ہم لوگ کتابیں نہیں پڑھتے

عابد محمود عزام  اتوار 19 مارچ 2023

ہر سال کی طرح اس سال بھی لاہور ایکسپو میں بین الاقوامی کتب میلہ منعقد ہوا، جو مارچ کے پہلے ہفتے میں پانچ دن جاری ہا۔ بہت سے مصنفین ، ادیبوں، دانشوروں اور عوام نے اس کتب میلے میں شرکت کی۔

سیکڑوں پبلشرز نے کتب میلہ میں اپنے اسٹال لگائے۔ مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں فروخت ہوئیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کتاب میلہ کے پانچ دنوں میں بمشکل دس پندرہ ہزار لوگ شریک ہوئے ہوں گے۔ لاہور شہر کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے۔ یہ تعداد آبادی کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں، اگر لاہور میں کوئی سیاسی یا مذہبی جلسہ منعقد ہو تو لاکھوں لوگ پہنچ جاتے ہیں، لیکن کتاب میلہ میں پانچ دنوں میں چند ہزار لوگ ہی آئے۔

سوا کروڑ آبادی میں تو لاکھوں لوگ کتاب دوست ہونے چاہیے۔ لاکھوں لوگوں کو کتاب میلہ میں شرکت کرنی چاہیے تھے اور کتابیں بھی اسی طرح زیادہ تعداد میں فروخت ہوتیں، مگر اب کی بار کتاب میلہ گزشتہ سالوں کی طرح کامیاب نہیں رہا۔ اس سال یہاں رش معمول سے بہت ہی کم تھا۔ پچاس فیصد کم قیمت پر ملنے والی کتابوں کی دکانیں بھی خالی نظر آرہی تھیں۔

پچھلے سالوں میں یہاں یہ صورت حال نہ تھی۔ کتاب میلہ کو لاہور کا سب سے بارونق پروگرام سمجھا جاتا ہے۔ ملک بھر سے کتاب دوست یہاں امنڈ آتے تھے، مگر اس بار تو صورتحال ہی کچھ اور تھی۔ کتابیں بھی کم تھیں، دکانیں بھی کم اور لوگ بھی کم تھے۔ اس بار بہت سے اشاعتی اداروں نے کرایہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کتاب میلہ میں اپنے اسٹال بھی نہیں لگائے، اس بار کتاب میلہ دیکھ کر تو لگ رہا تھا کہ بقول سعود عثمانی۔

کاغذ کی یہ مہک ، یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

اس بار کتاب میلہ میں رونق نہ ہونے کی وجہ مہنگائی بتائی جا رہی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ مہنگائی سے اشرافیہ کے سوا ملک کا ہر انسان متاثر ہوا ہے۔ عوام کی قوت خرید دم توڑ چکی ہے۔ لوگوں کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے پیسے نہیں رہے۔ لوگ کتاب پڑھنے سے زیادہ پیٹ بھرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مہنگائی سے کتابوں کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہوگئی ہیں، جن کا خریدنا عام آدمی کے لیے بہت ہی مشکل ہوگیا ہے، لیکن مسئلہ صرف مہنگائی بھی نہیں ہے، اگر دیکھا جائے تو اور بھی کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم لوگ مجموعی طور پر کتاب سے دور ہو رہے ہیں، اگر صرف مہنگائی ہی وجہ ہو تو کھانے پینے، کپڑے جوتے، مہنگے موبائل، گاڑیوں، گھومنے پھرنے اور دیگر بہت سی چیزوں پر یہ قوم بے تحاشہ پیسہ خرچ کرتی نظر نہ آتی۔

مہنگے مہنگے مالز پر شاپنگ کرنے اور مہنگے مہنگے ہوٹلوں پر کھانے کھانے پر ہم لوگ ہزاروں لاکھوں روپے لگادیتے ہیں، لیکن چند سو اور ہزار کی کتاب خریدتے وقت مہنگائی یاد آجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگ بحیثیت مجموعی کتابیں نہیں پڑھتے ، مطالعہ کا شوق نہیں ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی کتابوں کے مطالعہ کا شوق نہیں اور نہ ہی کتابوں کے مطالعہ کی ترغیب دی جاتی ہے۔

موجودہ دور میں تو خاص طور پر صرف وہ کام کیا جاتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ پیسے کمائے جاسکیں۔ کتابوں کے مطالعہ کو تو اب وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے ، اگر سروے کیا جائے تو شاید چند فیصد لوگ بھی ایسے نہ ہوں جن کے گھروں میں کتابیں موجود ہیں، جنھوں نے اپنے گھروں میں کوئی چھوٹی موٹی لائبریری بنا رکھی ہے۔ بہت ہی کم لوگ ہوں گے جو باقاعدگی سے لائبریری میں مطالعہ کے لیے جاتے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ کتاب ہمارے کلچر کا حصہ نہیں بن سکی، وجوہات اِس کی بہت سی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کتب بینی میں کمی کی وجوہات میں کم شرح خواندگی، صارفین کی کم قوت خرید، موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال، ڈیجیٹل انفارمیشن کی ترویج ، کمرشلائزیشن ، تیزرفتار طرزِ زندگی، اچھی کتابوں کا کم ہوتا رجحان اور کتب خانوں کے لیے مناسب وسائل کی عدم فراہمی کے علاوہ خاندان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے کتب بینی کے فروغ کی کوششوں کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔

معاشرے میں کتب بینی کے رجحان میں تیزی سے کمی کی سب سے بڑی وجہ انٹرنیٹ ہے۔ لوگ اب کتب خانوں میں جا کر کتابیں ، رسائل و ناول پڑھنے کے بجائے انٹرنیٹ پر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ترقی کے اس دور میں ہر چیز کمپیوٹرائز ہوچکی ہے ، وہ نوجوان جو پہلے اپنا وقت کتب بینی میں گزارتے تھے ، اب وہی وقت جدید آلات اور انٹرنیٹ پر ضایع کر رہے ہیں۔ کتاب کی اہمیت ہر دور میں مسلمہ رہی ہے۔ کتاب سفر و حضر کی بہترین رفیق ہے۔

انسان کبھی کتاب سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ہے۔ کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔ کتابوں سے دوستی رکھنے والا شخص کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ کتاب اس وقت بھی ساتھ دیتی ہے جب دوست و احباب ساتھ چھوڑ دیں۔ کتاب کا انسان سے تعلق بہت پرانا ہے اور یہ انسان کے علم و ہنر اور ذہنی استعداد میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے اور خود آگاہی اور اپنے ارد گرد کے حالات و واقعات کا ادراک پیدا کرتی ہیں۔ کتاب زندہ قوموں کے عروج و کمال میں ان کی ہم سفر ہوتی ہے۔

کتاب سے دوستی شعور کی نئی منزلوں سے روشناس کراتی ہے۔ جن اقوام میں کتاب کی تخلیق ، اشاعت اور مطالعے کا عمل رک جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں وہاں ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا سے بہت پیچھے ہیں، کیونکہ ہمارے ہاں کتاب بینی کا رجحان بہت کم ہے۔ ترقی یافتہ اقوام ہمیشہ کتاب سے دوستی رکھتی ہیں۔ بس اسٹاپ ، ریلوے اسٹیشن اور ہوائی اڈوں پر بک اسٹال لگے نظر آتے ہیں اور کتب کے شیدائی مطالعے میں مصروف نظر آتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں کتابوں کی اشاعت لاکھوں میں ہوتی ہیں۔ یورپ میں کئی مصنفین اپنی تصنیف کی وجہ سے معاشرے کے بااثر اور امیر افراد بن جاتے ہیں۔کتب بینی کی عادت کو نوجوان نسل میں پروان چڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ آج کے نوجوانوں میں شوق مطالعہ کو اجاگر کرکے منفی اور شدت پسندانہ رجحانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ سماج کو مثبت تبدیلی اور شعور کی ضرورت ہے۔

شعور علم کا محتاج ہوتا ہے اور علم کتب سے حاصل ہوتا ہے، اگر ہمیں دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس چاہیے تو اپنی نوجوان نسل کو کتاب کی جانب راغب کرنا ہوگا۔ علم و آگہی کے دامن کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔ کتب بینی کو اپنی مصروفیات کا اہم جزو بنانا ہوگا۔ بچوں میں مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنے میں والدین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو اچھی اور مفید کہانیوں کی کتابیں لا کر دیں۔ بچے کہانی سننا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ اس طرح بچوں میں کتاب سے محبت اور مطالعے کا شوق پیدا ہوسکتا ہے۔

والدین فارغ اوقات میں ٹی وی دیکھنے یا فون سننے کے بجائے کسی کتاب یا رسالے کی ورق گردانی کر کے بچے کو بھی اس طرف مائل کرسکتے ہیں۔ نوجوان نسل کی کتاب سے دوری کو قربت میں بدلنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ مہم کے ذریعے نوجوانوں کو کتاب کی اہمیت و افادیت سے روشناس کرائے۔ قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرے اور نئی لائبریریوں کا قیام عمل میں لائے۔

مختلف شہروں میں کتب میلوں کا انعقاد کرے اور ان میں نوجوانوں کو سستے داموں کتاب کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ترقی یافتہ ممالک نئی نسل کو کتاب کی جانب مائل کرنے کے لیے کئی اقدامات کر رہے ہیں۔ کچھ مغربی ممالک میں فون بوتھ ، عوامی اور تفریحی مقامات پر کتابیں رکھی گئی ہیں، جہاں آنیوالے افراد بلا معاوضہ اپنی پسندیدہ کتابیں پڑ ھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں کتب بینی کے فروغ کے لیے بھی ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔