جمہوریت: انصاف کی ماں

زاہدہ حنا  بدھ 19 اپريل 2023
zahedahina@gmail.com

[email protected]

ان دنوں ملک میں انصاف اور عدل کا کیسا چرچا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سے زیادہ تو کوئی انصا ف پسند نہیں ہے۔ بڑے بڑے نام نظر سے گزرتے ہیں۔

کچھ وہ بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ہم سے زیادہ عدل گستری کا تو کوئی دعویٰ کر نہیں سکتا۔ اس سے بڑے بڑے دعوے ہیں کوئی نوشیرواں عادل سے آگے کی بات کرتا ہے او رکسی کا خیال ہے کہ وہ خدا کا منتخب ہے اور اس نے اپنے شعبے میں جس طرح کا انصاف کیا ہے وہ لاجواب اور بے مثال ہے۔ ان دعویداروں کے دعوؤں کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور اس حوالے سے مجھے اپنی لکھی ہوئی متعدد سطریں یاد آتی ہیں۔

ہم امریکا پر ہر وقت تنقید کرتے رہتے ہیں، بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ پاکستان کی تباہی کا ذمے دار بھی یہی ملک ہے، جب کہ ہم اپنی تباہی کے خود ذمے دار ہیں۔ امریکا آج اگر دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی عظیم جمہوریت بھی ہے۔

جہاں کے منصف اپنے شہریوں سے انصاف کرتے ہیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ امریکا میں جب 1935میں عظیم کساد بازاری پیدا ہوئی جس میں امیرترین لوگ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سے زمین پر آن گرے۔ امیر فقیر ہوگئے تھے اور بہتوںنے قرض خواہوں کاسامنا کرنے کے بجائے موت کو گلے لگا لیا تھا۔

ایسے میںجنوری کی ایک نہایت سردسہ پہر کو نیویارک کے ایک غریب محلے میںایک مفلوک الحال عورت عدالت میںپیش کی گئی۔ اس کے چہرے پران گنت جھریاں تھیں، کمرجھکی ہوئی تھی اور تن پرناکافی کپڑے تھے جن میںوہ ٹھٹھررہی تھی۔ کمرۂ عدالت میں اور بھی بہت سے لوگ تھے۔

چور اُچکے، لفنگے جن پر چھوٹی موٹی چوریوں اور غنڈہ گردی کاالزام تھا۔ ان میںوہ لوگ بھی تھے جن کی شکایت پریہ لوگ گرفتار ہوئے تھے۔ جب مقدمے کا آغاز ہوا توایک نان بائی اٹھا اوراس نے کہاکہ اس عورت نے میری بیکری سے روٹی چرائی تھی، یہ چورہے اور مجھے انصاف چاہیے۔ جج  نے اس عورت کی حالت زاردیکھتے ہوئے نانبائی سے کہاکہ وہ اگراپنامقدمہ واپس لے لے تو اچھاہولیکن نان بائی کاکہناتھا کہ اگرچور کو سزا نہیںملی تواس سے دوسرے چوروںکی حوصلہ افزائی ہوگی۔

یہ بحث ابھی چل رہی تھی کہ وہاں سے نیویارک کے میئر کا گزر ہوا۔ اس کانام لاگارڈیاتھا اور وہ نیویارک کے شہریوںکابہت محبوب میئر تھا۔ سنکی کہلاتا۔ فائرانجن میںسفرکرتا پولیس والوںکے ساتھ مل کر چھاپے مارتا، یتیم خانوںسے یتیموںکواکٹھا کرتا اور انھیں تفریحی دوروںپرلے جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نیویارک کے عام شہریوں کا لاڈلا تھا۔

جنوری کی اس سرد سہ پہر میئر لاگارڈیا اپنی عادت کے مطابق اس عدالت میںجاپہنچا۔ وہاں اس نے جب روٹی چوری کرنے والی تباہ حال بڑھیا کودیکھاتو اس نے جج سے کہا کہ اس مقدمے کی شنوائی وہ خودکرے گا۔

یہ بات خلاف قانون نہیںتھی اس لیے جج نے اپنی کرسی لاگارڈیا کے لیے خالی کردی۔ کمرۂ عدالت میں موجود ہر شخص کی دلچسپی اب مقدمے میںبڑھ گئی۔

انھیں یقین تھا کہ ان کامیئراس سادہ سے مقدمے میںواقعی انصاف کرے گا۔ لاگارڈیا نے بڑھیاسے پوچھا کہ کیا واقعی تم نے روٹی چرائی تھی۔ بڑھیانے کہا ’’جی جناب میں نے روٹی چرائی تھی۔‘‘ میئرنے پوچھا کہ ’’کیاتم بھوکی تھیں اس لیے روٹی چرائی؟‘‘بڑھیا نے کہاکہ ’’ جناب میرا داماد نکھٹوہے، میری بیٹی بیمار ہے اورمحنت مزدوری نہیںکرسکتی۔ اس کے بچے تین وقت کے فاقے سے ہیںاور بھوک سے بلک رہے ہیں۔ ان کی بھوک نے مجھے مجبور کیاکہ میںنان بائی کی دکان سے روٹی چراؤں۔ میںاورکچھ نہیں کر سکتی تھی۔‘‘

کمرۂ عدالت میں موجود لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ایسے میںنان بائی نے چیخ کر کہا لیکن ’’جناب قانون، قانون ہے، اسے توڑا نہیںجاسکتا۔‘‘ لاگارڈیانے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سرہلایا اور کہا کہ ’’ہاںقانون تو قانون ہے۔‘‘ اس نے سامنے بیٹھے ہوئے جج سے پوچھاکہ ’’ اس جرم کی سزاکیاہے ؟‘‘

جج نے کہاکہ ’’جناب اس بڑھیا پردس ڈالر کاجرمانہ ہوگا اوراگریہ جرمانہ ادانہ کر سکی تو اسے دس دن کے لیے جیل جاناہوگا۔‘‘ یہ سن کر بڑھیا آہ وزاری کرنے لگی کہ’’ حضور اگرمیرے پاس جرمانہ اداکرنے کے لیے روپے ہوتے تومیںچوری کیوںکرتی۔ میںجرمانہ ادا نہیں کر سکتی۔ اگرآپ مجھے دس دن کے لیے جیل بھیج دیںگے تومیرے ننھے ننھے بچے بھوک سے مرجائیںگے۔‘‘

میئر لاگارڈیا نے خاموشی سے اپنی جیب سے دس ڈالر کانوٹ نکالا اور بیلف کے حوالے کیا۔میئرنے کہا کہ ’’ یہ وہ جرمانہ ہے جواداہوگیاہے اوراب اس بوڑھی عورت کوجیل بھیجنے کی ضرورت نہیں لیکن ایک جرمانہ اس کمرے میںبیٹھے ہوئے ہر شخص کواداکرنا ہوگا، یہ 50سینٹ کاجرمانہ ہے۔

سب سے پہلے یہ جرمانہ نان بائی اداکرے گا اور پھر دوسرے لوگ جو اس علاقے میں رہتے ہیںاور انھیںیہ نہیںمعلوم کہ ان کے علاقے میںبھوک کی ماری ایک ایسی بڑھیا رہتی ہے جو اپنے فاقہ زدہ بچوں کے لیے ڈبل روٹی چرانے پر مجبور ہوئی۔‘‘ اس روزکمرۂ عدالت میں موجود ہرشخص کی آنکھیںنم تھیںاور ان سب نے خاموشی سے 50سینٹ کاجرمانہ اداکیا۔ ان میںنان بائی کے دیے ہوئے 50سینٹ بھی شامل تھے۔

یہ کُل رقم 47ڈالر 50سینٹ تھی جو اس بڑھیا کودے دی گئی۔ یہ لاگارڈیا کاانصاف تھا جوسنکی اور جھکی مشہورتھا۔ بڑھیا اورنان بائی کانام کسی کی یادداشت میں محفوظ نہیں لیکن لاگارڈیا آج بھی نیویارک والوں کویادہے جب کہ اس کی ہڈیاںبھی سُرمہ ہوچکیں۔ میئر لاگارڈیا اپنے شہر والوں کو اتنا پیار اتھا کہ انھوںنے اسے 1934سے1945کے دوران تین مرتبہ اپنامیئر منتخب کیا۔

اسی نے نیویارک شہرکوایک نئے ایئرپورٹ کاتحفہ دیا جسے شہریوںنے اپنے محبوب میئرکے نام سے منسوب کردیا۔ آپ جب نیویارک کے لاگارڈیاایئرپورٹ سے سفرکررہے ہوںتواس شخص کوضروریاد کیجیے گا جو ہسپانوی نژاد تھا، تارک وطن کے طورپر امریکاآیاتھااورجس نے ’عظیم کسادبازاری‘کے زمانے میں ایک فاقہ زدہ بوڑھی عورت کے ساتھ انصاف کیاتھا۔

ہم الف لیلہ کی کہانیاں پڑھیں توہمیں بہت سے قاضیوں کاذکر ملتاہے جن کاانصاف ضرب المثل بن گیا۔ ان ہی میںسے ایک مقدمہ دوماؤں کاہے جوایک شیرخواربچے پر دعویٰ رکھتی تھیں۔ ان کامقدمہ جب قاضی کی عدالت میں پہنچاتو اس نے دونوں عورتوں کی فریادسن کرکہاکہ ان میںسے کوئی ایک بچہ کی حقِ مادریت سے دستبردارہوجائے لیکن ان میں سے ایک عورت جب چیخ چیخ کر کہنے لگی کہ ’’یہ اس کا بچہ ہے اور وہ اسے لیے بغیرنہیںجائے گی‘‘ تب قاضی نے کہا کہ’’ اس بچے کوآرے سے چیردیاجائے اور دونوں ماؤںکودے دیاجائے۔‘‘ یہ سن کرایک عورت چیخ پڑی اوراس نے کہاکہ ’’ میں اس شیرخوارپر اپنے دعوے سے دستبردار ہوتی ہوں۔

بچہ دوسری عورت کو دے دیا جائے۔‘‘ یہ سنتے ہی قاضی نے چوب داروںکوحکم دیا کہ بچہ شورمچانے والی عورت سے چھین لیاجائے کیونکہ یہ اس کی حقیقی ماں نہیں۔ ایک ماں اپنے بچے کے دوٹکڑے ہونے کا سن کرہی نیم پاگل ہوجائے گی۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والی عورت کومیری نگاہوں کے سامنے سے لے جاؤاور اسے 80 درے لگاؤتاکہ اسے اپنے جھوٹ کی قرار واقعی سزاملے اوردوسرے عبرت پکڑیں۔

اسی طرح ایک ہسپانوی نژاد جج بالتھا زارگارزوںیادآتاہے۔ اس نے بہت سے ایسے فیصلے دیے جن کی بناء پر انصاف سربلندہوا۔ حالیہ دنوں میں اس کا سب سے سنسنی خیز فیصلہ چلی کے سفاک اور خونیں ڈکٹیٹر جنرل آگسٹوپنوشے کے بارے میں تھا۔

جنرل پنوشے نے آلندے کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سزاسے بچنے کے لیے لندن میں پناہ لے رکھی تھی۔ جج بالتھازارگارزوں نے فیصلہ دیاکہ ریٹائرڈ جنرل پنوشے کووطن واپس لایا جائے اورواپسی کے بعد اس پر غداری اورہزاروںہم وطنوں کی ہلاکت اور ان پر زندانوںمیں کی جانے والی غیرا نسانی عقوبتوں کا حساب لیاجائے۔ ایک اورامریکی جج ولیم جوزف برینان جونیئرکاخیال آیا۔

غریب ماںباپ کابچہ، اس نے سرکاری اسکولوں میںپڑھا۔ذہانت، محنت اور دیانت کی بنیاد پر ترقی کرتاگیا۔ امریکی صدرآئزن ہارونے اسے سپریم کورٹ کاجج مقررکیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے برقی کرسی کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی سخت مخالفت کی۔ اس کاکہناتھا کہ موت کی یہ سزا غیرآئینی ہے کیونکہ اس کے ذریعے دی جانے والی موت اور کھمبے سے باندھ کر جلادی جانے والی موت میںکوئی فرق نہیں۔

ہمارے یہاں بھی جسٹس کانسٹنٹاین،جسٹس کارنیلیس جسٹس رستم کیانی اور جسٹس بھگوان داس گزرے ہیں۔ ان کانام آئے تو ہم احترام سے سرجھکادیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم امریکا کی طرح اپنے ملک میں میئر لاگارڈیا جیسے لوگ اور اوپر بیان کردہ منصف کیوں پیدا نہیں کرسکے؟ کیا امریکا نے یا دوسروں نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا تھا؟ ایسا اس لیے نہیں ہوسکا کہ جمہوریت انصاف کی ماں ہوتی ہے۔ جمہوریت نہیں ہوگی توانصاف بھی نہیں ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔