غیر ملکی کوچز کا مستقبل، فیصلہ کرکٹ کمیٹی کرے گی

سلیم خالق  منگل 1 اگست 2023
کمیٹی کی سفارشات پر عمل کریں گے، چیف سلیکٹر کے حوالے سے کچھ لوگوں سے بات کی ہے، چیئرمین بورڈ مینجمنٹ کمیٹی۔ فوٹو: فائل

کمیٹی کی سفارشات پر عمل کریں گے، چیف سلیکٹر کے حوالے سے کچھ لوگوں سے بات کی ہے، چیئرمین بورڈ مینجمنٹ کمیٹی۔ فوٹو: فائل

چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف نے کہا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے غیرملکی کوچز کے مستقبل کا فیصلہ کرکٹ کمیٹی کرے گی۔

پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کا سربراہ بننے کے بعد ذکا اشرف نے پہلا انٹرویو پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کو ہی دیا، اس دوران ٹیم ڈائریکٹر مکی آرتھر اور ہیڈ کوچ گرانٹ بریڈ برن سمیت کوچنگ اسٹاف کو تبدیل کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ہم نے فی الحال اس بارے میں نہیں سوچا، مصباح الحق کی زیرسربراہی ایک کمیٹی بنا دی ہے جو کرکٹ کے تمام معاملات دیکھے گی، وہ دیگرسابق کرکٹرز سے مشاورت کے بعد سفارشات مرتب کرلیں تو پھر ان کی میرے ساتھ بات ہوگی،ہم سب کو مل کر پاکستان کرکٹ کی بہتری کیلیے فیصلے کرنے ہیں، ہماری خواہش ہوگی کہ ٹیم ٹاپ پر آئے اور ملک کا نام روشن ہو۔

انھوں نے کہا کہ مجھے کسی کوچ کے ملکی یا غیر ملکی سے ہونے سے فرق نہیں پڑتا جو بہتر پرفارم کرے اسی کو ہونا چاہیے، ہمیں اپنی ٹیم کو بہتر بنانا ہے، ایسے لوگ ہونے چاہیئں جو اسے عروج کی جانب لے کر جائیں،ابھی تک کوچز اچھا کام کررہے ہیں، کمیٹی کی سفارشات آئیں گی توکوئی فیصلہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی ٹیم کا کوچ بننے کی خبروں پر مصباح الحق نے خاموشی توڑ دی

ذکا اشرف نے کہا کہ ہم نے چیف سلیکٹر کے بارے میں بھی سوچا اور کچھ لوگوں سے بات بھی کی ہے، کرکٹ کمیٹی کی رائے آجائے تو مل بیٹھ کر اس معاملے میں کسی فیصلے تک پہنچیں گے، فی الحال سلیکشن میں غیرملکی کوچز کے کردار کی پالیسی بھی چلتی رہے گی، کرکٹ کمیٹی سفارشات تیار کرلے تو اس بارے میں بھی حتمی بات ہوگی۔

مصباح الحق کو لامحدود اختیارات دینے کے سوال پر ذکا اشرف نے کہا کہ میں ایسا نہیں سمجھتا، وہ پاکستان کرکٹ کا ایک بڑا نام ہیں،انھوں نے ٹیم کو فتوحات دلائیں، بطور بیٹر ان کی کارکردگی بہت اچھی رہی،وہ تکنیکی معاملات کو سمجھنے والے ذہین انسان ہیں، ان کے کرکٹرز کے ساتھ خوشگوار روابط ہیں،سب ان کی عزت کرتے ہیں،میں اسی لیے چاہتا ہوں کہ کرکٹ کے معاملات میں ان کا کردار ہو،میں تو یہ بھی چاہتا ہوں کہ آئی سی سی کی کرکٹنگ امور کی میٹنگز میں بھی مصباح پاکستان کی نمائندگی کریں،مجھے کرکٹ کمیٹی کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے،چند روز قبل بھی مصباح رات ساڑھے 11بجے تک کام کررہے تھے، انھوں نے کئی بڑے کرکٹرز کو مشاورت کیلیے بلایا ہوا تھا،جو نہیں آسکے ان سے ویڈیو لنک پر بات ہورہی تھی، مصباح اپنا کام بڑی سنجیدگی سے کررہے ہیں اور کوئی تنخواہ بھی نہیں لیں گے۔

میں نے ان سے بہت کہا کہ ہم آپ کو جو کہیں وہ معاوضہ دے سکتے ہیں مگرانھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ نے مجھے بہت کچھ دیا اگر میں اس کے کام آسکوں تو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہوگی،میں ان کے جذبے کو سراہتا ہوں، امید ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ کیلیے اچھا پلان بناکر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیاکپ 2023 کے شیڈول کا اعلان ہوگیا

بھارت سمیت سب سے خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں

ذکا اشرف نے کہا کہ ہم بھارت سمیت تمام کرکٹنگ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا چاہتے ہیں،سری نواسن سے متعدد ملاقاتوں کے بعد برف پگھلی اور میرے ہی دور میں پاکستان ٹیم آخری بار پڑوسی ملک میں کھیلنے کیلیے گئی تھی،میں نے ان سے فول پروف سیکیورٹی کا وعدہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم بھی پاکستان میں کھیلنے کیلیے آئے گی، اس وقت حکومت نے مجھے عہدے سے ہٹا دیا تو نئی مینجمنٹ نے اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کیے۔

گزشتہ دنوں ڈربن میں ہونے والے آئی سی سی اجلاس میں بی سی سی آئی کے سیکریٹری جے شاہ سے خوشگوار ماحول میں اچھی بات چیت ہوئی، میں نے انھیں ایشیا کپ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی تو انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ آئیں گے۔

جواب میں انھوں نے مجھے بھی ورلڈکپ کیلیے بھارت مدعو کیا ، میں نے دعوت قبول کرلی، میرا خیال تھا کہ آئندہ ملاقاتوں میں مزید بات چیت سے کرکٹ معاملات میں ہم قریب آئیں گے، سب کچھ طے ہوگیا، رات کو انھوں نے اتفاق کرلیا مگر پاکستانی میڈیا پر یہ خبر چلی تو شاید ان کے پیچھے جو لوگ موجود ہیں انھوں نے جے شاہ کو منع کردیا کہ یہ بات تو نہیں ہوگی۔

اس پر انھوں نے بیان دے دیا کہ ہمارا پاکستان جانے کا کوئی ارادہ نہیں،ہم نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے ہم آہستہ آہستہ بہتری کی جانب بڑھنے کی کوشش جاری رکھیں گے،یہ کرکٹ کی دنیا کیلیے بھی اچھا ہے کہ مل کر آگے بڑھیں، کرکٹ تو پیار اور دوستی کا پیغام دیتی ہے،یہ ملکوں اور عوام کو قریب لاتی ہے،ہمیں مل کر آگے چلنا چاہیے، یہ عمل سست ہوگا مگر امید ہے کہ کسی دن کامیاب ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیاکپ؛ پاک بھارت ٹیمیں کب اور کہاں مدمقابل آئیں گی؟

مایہ ناز بیٹر اور کپتان بابر اعظم بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں

بابر اعظم کے حوالے سے ذکا اشرف نے کہا کہ وہ عالمی کرکٹ کا ایک بڑا نام اور مایہ ناز بیٹر و کپتان ہیں،بابر بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں، میں ٹیم اور بابر کی مزید کامیابیوں کیلیے دعاگو ہوں، سری لنکا میں فتوحات کی بدولت پاکستان آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں سرفہرست ہو گیا، یہ کامیابی ٹیم اسپرٹ اور کپتانی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی،ہم دیگر فارمیٹس میں بھی ایسی ہی فتوحات کیلیے پْرامید ہیں۔

بورڈ کے الگ ترجیحات رکھنے والے آفیشلزکو سائیڈ پر کردیں گے

ذکا اشرف نے کہا کہ سابق دور میں بطور چیئرمین پی سی بی اور اب مینجمنٹ کمیٹی چیف کے طور پر ذمہ داریوں میں زیادہ فرق نہیں،ہم معاملات میں بہتری لانے کی کوشش کررہے ہیں،بورڈ میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ جو افراد میرٹ پر کام کررہے اور پرفارمنس بھی ٹھیک ہے،ہم ان کو برقرار رکھیں گے، جن کی کچھ اور ترجیحات ہیں ان کو معذرت کے ساتھ ایک سائیڈ پر کردیں گے، ان سے بہتر فرد لائیں گے جو بورڈ میں بہتری اور پاکستان ٹیم کو عروج پر لانے کیلیے کام کریں۔

ایشیا کپ کا ایک میچ ملتان میں رکھنے پر اے سی سی کو قائل کیا

ذکا اشرف نے کہا کہ میں ذاتی طور پر ایشیا کپ کیلیے ہائبرڈ ماڈل کے حق میں نہیں تھا، پی سی بی میں آیا تو فیصلہ ہوچکا تھا، ہم اس پر عمل کے پابند تھے، کسی بات چیت کیلیے وقت بھی نہیں تھا، آگے چل کر بہتر فیصلے کرنے کی کوشش کریں گے،انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایونٹ کے چاروں میچز لاہور میں رکھے گئے تھے، میں نے ایشین کرکٹ کونسل کو قائل کیا کہ کم ازکم ایک مقابلہ تو ملتان میں ہونا چاہیے تاکہ جنوبی پنجاب کے شائقین بھی اسٹیڈیم میں آکر میچ دے سکیں۔

مزید پڑھیں: ایشیاکپ، پاکستان میں زیادہ میچز کیلیے آخری کوشش شروع

کرکٹرز ہیں تو بورڈ ہے انھیں اچھا معاوضہ ضرور ملنا چاہیے

سینٹرل کنٹریکٹ کے حوالے سے قومی کھلاڑیوں کی شکایات کے سوال پر ذکا اشرف نے کہا کہ میری ابھی کرکٹرز سے بات چیت نہیں ہوئی کیونکہ ٹیم سری لنکا میں تھی، میں بھی چاہتا ہوں کہ پلیئرز کو اچھا معاوضہ ملے تاکہ وہ ملک کیلیے دل لگا کر کھیلیں،کرکٹرز ہیں تو بورڈ ہے،جس طرح سے وہ پرفارم کررہے اور جوش سے آگے بڑھ رہے ہیں تو میں بھی ان کیلیے بہت اچھا سوچ رہا ہوں۔ متعلقہ بورڈ حکام اور کرکٹ کمیٹی سے مشاورت کے بعد بہتر طریقہ کار وضع کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ٹیم کے حوصلے مزید بلند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ابھی ایشیا کپ اور ورلڈکپ قریب ہیں، اس کے بعد ہم غیر ملکی لیگز میں کرکٹرز کی شرکت کے حوالے سے بھی کوئی واضح پالیسی بنائیں گے تاکہ ہرسال درخواستیں دینے کے بعد ایسے مسائل نہ ہوں جو نظر آتے ہیں، ایک پالیسی بن جائے تو ہر کھلاڑی کو اندازہ ہوگا کہ وہ کیا فیصلہ کرسکتا ہے، اس کے مطابق درخواست دے تو فوری این اوسی جاری ہوجائے گا، قومی ٹیموں کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرز کیلیے بھی ایک واضح پالیسی ہوگی،ہم ان معاملات میں پلیئرز سے بھی مشاورت کریں گے۔

ویمنز لیگ کا فیصلہ فائدہ یا نقصان کو دیکھنے کے بعد کریں گے

ذکا اشرف نے کہا کہ سابقہ دور کے منصوبے ویمنز لیگ پر ابھی میری بورڈ آفیشلز سے مختصر بات ہوئی ہے،کھیل کے فروغ کیلیے یہ اچھا ایونٹ ہے جو ہونا چاہیے مگر ہم مثبت اور منفی دونوں پہلو دیکھیں گے کہ ہمیں فائدہ یا نقصان ہوگا۔ اسی طرح ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈپارٹمنٹس کی بحالی کیلیے حکومت کا جو فیصلہ تھا اس پر عمل درآمد ہوگا،شائقین ایک بار پھر ٹیموں کو ایکشن میں دیکھیں گے۔

پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب پر بھاری اخراجات کے حق میں نہیں ہوں

پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب پر بھاری اخراجات کے سوال پر ذکا اشرف نے کہا کہ میں اتنے بھاری اخراجات کے حق میں نہیں ہوں، پاکستان کرکٹ کی بہتری کیلیے کفایت شعاری سے کام لیتے ہوئے مشاورت سے فیصلے کریں گے۔

فرنچائزمالکان سے جلد ملاقات ہوگی، خوشگوار تعلقات رکھیں گے

پی ایس ایل فرنچائز مالکان سے تاحال ملاقات نہ کرنے کے بارے میں سوال پر ذکا اشرف نے کہا کہ فی الحال پی سی بی کے متعدد معاملات ہیں ان میں ہی مصروف ہوں،میں کسی کو الزام نہیں دینا چاہتا مگر ابھی بے تحاشا کام کرنے والا ہے،ایشیا کپ، ورلڈکپ ہونا ہیں۔ بورڈ کے معاملات کو ٹھیک کرنا ہے،فارغ ہوکر فرنچائز مالکان سے بھی ملاقات کروں گا، ہم ان سے اچھے تعلقات رکھیں گے۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پی ایس ایل میں 2ٹیمیں بڑھانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے دیکھنا ہوگا کہ موجودہ فرنچائزز کیا سوچتی ہیں،ان سے مشاورت کریں گے،ہمیں ساتھ مل کر چلنا اور لیگ کو کامیاب کرنا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔