مزید دو ملک ہماری بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں، وزیر پورٹس اینڈ شپنگ

بزنس رپورٹر  ہفتہ 24 جون 2023
تنقید کرنے والے سابق وزیر خزانہ اور ایک رٹائرڈ سرکاری افسر لاعلمی کا مظاہرہ کر رہے، فیصل سبزواری۔ (فوٹو: فائل)

تنقید کرنے والے سابق وزیر خزانہ اور ایک رٹائرڈ سرکاری افسر لاعلمی کا مظاہرہ کر رہے، فیصل سبزواری۔ (فوٹو: فائل)

کراچی: وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ دو اور ملک بھی پاکستان کی بندرگاہوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ ابوظہبی پورٹ گروپ کے ساتھ کراچی پورٹ پر نجی ٹرمینل کا معاہدہ مکمل شفاف اور ملک کے معاشی حالات میں ایک اہم پیش رفت ہے، تنقید کرنے والے سابق وزیر خزانہ اور ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر لاعلمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، دو اور ملک بھی پاکستان کی بندرگاہوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں، ابوظہبی گروپ نے کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم میں پورٹ کی سہولتوں، انفرااسٹرکچر اور صنعتی زون میں 2ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، یہ تجویز وزیر اعظم کے زیر غور ہے۔

کے پی ٹی ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے معاہدے سے کے پی ٹی کی پی آئی سی ٹی سے آمدنی میں پانچ ملین ڈالر کا اضافہ ہوگا، کراچی پورٹ کے ٹرمینل پہلے بھی نجی آپریٹر چلارہے ہیں، پورٹ قاسم پر بھی نجی ٹرمینلز قائم ہیں، کنسیشن ایگریمنٹ کی مدت حکومت کا اختیار ہے، پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی غیرملکی آپریٹر کو ٹرمینل چلانے اور سرمایہ کاری کے لیے معاہدہ کیا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی پورٹ کے دو ٹرمینلز کا آپریشن ابوظہبی کے حوالے

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ پورٹ کو ایک ملین ڈالر سالانہ قیمت پر بیچ دیا گیا، اگر وہ کراچی پورٹ کی ویب سائٹ بھی دیکھ لیتے یا گوگل کرنے کی زحمت کرلیتے تو شاید یہ بات نہ کرتے، پورٹ قاسم پر دو کنٹینرز ٹرمینل دبئی پورٹ چلارہی ہے، پاکستان میں آج تک جتنے ٹرمینل بنے وہ نجی شعبہ نے ہی بنائے،کے پی ٹی ٹرمینل کا معاہدہ 40 ملین ڈالر سے شروع ہوکر 50 ملین ڈالر پر طے ہوا، اس معاہدے کے نتیجے میں کے پی ٹی کو 10ملین ڈالر ملیں گے اور پی آئی سی ٹی پر واجبات کی مد میں بھی پونے دو ارب روپے کی آمدن ہوگی۔

وزیر خزانہ کے صحافی کے ساتھ سلوک پر پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی صحافی کے ساتھ کسی کو اس طرح کا طرز عمل نہیں ہونا چاہیے، افسوس کہ ڈار صاحب سے ایسا سرزد ہوا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔