پاکستان کے ریاستی انتظام میں چلنے والے کاروباری ادارے بدترین قرار

آئی این پی  منگل 25 اپريل 2023
کمپنیاں عوامی فنڈز سے 458 ارب سالانہ نگل لیتی ہیں، اس رجحان کی تبدیلی کیلیے مضبوط اصلاحات متعارف کرائیں، عالمی بینک (فوٹو فائل)

کمپنیاں عوامی فنڈز سے 458 ارب سالانہ نگل لیتی ہیں، اس رجحان کی تبدیلی کیلیے مضبوط اصلاحات متعارف کرائیں، عالمی بینک (فوٹو فائل)

لاہور: عالمی بینک نے پاکستان کے ریاستی انتظام میں چلنے والے کاروباری اداروں کو جنوبی ایشیاء میں بدترین قرار دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق ان اداروں کا خسارہ اثاثوں کی مالیت سے زیادہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی وسائل میں نقصان اورخطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری کمپنیاں وجود برقرار رکھنے کیلئے عوامی فنڈز سے 458 ارب روپے سالانہ نگل لیتی ہیں۔

عالمی بینک نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس رجحان کی تبدیلی کیلئے مضبوط اصلاحات متعارف کرائیں کیونکہ خسارے کی وجہ سے وفاقی حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ ادارے 2016ء سے جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے برابر مالی نقصان کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گزشتہ سال ایشیا میں سب سے زیادہ فنڈنگ پاکستان کو فراہم کی گئی، ایشیائی ترقیاتی بینک

وفاقی کمپنیاں جنوبی ایشیائی خطے میں کم ترین منافع کمانے والے اداروں میں شامل ہیں، مسلسل نقصان کی وجہ سے ایس او ایز کا خسارہ 2020 میں جی ڈی پی کا 3.1 فیصد ہوگیا تھا۔ ایس او ایز کو دی جانے ضمانتوں کو قرضوں کے انبار اورحکومتی قرضوں کے طور پر تعبیر کیا جاتا ہے، جس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور 2021ء میں جی ڈی پی کا 9.7 فیصد ہو گیا تھا۔

مقامی، بیرونی قرضوں اور ضمانتوں کا بوجھ2016 ء سے 2021ء تک 4.09 فیصد سالانہ کی اوسط کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہا ہے، عارضی مسائل کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے جس میں ضمانتوں کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل

2021ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ذریعے نیوکلیئر پاور پلانٹس کیلیے 32 فیصد قابل ادا ضمانتیں دی گئیں۔ ضمانتوں سے مجموعی بوجھ 44.4 فیصد ہوا جبکہ کیش ڈیولپمنٹ لونز اور بیرونی قرضے بالترتیب 36 فیصد اور 19.6 فیصد رہے۔

ایس او ایز کیلیے حکومتی ضمانتوں میں 2016ء کے مقابلے میں دوگنا اضافہ ہوا، 75 فیصد سے زیادہ توانائی کے شعبے کو گردشی قرضے پر مالی فراہمی کے لیے دی گئی ضمانتیں ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔