نہیں؟ کیا آپ صوتی آلودگی کا موجب نہیں بن رہے؟ کیا آپ اُن تمام قوانین کی خلاف ورزی نہیں کررہے جن سے ملک کو صاف ستھرا بنایا جاسکتا ہے۔ چلتی گاڑی سے پھلوں کے چھلکے، خالی بوتلیں اور شاپر پھینکنا لوگوں کا معمول ہے۔ موٹر سائیکل سوار سڑک پر تھوکنا اور پان کی پیک پھینکنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتے ہیں۔ عوام اپنے گھروں کو تو صاف رکھتے ہیں لیکن گھروں کے سامنے سڑک پر کوڑے کے ڈھیر لگا دیتے ہیں۔ سیوریج صاف کرکے تمام غلاضت گٹر کے ساتھ ہی رکھ دیتے ہیں جو آہستہ آہستہ سڑک کے اردگرد تمام گھروں اور دکانوں میں داخل ہوجاتی ہے لیکن اس پر آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔

کیا منافع خوری کے چکر میں عوام خود کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ نہیں کررہے۔ دلچسپ بات کہ ہمیں علم ہے کہ کون ایسا کررہا ہے لیکن ہم آواز نہیں اُٹھاتے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید اس کی وجہ سے میں تو متاثر نہیں ہورہا ہوں۔ دوسرے اس طرح کا کام کرنے والے ہمارے رشتے دار، دوست احباب یا طاقتور لوگ ہوتے ہیں اور جس طرح ملک کا قانون ہے وہ یہی سمجھ کر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا؟ اس طرح کے کسی بھی مسئلے پر آواز ضرور بلند کیجئے، اپنا احتجاج ضرور ریکارڈ کرائیں تاکہ عوام کو علم ہوسکے کہ اس مسئلے پر کسی نے تو آواز اٹھائی ہے اور میرا یقین ہے کہ جلد یا بدیر آپ کی آواز کے ساتھ آواز ملانے والے ضرور ہوں گے۔

جہاں نو پارکنگ لکھا ہے وہاں گاڑی ضرور پارک کرنی ہے اور نقصان کی صورت میں دوسروں پر الزام تھوپنا ہے۔ تجاوزات کا ایشو بہت اہم ہے جس کی وجہ سے پیدل چلنے والے بھی مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ جن راستوں پر عوام کو پیدل چلنا ہے وہاں تجاوزات والے براجمان ہیں۔ تجاوزات ختم کرنے کےلیے جب مقامی حکومت کی طرف سے آپریشن کیا جاتا ہے تو وقتی طور پر چیزیں ہٹا لی جاتی ہیں اور کچھ وقفے کے بعد دوبارہ وہ کاروبار شروع ہوجاتا ہے۔

کیا وجہ ہے کہ ہم دوسرے ملکوں میں جاکر تو قطار میں کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن اپنے ملک میں ایسا کرنا ہمیں گوارا نہیں۔ ٹریفک اشاروں کی خلاف ورزی، جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، کاروبار میں دوسروں کو دھوکا دینا، لین دین میں غیر منصفانہ رویہ رکھنا، اور ایسے بہت سے اقدامات ہیں جن کی وجہ سے ہم ترقی یافتہ قوم نہیں بن سکے۔

حیرت ہے کہ ہم تو آج بھی پانی کے کولر کے ساتھ لگے گلاسوں کو زنجیر سے باندھ کر رکھتے ہیں؟ مذہبی عبادتگاہوں میں ٹونٹیوں پر جنگلے لگائے ہوتے ہیں تاکہ کوئی انہیں چُرا کر نہ لے جائے۔ مذہبی عبادتگاہوں میں جوتوں کا چوری ہونا، ملازمین کو کم سے کم تنخواہ دینا اور زیادہ کام لینا، غرض بہت سے ایسے رویے ہیں جن کو درست کرکے ہم اپنے آپ کو عمدہ ،بہتر اور ترقی یافتہ قوم کی صف میں شامل کرسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے اندر سے اخلاقی گراوٹ کی تمام شکلوں کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں ان رویوں کو اپنی نئی نسل میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو اس طرف راغب کرنے کےلیے اُن کے پسندیدہ سوشل میڈیا پر باقاعدہ یہ مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔