ورلڈکپ 2023؛ بھارتی بورڈ آئی سی سی کو 955 کروڑ روپے ادا کریگا

اسپورٹس ڈیسک  اتوار 16 اپريل 2023
اس بار بھی ورلڈکپ میں ٹیکس پر حکومت سے کسی قسم کی رعایت نہیں مل سکی (فوٹو: ایکسپریس ویب)

اس بار بھی ورلڈکپ میں ٹیکس پر حکومت سے کسی قسم کی رعایت نہیں مل سکی (فوٹو: ایکسپریس ویب)

کراچی: بھارتی کرکٹ بورڈ کو اس بار بھی ورلڈ کپ کیلیے حکومت سے کسی قسم کی رعایت نہیں مل رہی جب کہ آئی سی سی کو955 کروڑ روپے اپنی ’جیب‘ سے ادا کرنا پڑیں گے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے اپنے شوپیس ایونٹس کی میزبانی دینے کی اولین شرط ہی میزبان بورڈ کیلیے اپنی حکومت سے ٹیکس استثنیٰ حاصل کرنا ہوتی ہے، بی سی سی آئی نے جب 2016 میں ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز پایا تو اس سے حاصل ہونے والی آئی سی سی کی کمائی پر بھارتی حکومت نے 193 کروڑ روپے ٹیکس عائد کردیا، یہ رقم بعد میں آئی سی سی نے بی سی سی آئی کے ریونیو حصے سے منہا کر لی، اس پر بھارتی بورڈ کی جانب سے آئی سی سی ٹریبونل میں کیس بھی کیا گیا۔

اب ایک بار پھر اکتوبر میں بھارت ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا ہے، ابھی تک اسے حکومت کی جانب سے ٹیکس میں چھوٹ ملنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا، اس لیے بی سی سی آئی کی جانب سے جلد ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے ریونیو میں سے ہی 955 کروڑ روپے منہا کر لے جو اسے میگا ایونٹ میں آمدنی پر ٹیکس کی صورت میں ادا کرنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیاکپ اور ورلڈکپ کے بارے میں قومی امنگوں کے مطابق دوٹوک مؤقف اپنائیں گے، نجم سیٹھی

بھارتی بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سے کیسے اپنے قوانین تبدیل کرنے کو کہا جاسکتا ہے، 2016 میں ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران ایسی ہی ایک درخواست مسترد کردی گئی تھی، جلد ہی بورڈ کی جانب سے آئی سی سی کو ٹیکس چھوٹ سے متعلق اپنی پوزیشن سے آگاہ کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت نے آئی سی سی کی اگلے نشریاتی دورانیے سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے 37 فیصد حصہ طلب کرنے کا ارادہ کرلیا ہے، اس کے مطابق آئی سی سی کی تقریباً 90 فیصد آمدنی بھارت سے حاصل ہوتی ہے،لہذا اس کا شیئر بھی زیادہ ہونا چاہیے، اس طرح وہ اگلے دورانیے میں آئی سی سی سے 10 ہزار کروڑ روپے حصہ طلب کرنے کا ذہن بنائے ہوئے ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی سی سی کی سب سے طاقتور فنانس کمیٹی کے چیئرمین بھی موجودہ سیکریٹری بی سی سی آئی جے شا ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔