عوام کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟

عابد محمود عزام  اتوار 19 فروری 2023

پاکستان میں مہنگائی کا ’’جن‘‘ مکمل طور پر بے قابو ہوگیا ہے۔ اشیائے ضرورت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عوام کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں۔ مسلسل بے تحاشہ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہر شخص پریشان ہے۔ غریب اور مزدور کی آمدنی سے گھریلو ضروریات پوری ہونا انتہائی مشکل ہے۔ متوسط طبقہ بھی بری طرح پریشان ہے۔ بچوں کے تعلیمی اخراجات ،گھریلو ضروریات ، علاج معالجے کے اخراجات کا خرچ تنخواہ سے پورا ہونا ممکن نہیں رہا۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عوام کی پریشانیاں دن بدن بڑھ رہی ہیں، اس کا احساس حکمرانوں کو نہیں ہے۔ انھیں صرف اپنی سیاست بچانے اور مفادات سمیٹنے سے غرض ہے۔ یہ لوگ اقتدار میں آنے سے پہلے روزانہ بیانات، جلسے جلوسوں اور پریس کانفرنسوں میں عوام کو بتاتے تھے کہ فلاں شے کی اصل قیمت اتنی ہے، لیکن حکومت کی نااہلی کی وجہ سے یہ چیز مہنگی بیچی جا رہی ہے۔

اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ لوگ اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں اور مہنگائی کے حق میں جواز بھی تراش رہے ہیں۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات سے مہنگائی کا جو نیا طوفان پیدا کیا ہے عوام میں اس کا سامنا کرنے کی سکت بالکل نہیں رہی۔ آئے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

بائیک یا گاڑی سے روزانہ اپنے کام پر جانے والے متوسط اور غریب طبقے کا بجٹ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے بری طرح متاثر ہوتا ہے اور کرایوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ کر دیا جاتا ہے، جو یقیناً مجبور عوام کو عذاب میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوجاتاہے اور عوام کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج ملک میں ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔ بجلی، پانی، گیس کے بلوں، بچوں کے اسکول کی فیسوں، اشیائے خوراک کی خریداری میں سے عوام کہاں اور کیا بچت کر سکتے ہیں؟ اس صورت حال میں تو بمشکل اپنا پیٹ ہی پالا جا سکتا ہے۔ کم آمدنی والے اور بے روزگار لوگ مسلسل ایک عذاب سے گزر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے تو بیماری کی صورت میں ڈاکٹروں تک کے پاس جانا بھی چھوڑ دیا ہے۔

جب اشیائے خوراک کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں تو کم آمدنی والا طبقہ غربت کی لکیر سے نیچے جانا شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں کروڑوں افراد کی ماہانہ آمدن40 اور 50 ہزار روپے سے کم ہے اور بہت سے دیہاڑی دار مزدوروں کی آمدن تو اس سے بھی بہت کم ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ انھیں روزانہ کام مل جاتاہو۔

بہت سے لوگ تو ماہانہ20 ہزار روپے میں بھی گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے مقابلے میں مہنگائی میں5 سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پہلے غریب آدمی دال اور سبزی کھا کر گزارہ کر لیتا تھا، مگر اب تو دالوں، سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان تک پہنچ چکی ہیں۔ ان کی زندگی آسان کرنا اور ان مہنگائی کے عذاب سے نکالنا حکمرانوں کی ذمے داری ہے، لیکن حکمرانوں کو مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کی مشکلات سے کوئی غرض نہیں۔

انھیں اس بات کی بھی فکر نہیں کہ مہنگائی سے ستایا غریب اور مزدور طبقہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے چوری اور ڈاکے کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوجاتا ہے، جس سے ملک میں بدامنی پھیلتی ہے۔

حکمرانوں کی نااہلی کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے حکمران ہم سے جمع کیا ہوا ٹیکس ملک و قوم کی تعمیر و ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے اللوں تللوں پر اور غیر ملکی دوروں پر خرچ کرتے ہیں۔ ملک کی دولت آفیسرزکی زندگی میں آسائشیں پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

سرکاری اداروں کے افسران کی تنخواہیں کئی کئی لاکھ روپے ہیں ، پانچ پانچ گاڑیاں اور تنخواہوں کے علاوہ بھی بے تحاشہ مراعات ہیں۔ ملک میں ہزاروں سرکاریاں گاڑیوں کو بلامعاوضہ پٹرول کی سہولت میسر ہے، جس کی مد میں ماہانہ اربوں روپے صرف ان کی گاڑیوں کے پٹرول میں پھونک دیے جاتے ہیں ، حالانکہ اگر نچلے اسکیل کا ملازم کم تنخواہ میں اپنے تمام اخراجات خود کرتا ہے تو آفیسرز کی عیاشیوں کا بوجھ ملک کے خزانے پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟

یہ وہ ناسور ہے جو ملک کو IMFکے چنگل سے آزاد نہیں ہونے دیتا۔ یہ قرضے عوام کو ضروریات پوری کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اشرافیہ کی عیاشیوں کی خاطر لیے جاتے ہیں۔ قرضے تو حکمران لیتے ہیں اور سود عوام کی رگوں سے کشید کیا جاتا ہے۔ اشرافیہ کا مفت پٹرول ، مفت بجلی کے یونٹ ، مفت ہوائی ٹکٹ بند ہونے چاہئیں۔ پارلیمنٹ کے ارکان کی تنخواہوں کا حجم کم کرنا ہوگا۔ ان کی صرف تنخواہوں کا مجموعی حجم35 ارب سے زیادہ ماہانہ ہے۔ ہاؤس رینٹ، گاڑی، گھرکے بل، ٹکٹ، بیرون ملک دورے اور رہائش اس میں شامل نہیں ہیں۔

مختلف اجلاسوں کے اخراجات اور بونس ملا کرسالانہ خرچ 85 ارب روپے کے قریب پہنچ جاتا ہے اور ان میں سے بیشتر لوگ خود ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ عوام کو اگرگیس، بجلی اور پانی پر سبسڈی نہیں ملتی تو پارلیمنٹ کینٹین میں سبسڈیزائڈ فوڈ کسی رْکن پارلیمان کو نہیں ملنا چاہیے۔آئی ایم ایف حکومت سے یہ کیوں نہیں پوچھتی کہ وہ اتنے شاہانہ اخراجات کیوں کرتی ہے؟ کیا آئی ایم ایف صرف غریبوں پر ٹیکس لگانا جانتی ہے ؟

وطن عزیزکی معیشت مسائل کے منجھدار کے بیچ غوطے کھا رہی ہے ، لیکن اس بدترین معاشی صورتِ حال کی اصلاحِ کے حوالے سے کوئی ٹھوس اور قابلِ عمل حل سامنے نہیں آیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز کسی درست سمت کا تعین کیے بغیر محض ہوا میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاملات مزید الجھائو کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

حکومت کی طرف سے تمام زور زبانی دعوئوں اور بیانات پر صرف کیا جا رہا ہے۔ آمدنی اور ٹیکس کا نظام اس قدر غیر منصفانہ اور غیر حقیقت پسندانہ ہے کہ اس کی وجہ سے پورا معاشی ڈھانچہ زمین بوس ہو چکا ہے اور اس کا تمام تر بوجھ غریب ، تنخواہ دار اور متوسط طبقے پر ڈال دیا گیا ہے۔ وسائل رکھنے والے امیر طبقے پر کوئی مالی بوجھ نہیں ہے ، اگرکبھی اس پر ٹیکس عائد کیا بھی جاتا ہے تو دوسرے ہاتھ سے واپس لے لیا جاتا ہے۔

ہماری اشرافیہ ، بڑے جاگیردار ، زمیندار اور بڑے کاروباری طبقات ہمارے قانون ساز اداروں (اسمبلیوں ) میں موجود ہیں ، چنانچہ کوئی قانون بھی ان کے مفادات سے ہٹ کر نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ مالی بوجھ متوسط طبقے اور عام آدمی پر ہی پڑتا ہے۔ اسی کا خون نچوڑ کر ہماری اشرافیہ اللّے تللّے اور عیاشیاں کرتی ہے۔ عام آدمی تو مسائل میں گردن تک دھنسا ہوا ہے، لیکن حکمران طبقات اور مراعات یافتہ لوگ زندگی کی ہر رنگینی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

ملک کی معاشی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ کوئی واضح اور دیرپا پالیسی اختیار کر کے مسائل کے آگے بند باندھا جائے۔ تمام فیصلہ ساز قوتیں مل بیٹھیں، معیشت کی بحالی اور عوامی مشکلات کے دیرپا حل کے لیے تمام صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لائیں اور عام آدمی کے لیے زندگی آسان کر دیں تاکہ اسے ذہنی سکون میسر آئے اور وہ بھی ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا کردار ادا کر سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔