مالی سال 2023، 9 ماہ میں چینی کی قیمتوں میں 59 فیصد اضافہ ہوا

سلمان صدیقی  جمعـء 4 اگست 2023
مارچ تا جولائی 23 تک چینی فی کلو قیمت 52 روپے اضافے کیساتھ 140 روپے تک پہنچ گئی—فائل فوٹو

مارچ تا جولائی 23 تک چینی فی کلو قیمت 52 روپے اضافے کیساتھ 140 روپے تک پہنچ گئی—فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی حکومت کے چینی کو برآمد کرنے کے فیصلے کے نتائج پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑے ہیں اور گزشتہ دس ماہ کے دوران چینی کی قیمتوں میں ہوشربا 59 فیصد یا فی کلو 52 روپے اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس وقت فی کلو چینی کی قیمت 140 روپے ہے۔

ٹاپ لائن ریسرچ کمپنی کے مطابق چینی کی قیمتوں میں اس قدر اضافے کی وجہ سے چینی بنانے والی کمپنیوں نے گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9ماہ کے دوران (مارچ تا جولائی 2023) 235 ارب روپے مالیت کی چینی فروخت کی جس میں 14 ارب روپے خالص منافع ظاہر کیا گیا۔

ریسرچ ادارے کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک یعنی جولائی میں افراط زر 38 فیصد تھی جو گزشتہ ساٹھ برسوں کے دوران سب سے زیادہ شرح رہی۔

موجودہ حکومت نے اس سال جنوری کے آغاز میں چینی کی برآمد کی اجازت دی اور جون کے اختتام تک مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ ٹن چینی برآمد کی گئی تاکہ ملک میں ڈالر کی قلت کو دور کرتے ہوئے توازن ادائیگی کو درست کیا جاسکے، تاہم مناسب نظام نہ ہونے کے باعث مقامی مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا ہوگئی جس کے بعد مقامی تاجروں کو چینی کو ایک بار پھر ملک میں درآمد کرنے کی اجازت دی گئی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری سرپرستی میں ذخیرہ اندوزی، کراچی میں آٹے اور چینی کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

ادارہ برائے شماریات کے مطابق مالی سال 2023 کے دوران تاجروں نے 6105 ٹن چینی درآمد کی جس پر 56 لاکھ ڈالر زرمبادلہ خرچ ہوا۔

ٹاپ لائن ریسرچ سے وابستہ سنی کمار کا کہنا تھا کہ کافی عرصے کے دوران چینی کی صنعت نے بہترین منافعوں کو ظاہر کیا ہے۔ چینی کی مجموعی فروخت کا اگر جائزہ لیا جائے تو گزشتہ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران 13 فیصد اضافے کے ساتھ دو لاکھ 16 ہزار ٹن چینی برآمد کی گئی۔

سنی کمار کا مزید کہنا تھا کہ چینی برآمد کی اجازت دینے سے مقامی قیمتوں پر اثر پڑا اور چینی کی قیمت جو اکتوبر میں 88 روپے فی کلو تھی وہ بڑھتے ہوئے جون کے اختتام تک 123 روپے فی کلو تک پہنچ گئی اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اس وقت چینی کی فی کلو قیمت 140 روپے ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔