کیا آپ اس مارکس کو جانتے ہیں؟ (دوسرا اور آخری حصہ)

زاہدہ حنا  بدھ 24 مئ 2023
zahedahina@gmail.com

[email protected]

کلاسیکی ادب اس کی روح میں جس طرح اترا ہوا تھا اس کا اندازہ پال لافارج کی یادداشتوں سے ہوتا ہے جس میں اس نے لکھا کہ ’’ ہائنے اور گوئٹے کا کلام اسے ازبر تھا اور وہ اپنی گفتگو میں ان کے اشعار بر محل اور برجستہ سناتا جاتا۔ وہ تمام یورپی زبانوں کے ادیبوں کو پڑھتا ۔ سال بہ سال وہ اسکائی لس کا مطالعہ قدیم یونانی زبان میں کرتا۔ اس کا کہنا تھا کہ شکسپیئر اور اسکائی لس دنیا کے دو عظیم ترین ڈراما نگا ر ہیں اور ان کا ثانی پیدا نہیں ہوسکتا ۔

وہ شکسپیئر کے ڈراموں کے چھوٹے سے چھوٹے کردار سے واقف تھا اور اسے شیکسپئر سے اتنی گہری وابستگی تھی کہ اس کے ہر ہر جملے سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس نے 1838 میں انگریزی پر عبور حاصل کرنے کے لیے زبان کا دوبارہ سے مطالعہ شروع کیا۔

شیکسپیئر سے اس کے عشق کا آغاز ہوا تو اس کی عمر بہ مشکل دس بارہ برس تھی، اس عشق کو ہَوا ٹرائر کے ایک دانشور اور دولت مند بزرگ لڈوگ وان ویسٹ فالن نے دی جس کے مارکس کے گھرانے سے خاندانی تعلقات تھے اور جو بعد میں اس کا خسر ہوا۔

جینی کے باپ کو کارل کی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں سے گہری دلچسپی تھی، وہ اکثر نو عمر کارل کو اپنے ساتھ سیر کے لیے لے کر جاتا۔ دونوں سبزہ نورستہ کی خوشبو سے بوجھل مرغزاروں میں گھنٹوں چہل قدمی کرتے اور اس دوران لڈوگ، ننھے کارل سے شکسپیئر کے مکالموں کی ندرت اور انسانی نفسیات پر شیکسپیر کی گرفت کے بارے میں باتیں کرتا چلا جاتا۔

لندن پہنچ کر شیکسپیئر کے بارے میں کارل کی وارفتگی میں اضافہ ہوتا گیا۔ جینی تو پہلے ہی اس عظیم ڈرامہ نگار کے سحر میں گرفتار تھی۔ بچیاں ذرا بڑی ہوئیں تو کارل اور جینی نے انھیں بھی اس شوق میں مبتلا کیا۔

اس کے گھر آنے والے مارکس گھرانے کے شوق سے بہ خوبی واقف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے گھر میں شیکسپیئر کے ڈراموں کی خواندگی کے لیے ایک انجمن کی نشستیں ہوتی تھیں جن میں یورپی تارکین وطن کے علاوہ انگریز بھی شرکت کرتے۔ اس کی جیب میں جب چار پیسے آتے وہ گھر والوں کے ساتھ تھیٹر کا رخ کرتا اور اس عہد کے بڑے اداکاروں اور اداکاراؤں کی فنی صلاحیتوں سے لطف اندوز ہوتا۔

ناولوں میں گم رہنا اس کا ایک ختم نہ ہونے والا شوق تھا۔ فیلڈنگ کا ’’ ٹام جونز‘‘ سر والٹر اسکاٹ، الیگزنڈر ڈوما، بالزاک غرض کسی بھی بڑے اہم یورپی ادیب کی کتاب ا س کے مطالعے کے دائرے سے باہر نہیں تھی۔ زبانیں سیکھنے کا شوق بھی اسے ادب کے حوالے سے تھا۔

اس نے اپنا سارا تحریری کام جرمن، فرانسیسی اور انگریزی میں کیا لیکن مطالعے کے شوق نے اسے تمام یورپی زبانوں میں رواں کردیا تھا۔ پچاس برس کی عمر میں اسے روسی سیکھنے کا شوق ہوا اور صرف چھ مہینے میں اس نے روسی پر اتنی دسترس حاصل کرلی کہ وہ پشکن، گوگول اور دوسرے کلاسیکی روسی ادیبوں کو براہ راست پڑھنے لگا۔

مریان کو مین نے اپنی یادداشتوں میں مارکس کے خاندان کے حوالے سے کئی باتیں لکھی ہیں۔ یہ مارکس کی زندگی کے آخری سال تھے وہ بیمار تھا اور جنی کی صحت بھی تباہ ہوچکی تھی۔ اس کے باوجود پورے خاندان کا ادبی ذوق اپنے عروج پر تھا۔ مریان نے لکھا ہے کہ یہ گھرانا شارلٹ اور ایملی برونٹی کی توصیف کرتے نہیں تھکتا اور ان دونوں بہنوں کو جارج ایلیٹ کی ادبی حیثیت پر فوقیت دیتا ہے۔

ہائنے کی شاعر اسے از بر تھی ،گوئٹے کی ’’ فاؤسٹ‘‘ اور ’’دیوان مشرق ومغرب‘‘ کے حوالے سے اس کے خطوط ملتے ہیں، کہیں وہ ہائنے کی اس سطر کو دہراتا ہے کہ ’’ میں نے اژدھے کاشت کیے تھے لیکن پسوؤں کی فصل کاٹی۔‘‘ کسی خط میں وہ ایک ہی سانس میں ہندوستان کے وشوامتر، ولیم تھیکر ے اور چاسر کی ’’کینٹر بری ٹیلز ‘‘ کا ذکر کرتا چلا جاتا ہے۔ پال لافارج کو بہ یک وقت فرانسیسی اور انگریزی میں خط لکھتا ہے تو ہائنے اور وکٹر ہوگو کے اشعار اور جملے اس خط میں دریا کی موجوں کی طرح ملتے ہیں۔

مارکس نے عمر کے آخری حصے میں بھی ادب کے مطالعے کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، تراجم کے ذریعے وہ چینی ، فارسی اور ہندوستانی ادب سے جڑا رہا ۔ وہ ہمیں مغل عہد میں ہندوستان کا سفر کرنے والے برنیر کا سفر نامہ پڑھتے ہوئے نظر آتا ہے کبھی وہ حریری کا ذکر کرتا ہے ۔

اس کے ساتھ ہی اسے ہندو اصنامیات سے بھی دلچسپی ہے اور وہ ہنو مان جی کے بارے میں کھوج لگاتا ہے۔ ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے تسلط اور پھر1857 کی جنگ آزادی کے بارے میں اس کا گہرا مطالعہ اور ان حالات و واقعات کا تجزیہ ہمیں ٹریبون کے اس دور کے کالموں میں نظر آتا ہے جو اس نے اور اینگلز نے لکھے اور کتابی صورت میں بھی موجود ہیں۔

امریکی معاصر ادب کے بارے میں اس کی جانکاری حیران کرتی ہے عین اس وقت جب امریکا میں غلامی کا مسئلہ اپنے عروج پر تھا اور غلامی مخالف ناول ’’انکل ٹامس کیبن ‘‘ چھپ چکا تھا، وہ اس مشہور زمانہ ناول کے نام کو امریکا کی جنوبی ریاستوں میں مظالم سہتے ہوئے غلاموں کے حوالے سے کئی بار استعمال کرتا ہے اور اس کی مصنفہ مس ہیریٹ بیچر اسٹوو کا حوالہ بھی دیتا ہے۔

کلاسیکی ادب سے اس کی شیفتگی کا ہا آغاز اسکائی لس کے ڈرامے ’’ پابہ زنجیر پرومی تھیس ‘‘ اورلکریشش کی شاعری سے ہوا تھا، اس نے اعلیٰ ادب سے اپنے عشق کو کبھی بھی اقتصادیات اور معاشیات پر اعلیٰ فلسفیانہ تحریریں لکھتے ہوئے قربان نہیں کیا۔ اس کا خیال تھا کہ فلسفے کی بنیادوں کی کلاسیکی ادب سے آبیاری کی جائے تو وہ فلسفہ انسانوں کو زیادہ بلندیوں پرلے جانے کا سبب بنتا ہے۔

ادب عالیہ سے کارل کا رشتہ عمر بھر قائم رہا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنی جان لیوا بیماری اور جینی سے دائمی جدائی کے دنوں میں اس کے ارد گرد فلسفے اور معاشیات کی کتابیں نہیں فرانسیسی ادب کے شاہکار تھے ۔

اس کی حالت قدرے سنبھلتی تو وہ کسی فرانسیسی ناول میں کھو جاتا، یہ ناول شاید اسے ان دنوں میں لے جاتے ہوں جب اس نے فرانس اور جرمنی کی سرحد پر سانس لیتے ہوئے شہر ٹرائر میں خواب دیکھے تھے، جینی سے عشق کیا اور بون میں دریا کے کنارے وہ نظمیں لکھی تھیں جنھیںاس کی موت کے ستر پچھتر برس بعد اس وقت اہمیت دی گئی جب اس کے اور اینگلز کے کام کا متعدد جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم مجموعہ سامنے آیا۔

وہ 17 مارچ 1883 کو ہائی گیٹ کے قبرستان میں دفن ہوا اور 73 برس تک اس کی قبر پر خاک اڑتی رہی۔ 1956 میں اس کی قبر پر سنگ مرمر کا ایک بہت بڑا ٹکڑا نصب کیا گیا جس کی اوپری سطح پر فولاد میں ڈھلا ہوا مارکس کا سر رکھا ہے۔ 1988 میں اس کے قدموں میں پھول رکھتے ہوئے مجھے اٹھارویں اور انیسویں صدی کے ان شاعروں کی نظمیں یاد آئیں جو مظلوموں، مزدوروں کی اور ایک منصفانہ نظام کی باتیں کرتے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔