ہم اپنا نامۂ اعمال خود لکھتے ہیں

رئیس فاطمہ  جمعـء 4 اگست 2023
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

عجب حال ہے قصیدہ اور ہجو لکھنے کا موسم ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا جب فیض نے کہا تھا:

زباں پہ مہر لگی ہے توکیا کہ رکھ دی ہے

ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے

بھلا سچ بول کر اور سچ لکھ کر کون پابند سلاسل ہونا چاہے گا اور پھر جو سچ بولے گا اس کی زبان کاٹ دی جائے گی اور جو سچ لکھے گا، اس کا قلم توڑ دیا جائے گا۔ البتہ وہ قلم کار مزے میں ہیں جو ہجو اور قصیدہ لکھنے میں ماہر ہیں۔

پرانے زمانے میں قصیدہ لکھنے پر بادشاہ انعام و اکرام سے نوازتے تھے، آج بھی زمانہ بدلا نہیں ہے۔ جن کی جنبش ابرو سے سب کچھ تہہ و بالا ہوجاتا ہے وہ ہجو اور قصیدوں کے بدلے انھیں جی بھرکے نوازتے ہیں۔

طاقت، دولت سب کچھ۔ لیکن جن کی طبیعت ہجو اور قصیدہ لکھنے پر مائل نہیں ہوتی وہ کیا کریں؟ اپنے ضمیرکی آواز کے برخلاف لکھنا ممکن نہ ہو توکیا لکھیں؟ ہر انسان اپنا اعمال نامہ خود لکھتا ہے، روز حشر سب کا حساب ہوگا، کتنا جھوٹ بولا، ایک چھڑی کی جنبش سے لوگوں کی زندگیاں عذاب بنا دیں۔ جھوٹ بول کر اور ہجو لکھ کر کس بدنصیب کو نقصان پہنچایا؟ سزا اور جزا اس کے ہاتھ میں ہے جو اس کائنات کا مالک ہے۔

وہی روز حشر سب کا حساب کرے گا، لیکن کچھ لوگ روز قیامت کو بھول گئے ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے، ڈرو اس وقت سے جب تمہارا اعمال نامہ تمہیں پڑھ کر سنایا جائے اور تمہارے لیے سزا تجویزکی جائے۔

چلیے آج بیربل اور ملا دوپیازہ کی باتیں کرتے ہیں کہ یہ بھی مغلیہ دورکی دربار اکبری کی مشہور شخصیات ہیں، دونوں بذلہ سنج اور شوخ طبیعت کے مالک تھے، ہر بات کا جواب ان کے پاس تھا، لیکن ایک بات کہوں گی کہ بیربل بہت ذہین آدمی تھا اور اکبر اس سے اکثر مشورہ بھی کیا کرتا تھا، لیکن کنور انیل کمار نے بیربل کو ایک ایسا انوکھا اور حد سے زیادہ قابل ظاہرکیا ہے جو اکبر کو صائب مشورے دیتا تھا اور اکبر کی حکومت کا سارا دار و مدار صرف بیربل کی ذہانت پر تھا، جیسے اکبر ایک معمولی ذہانت کا انسان تھا، اگر بیربل نہ ہوتا تو اکبر صفر تھا۔

ایسے ایسے احمقانہ قصے بیربل سے جوڑ دیے گئے ہیں کہ پڑھ کر ہنسی آتی ہے، لکھنے والوں نے باقاعدہ قصے گھڑے ہیں۔

شیکسپیئر کے ایک کھیل میں ایک یہودی کا قصہ ہے جس میں ایک ضرورت مند یہودی سے قرضہ لیتا ہے اور یہ شرط رکھتا ہے کہ اگر وہ وقت پر روپیہ ادا نہ کر سکا تو یہودی اس قرض دار کے جسم سے ایک پاؤنڈ گوشت کاٹ لے گا۔

جب مقررہ وقت گزر جاتا ہے تو یہودی اس آدمی کے گھر پہنچتا ہے اور رقم کا مطالبہ کرتا ہے، بصورت دیگر وہ اپنے جسم کا ایک پاؤنڈ گوشت کاٹنے کی اجازت دے۔

قرض دار بادشاہ کے دربار میں اپنا مقدمہ لے کر جاتا ہے، وہاں بادشاہ کی بیٹی اولیویا مقدمہ کی روداد سن کر یہودی کو اجازت دیتی ہے کہ وہ قرض دار کے جسم سے ایک پاؤنڈ گوشت کاٹ لے لیکن جوں ہی یہودی چھری لے کر قرض دار کی طرف بڑھتا ہے تو شہزادی اسے روکتی ہے اور کہتی ہے کہ ’’صرف گوشت کاٹنا، خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر، کیونکہ تمہارے معاہدے میں صرف ایک پاؤنڈ گوشت کا ذکر ہے۔

خون کا نہیں۔‘‘ اس قصے کو رائٹرکنور انیل کمار نے بیربل کے کھاتے میں ڈال دیا، اور پرنسس اولیویا کی جگہ بیربل کو دے دی، اسی طرح کافی پہلے دور درشن ٹیلی وژن سے ایک کھیل شروع ہوا تھا جس کا نام ’’اکبر اور بیربل‘‘ تھا، اس کھیل کے ایپی سوڈ آج بھی یوٹیوب پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

بیربل بلاشبہ بہت ذہین آدمی تھا، راجہ کا خطاب اسے اکبر نے دیا تھا، بعض مصنفین یہ بھول جاتے ہیں کہ اکبر نے محض اپنی پسند سے علما و فضلا کا انتخاب کیا تھا، جن میں سے ’’ نو رتن‘‘ تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ ملا دوپیازہ بھی بلا کے بذلہ سنج تھے اسی لیے ان کی رسائی بیگمات کے محل تک تھی۔ بیربل اور ملا دوپیازہ کی کھٹ پٹ چلتی رہتی تھی جس سے اکبر، بیگمات اور درباری بہت محظوظ ہوتے تھے۔

ایک دن اکبر اپنے مصاحبین اور وزیروں کے ہمراہ باغ کی سیر کو جا رہے تھے، چلتے چلتے بادشاہ کی نظر ایک درخت پر پڑی وہ ٹھٹھک کرکھڑے ہوگئے اور ملا دوپیازہ سے پوچھا کہ یہ درخت ٹیڑھا کیوں ہے جب کہ باقی درخت بالکل سیدھے اور شان دار تھے، ملا دوپیازہ نے ترنت جواب دیا، اور کہا ’’ حضور یہ درخت باغ کا داماد ہے۔‘‘

ایک دن بیربل کہیں جا رہے تھے کہ اس کی نظر ملا دوپیازہ پر پڑی جو زمین پر کچھ ڈھونڈ رہے تھے۔ بیربل نے رک کر پوچھا کہ ’’ملا جی! کیا ڈھونڈ رہے ہو؟‘‘ ملا دوپیازہ کو شرارت سوجھی اور بولے ’’ اپنے باپ کو ڈھونڈ رہا ہوں‘‘ بیربل نے کہا ’’ اگر میں تمہارے باپ کو ڈھونڈ دوں تو تم مجھے کیا دو گے؟‘‘ ملا دوپیازہ بولے ’’ اگر تم نے میرے باپ کو ڈھونڈ دیا تو آج سے میرا باپ تمہارا باپ ہوگا۔‘‘

ایک دن اکبر کے دربار میں خواجہ اکبر سے باتیں کر رہا تھا، اس نے اکبر سے کہا کہ ’’ حضور! آپ بیربل کو بہت پسند کرتے ہیں جب کہ وہ ایسا نہیں ہے، اگر بیربل میرے تین سوالوں کے جواب دے دے تو میں بھی اس کی ذہانت کا قائل ہو جاؤں گا‘‘ اکبر نے بیربل کو بلایا اور خواجہ کے سوالوں کا ذکرکیا۔

بیربل نے خواجہ سے کہا کہ ’’ وہ اپنے سوال بتائے۔‘‘ خواجہ نے کہا کہ ’’ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ آسمان پر کتنے تارے ہیں، دوسرا یہ کہ زمین کا مرکز کہاں ہے، اور تیسرا یہ کہ مردوں اور عورتوں کی اولاد زمین پر الگ الگ کتنی ہے۔‘‘ بیربل نے ان سوالات کے جواب کے لیے چھ گھنٹے کا وقت مانگا اور دربار سے چلا گیا اور اپنے نوکر کو ایک بھیڑ لانے کا حکم دیا جس کے جسم پر بہت سے بال ہوں۔

بیربل اس بالوں والی بھیڑ کے ساتھ دربار میں گیا اور کہا کہ وہ خواجہ کے تینوں سوالوں کے جواب لایا ہے، اس نے بادشاہ سے کہا کہ ’’خواجہ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اس بھیڑ کے جسم پر جتنے بال ہیں اتنے ہی تارے آسمان پر ہیں، یقین نہ آئے تو خود گن کر دیکھ لے۔‘‘ پھر اس نے زمین پر آڑی ترچھی چند لکیریں کھینچیں اور درمیان میں ایک لوہے کا راڈ کھڑا کرکے کہا کہ ’’ یہ زمین کا مرکز ہے یقین نہ آئے تو خواجہ خود ناپ لے‘‘ اور تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ’’ دنیا میں مردوں اور عورتوں کے علاوہ ایک تیسری جنس بھی پائی جاتی ہے جو نہ مرد ہیں نہ عورت جنھیں خواجہ کہا جاتا ہے اگر ان کو بادشاہ سلامت قتل کروا دیں تو میں زمین پر مردوں اور عورتوں کی الگ الگ تعداد بتا سکتا ہوں۔ ‘‘ خواجہ یہ سن کر سمجھ گیا کہ بیربل کو ہرانا آسان نہیں، اس لیے اس نے معذرت طلب کی اور دربار سے چلا گیا۔

کنور انیل کمار نے اپنی خاصی ضخیم کتاب ’’ اکبر اور بیربل کی داستانیں‘‘ میں تاریخ کے مشہور واقعات کو بیربل کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے کے بعض واقعات کو بھی بیربل سے منسوب کردیا ہے اور بعض حکایتیں بہت بچکانہ ہیں جو سراسر من گھڑت ہیں، اگر اس کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ اکبر ایک بوڑم، ناتجربہ کار اور بے وقوف آدمی تھا۔ طاقت، علم اور دانائی صرف اور صرف بیربل کے وجود میں تھی۔

The Great Mughal  کو انھوں نے ایک معمولی آدمی بنا کر پیش کیا ہے، یہی حال دور درشن کی اس سیریل کا بھی ہے جس کا نام ’’ اکبر اور  بیربل‘‘ ہے اس میں بھی علم، تدبر اور دانائی کا مرکز صرف بیربل کی ذات ہے اور اکبر محض نام کا بادشاہ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔